سیاسی تکیہ کلام

1,388

سیاست اس فعل یا عمل کو کہتے ہیں کہ جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح کے قریب اور فساد سے دور ہو جائیں۔امور مملکت کا نظم و نسق برقرار رکھنے والوں کو سیاستدان کہتے ہیں۔سیاست کو بہت وسیع معنی دیےگئے ہیں۔ جس کا شعبہ یا پیشہ سیاست ہو وہ شخص بہت ہی با اخلاق اور نہایت دانش ور انسان ہوتا ہے کہ اس نے لوگوں کو سیدھے رستے پہ چلانے کے ساتھ ساتھ ملک کا نظم و نسق بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ یوں کہہ لیں کہ وہ ایک مثالی شخصیت یا رول ماڈل ہوتا ہے۔ اس کے بول چال اور رہن سہن کی نہ صرف مثال دی جاتی ہے بلکہ اس کی پیروی کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر ہماری سیاست ان سب معانی سے الگ تھلگ اور ذرا ہٹ کے ہے۔

ہم نے سیاست کو منافقت کے معنی دے دیے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے تو سیاست صرف منافقت کی حد تک محدود تھی اور سیاست دان اگر ایک دوسرے پر طعن و طنز کے نشتر چلاتے تھے تو وہ بذلہ سنجی ہوتی تھی، اس میں اخلاق کا پہلو ہمیشہ مد نظر رکھا جاتا تھا ۔ مگر آج کل اخلاقیات کے علاوہ باقی سب کچھ سیاسی بیانات سے ہی ملتا ہے۔ اب ہمیں بھونڈے قسم کے سٹیج ڈرامے دیکھنے کی ضرورت نہیں بس کوئی پریس کانفرنس سن لیں یا تھوڑی دیر سوشل میڈیا پہ گزار لیں۔ ہمارے گالی دینے اور سننے کی جبلت پوری ہو جاتی ہے۔

اب ہر پارٹی کا ایک تکیہ کلام ہے دوسری پارٹی کے لیڈر کے لئے۔ اب پارٹی رہنما اپنے اصلی نام سے کم اور دوسرے نام سے زیادہ جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ا ب تو سیاسی جماعتوں نے گالی گلوچ کا جیسے با قاعدہ ایک شعبہ قائم کر لیا ہے۔ جس کا کام ہی دوسری پارٹی کے اہم رہنماؤں کو گندے گندے القابات سے نوازنا ہے تاکہ وہ زبان نہ کھولے۔ لیکن اس کا اثر الٹا ہوتا ہے دوسری پارٹی کے ماہر برائےہرزہ سرائی نہایت عمدگی سے گالیوں اور بد زبانی کو دگنا کر کے واپس بھیجتے ہیں۔

اگر ہم ان تمام سیاست دانوں کی پریس کانفرنسیں اور سوشل میڈیا کے بیانات کو ایک کتابی شکل دیں تو ہماری کتاب بد اخلاقی کا نوبل انعام ضرور حاصل کرےگی . اس کتاب کو عورت مارچ والےاپنا نصاب بھی بنا سکتے ہیں اور اپنے کلچر میں اسے بڑے دھڑلے سے رائج کر سکتے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہو گی کہ پھر ان کے بیانات پر کوئی اعتراض بھی نہیں کر پائے گا کہ یہ تو سیاستدانوں کے بیانات ہیں!

پہلے پہل ادب آداب سکھانے کے لئے اخبارات اور ٹیلی ویژن وغیرہ جیسا میڈیا استعمال کیا جاتا تھا مگر اب اسے اخلاق خراب کرنے کے لئے تو استعمال کیا جا سکتا ہے آداب سیکھنے کے لئے ہرگز نہیں۔ ہم سے ہمارے بچے اگر پریس کانفرنس میں دیے گئے بیانات کی وضاحت پوچھتے ہیں تو ہم بغلیں جھانکنے لگ جاتے ہیں کہ اب اس کو کیا بتائیں؟سیاستدان تو یقینی طور پر یہ بیانات بند نہیں کریں گے لیکن ایک اور حل ہے اور وہ یہ کہ اگر ٹی وی چینل والے صرف ایک بات پر اتفاق کر لیں کہ جو بھی بیان بد تمیزی پر مبنی ہو گا اسے نشر نہیں کیا جائے گا تو ضرور سیاست دان بھی کچھ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے اور گالم گلوچ چھوڑ دیں گے۔

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.