شکریہ ہندوستان

1,286

ویلنٹائن ڈے ویسے تو محبتوں کا دن کہلاتا ہے لیکن سال 2019ء کا ویلنٹائن ڈے بھارت کے نفرت پر مبنی جذبات کی نذر ہو گیا۔ 14 فروری کو ہونے والے پلوامہ حملے میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت بلاشبہ ایک افسوسناک واقعہ تھا لیکن اس کی آڑ میں جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار نے جو مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی انہیں حکومت پاکستان کی دانشمندی اور موثر سفارتکاری نے خاک میں ملا دیا۔اب تو پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام بھی بھارتی انتخابات کے نزدیک ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کے عادی ہو چکے ہیں کیونکہ ہمیشہ سے بھارتی حکمران جماعت کے پاس عام انتخابات میں بیچنے کیلئے پاکستان مخالف نعرے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا اور بوکھلاہٹ میں ہندوستان کی طرف سے ایسے ہی اقدامات کئے جاتے ہیں۔اس بار مودی سرکار نے بھی کھوکھلے جنگی جنون میں اس چھوٹے پن کا عملی مظاہرہ کیا جس کی طرف وزیراعظم پاکستان نے اشارہ کیا تھا کہ “اکثر بڑی سیٹ پر چھوٹا شخص براجمان ہوتا ہے،” لیکن پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت کے بڑے پن اور ذمہ دارانہ ردعمل نے جنگ کے دہانے پر کھڑے خطے کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔

تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو قیام پاکستان سے اب تک بھارت ہمیشہ عالمی فورمز پر پاکستان کے خلاف بے بنیاد منفی پراپیگنڈہ کر کے ہمارا تشخص خراب کرنے کی بھر پور کوشش کرتا نظر آئے گا لیکن ہمیشہ کی طرح اب کی باربھی بھارتی بیانیے کو عالمی سطح پر رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان کے امن پسند بیانیے کی دنیا تعریف کرتی نظر آئی۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی موثر سفارتکاری کے ساتھ پاک فوج کے پیشہ وارانہ ردعمل نے دشمن کے جنگی بیانیےپر وہ کاری ضرب لگائی کہ ہندوستان کے ساتھ اس کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کو بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت کے بارے میں اپنی غلط فہمی کا ایسا احساس ہوا کہ بھارت کی بوکھلائی ہوئی فوج کو 26 فروری سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جانا پڑا۔

اس ساری جنگی کیفیت سے ایک بات تو بالکل واضح ہو گئی کہ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں سے کسی طاقت کے نشے میں دھت اور امن پسند ریاست پر جنگ مسلط کرنے والی ریاست کے خلاف کاروائی کی امید رکھنے والی ریاستیں احمقوں کی جنت میں رہتی ہیں۔ آپ بھارتی فضائیہ کی 26 فروری کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور بالا کوٹ میں نام نہاد کاروائی کے بعد اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کا ردعمل دیکھ لیں کسی نے بھی کھل کر بھارت کی مذمت نہیں کی۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر اداروں کو مداخلت کرنے کا احساس اس وقت ہوا جب پاک فضائیہ کے بہادر جوانوں نے بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود کی ایک با ر پھر خلاف ورزی کرنے پر مار گرایا اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر کے دنیا کے سامنے بھارت کا امن دشمن چہرہ بے نقاب کیا۔ شاید یہ عالمی ادارے اسی سوچ میں تھے کہ معاشی اور سیاسی بحران میں گھرا پاکستان ابھی اقوام متحدہ کے در پہ بھارتی جارحیت کے خلاف امن کیلئے مداخلت کی بھیک مانگنے کیلئے دوڑا ہوا آئے گا لیکن پاک فوج کے اب کی بارمختلف ردعمل کے وعدے کے مطابق منہ توڑ جواب نے عالمی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور بھارت سمیت اسکی پشت پناہی کرنے والی تمام طاقتوں پر یہ واضح کر دیا کہ اب ریاست پاکستان کسی بحری بیڑے کے انتظار میں نہیں بیٹھی ہوئی۔

اس کشیدگی کے ماحول میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے او آئی سی کا مشکوک کردار پاکستانی عوام کبھی نہیں بھلا پائیں گے۔ او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارت کی وزیر خارجہ شسما سوراج کو مدعو کرنا بھارتی لابی کے سامنے بے بس او آئی سی کے رکن ممالک کے دہرے معیار کا واضح ثبوت ہے۔بھارت نہ او آئی سی کا رکن ہے نہ مبصر لیکن پھر بھی اسے پاکستان جیسے بانی رکن ملک پر فوقیت دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔بھارتی وزیرخارجہ کو مدعو کرنے پر پاکستان کے تحفظات اور بھارتی وزیر خارجہ کو دیا جانے والا دعوت نامہ منسوخ کرنے یا اجلاس ملتوی کرنے جیسے مطالبات بالکل جائز تھے لیکن او آئی سی کا ردعمل کسی صورت پاکستان کیلئے حوصلہ افزاء نہیں تھا مگرپاکستان کے بائیکاٹ کے باوجود او آئی سی کا اعلامیہ تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کی بیانیے کی فتح تھی۔اس بائیکاٹ کے طویل المدتی نتائج کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اتنا ضرور واضح کر دیا ہےکہ پاکستان کی اہمیت کو نظرانداز کرکے اور بھارت کو فوقیت دے کر بنائے جانے والے کھوکھلے عالمی اسلامی فورمز پر پاکستان سے شرکت کی توقع نہ رکھی جائے اور پاکستان کے بغیر عالم اسلام کی کیا حیثیت ہو گی اس سے دنیا اور خود اسلامی ممالک بھی بخوبی واقف ہیں۔پاکستان کیلئے ملکی وقار اور سالمیت سب سے مقدم ہے، ہم واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہیں اور مسلم امہ کو درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے پیش پیش رہتے ہیں لیکن عالم اسلام کو بھی ہمارے مفادات کا خیال رکھنا ہو گا۔

بلاشبہ اس خطے کو جنگ کے خطرات سے نکالنے کا سہرا حکومت اور افواج پاکستان کے سر جاتا ہے ورنہ بھارت نے تو اس کا امن تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ پاکستان کے دیگر امن پسند اقدامات کی طرح بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کو دنیا سمیت خود بھارت میں بھی پسند کیا گیا اور بھارت کے پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈے کو عالمی سطح پر خفت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ خود اپنے گھر میں بھارتی حکومت کو عوامی ردعمل اور اپنی اپوزیشن کے چبھتے سوالات کا سامنا ہے جو کسی صورت حکومت اورعسکری قیادت کی طرف سے پیش کئے گئے بے بنیاد ثبوت ماننے پر بالکل بھی تیار نہیں اور مودی سرکار کو آئندہ انتخابات میں اپنی شکست یقینی نظر آ رہی ہے۔ پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں نے ایک بار پھر سے دنیا میں اپنا لوہا منوایا اور عالمی تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا کہ پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے جو دہشتگردی سمیت کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاک بھارت جوہری تصادم کی صورت میں صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرات لا حق ہو سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں لگ بھگ 60 ایسی ریاستیں ہیں جو معاشی اعتبار سے اتنی مستحکم ہیں کہ وہ پاکستان اور بھارت سے زیادہ مہلک ایٹمی ہتھیار رکھ سکتی ہیں لیکن وہ ریاستیں یہ وسائل اپنی عوام کا معیارزندگی بہتر کرنے پر خرچ کرنے جیسے نظریات کی حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا معیارزندگی ہم دونوں ممالک سے اتنا زیادہ بہتر ہے کہ ہمار ان سے موازنہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کو چاہیے کہ پاکستان کی طرح ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دے تاکہ خطے سے غربت کا خاتمہ کیا جا سکے اور یہی اصلی جنگ ہے جو کہ دونوں ممالک کو لڑنی ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ اب پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کافی کم ہو چکی ہے، پاکستانی عوام نے پاک فوج کے ساتھ کندھا ملا کر دشمن پر یہ واضح کر دیاہے کہ اس کا مقابلہ صرف پاک فوج سے نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے ہے۔

لیکن شکریہ ہندوستان۔۔۔۔

ہم جیالوں، متوالوں اور کھلاڑیوں میں تقسیم تھے، ہم اپوزیشن اور حکومتی بینچوں میں تقسیم تھے ہمیں پھر سے متحد کرنے کا۔۔۔

شکریہ اس ماحول میں خاموش رہنے والے ان کرداروں کو بے نقاب کرنے کا جو غیر ملکی آقاؤں کی گود میں بیٹھ کر پاک فوج پر ناپاک تنقید کرتے ہیں۔

ایک بار پھر سے شکریہ ہندوستان۔۔۔

احتشام اللہ ایک نوجوان لکھاری ہیں جو حالات حاضرہ اور سیاسی پیش رفت پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔۔۔ بلاگز میں ذاتی آرا کا اظہار کرتے ہیں، جس کا کسی سیاسی جماعت یا ادارے کی راۓ سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.