اچھا علاج غریب کا حق نہیں؟

558

پاکستان میں دو قسم کے ہسپتال ہیں جو کہ اپنا کام سر انجام دے رہے ہیں -ایک سرکاری ہسپتال دوسرا ،نجی ہسپتال – نجی ہسپتالوں کی بات کی جائے تو وہاں علاج کروانا غریبوں کے بس کی بات نہیں ،علاج کے پیسے تو الگ ڈاکٹروں کی فیس ہی اتنی ہے کہ غریب سن کر ہی دنگ رہ جاتا ہے – اگر ہم اس کے برعکس بات کریں سرکاری ہسپتالوں کی تو ہم ان کے نظام سے بخوبی واقف ہیں – امیر بندہ تو اپنا علاج نجی ہسپتال میں جاکر کروا لیتا ہے مگر غریب لوگ کہاں جائیں ؟ کیا ایک اچھا علاج بھی غریب لوگوں کی پہنچ سے دور ہے ؟سرکاری ہسپتال میں جب غریب لوگ علاج کروانے جاتے ہیں تو وہاں کے ڈاکٹران پردیہان تک نہیں دیتے – ہمارے ملک میں غریب عوام زیاده ہےاور سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش ہونے کی وجہ سےٹھیک طریقے سے ان کا علاج تک نہیں ہوپاتا – سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمائی بہت کم ہے اسی لیے وہ مریضوں کہ علاج کرنے میں کم دلچسپی دکھاتے ہیں –

حال یہ ہے کہ گورنمنٹ ہسپتالوں میں آنے والے مریض کئ دنو ں تک علاج کیلئے دربدر دھکے کھاتے رھتے ہیں۔ اگر کسی مریض کو علاج کی سہولت فراہم کر بھی دی جاتی ہے، تو کسی کی جان پہچان کی بدولت اور اگرکسی مریض کو ایڈمٹ کر بھی لیاجاتا ہے توکوئی ڈاکٹر دیکھنے والا نہیں ہوتا اور وہ صحیح علاج اور سہولت نہ ملنے کی وجہ سے زندگی کی جنگ سے ہار مان جاتا ہے. پر جب کسی سیاستدان یا امیر ترین شخص کا علاج ہوتو ایسے کام کیا جارہا ہوتا ہےجیسے بادشاہ کا استقبال کیا جا رہا ہو۔ محکمہ صحت اور ملازمین ایسے موجود ہوتے ہیں جیسے کام با خوبی انجام دیا جارہا ہو۔ اور جب کبھی ہیلتھ منسٹر کادورہ ہوتا ہے تو ہر طرح کے مریض کی دیکھ بھال اور علاج با خوبی کیا جارہا ہوتا ہے۔ نجی ہسپتال کا تو یہ حال ہے کہ جان تو بچے پرجان بچانے کے لئے کچھ پاس نہ بچے -ایک چهوٹے سے علاج کےلئے بھی پرائیویٹ ہسپتالوں میں اتنا خرچہ بتایا جاتا ہے کے غریب شخص نہ امید ہوجاتا ہے –

سرکاری ہسپتالوں میں ایک اور بڑا مسئلہ جو کافی حد تک پاکستان میں پھیل چکا ہے وہ نکلی دواؤں کا ہے . پاکستا ن میں کتنے ہی لوگوں کی جان صرف اس وجہ سے چلی گئی ہے کہ انھیں صحیح دوائیں مہیا نہیں کی گئیں -حکومت کو ادارے قائم کرنا چاہیے اور کچھ خصوصی ٹیموں کو تشکیل دینا چاہیے جن کے ذمے یہ کام ہو کہ ایسے لوگوں کو چیک کریں اور ان کو گرفتار کریں جو جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث ہیں.

سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لئے مشینیں تک نہیں ہیں ،حکومت کوچاہیے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز کو اچھی تنخواہیں دیں اور اچھی مشینیں مہیا کریں تا کہ غریبوں کا اچھا علاج ہو سکے – سرکاری ہسپتالوں میں تو غریب عوام کو علاج تو کیا صاف پانی بھی پینےکو نہیں ہوتا جس سے مزید بیماریاں پھیلتی ہیں اورغریب شخص جو اپنا علاج کروانے کے لئے آیا ہوتا ہے اچھا علاج تو نہیں کروا پاتا مگر مزید بیمار ضرور ہوجاتا ہے ۔اسٹاف لوگوں کی باتین سن کر نظر انداز کر دیتا ہےکوئی غریبوں کی سننے والا نہیں ہوتا-

امیر تو اپنا علاج نجی ہسپتالوں میں جاکر کروا لیتا ہے ، اسے اچھی سہولتیں بھی مہیا کردی جاتی ہیں پر غریب شخص ان سہولیات کو ترس جاتا ہے – پاکستان میں کتنے ہی غریب لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کیوں کہ انکااچھاعلاج نہیں ہوپاتا- اگر غریب شخص اپنی ساری جمع پونجی اپنے علاج پرہی لگا دیگا اور پرائیویٹ ہسپتال میں جاکر اپنا علاج کروائیگا توکھائے گا کیا ؟ اور اگر نہ علاج کروائیگا تو زنده کیسے رہیگا ؟

اگر سرکاری ہسپتا لوں میں ڈاکٹر ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کرنا شروع کردینگےا ور اگر حکومت سرکاری ہسپتا لوں کے ڈاکٹروں کو اچھی تنخواہیں دے گی اور ہسپتا لوں کانظام بہتر کردیا جائیگا ، غریبوں کو بہتر طبّی امداد فراہم کی جائیگی تو کافی غریب مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے کیونکہ اچھا علاج غریبوں بھی کا حق ہے-

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.