سنو،دریا کا رخ موڑدو (افسانہ)

1,095

ہمیشہ کی طرح آج بھی میں رات کی تاریکی میں اسی دریا کے کنارے چل رہا ہوں جہاں کبھی ہم ساتھ چلا کرتے تھے۔ ہوا آج بھی میرے کانوں سے ٹکرا کر سرگوشیاں کر رہی ہے اور ان سرگوشیوں میں صرف تمہارا نام ہے۔ مجھے یاد ہے پچھلے سال جب بہار آنے کو تھی تو ہم یہاں اسی کنارے پر بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ یہی ہوا تیزی سے تمہارے بالوں کو چھوتی اور پھر میرے قریب سے ایسے گزر جاتی جیسے مجھے چڑا رہی ہو، شاید یہ جانتی تھی مجھے تمہارے بالوں کو چھونا کتنا پسند ہے۔ پیچھے دور پکی سڑک پر لگے لیمپ کی روشنی تمہارے بالوں سے چھنتی ہوئی میری گود میں آ رہی تھی۔ تمہاری آنکھوں میں جھانکنے کے بعد جب بھی دل اچھل کر باہر آنا چاہتا تو میں فوراً نظر جھکا کر اس روشنی سے کھیلنے لگتا تھا اور تم ہر بار یہی پوچھتی تھی کہ میں بولتے بولتے چپ کیوں ہو جاتا ہوں یا مسکرانے کیوں لگتا ہوں۔ یہ وہ راز تھا جو میں تمہیں کیا کبھی خود کو بھی نہیں سمجھا پایا کہ کئی بار دل کو سنبھالنا اتنا مشکل کیوں ہوجاتا تھا؟

مجھے یاد ہے وہ آخری ملاقات جس رات ہم دریا میں تیرتی بطخوں کو گھورتے ہوئے کتنی ہی دیر تک بحث کرتے رہے تھے کہ ہمارے سامنے بطخیں ہیں یا کوئی اور آبی مخلوق تیر رہی ہے۔ ہم نے مگرمچھ سمیت تقریبا ًپانی میں رہنے والے تمام جانداروں کے نام لے کر خوب ہنسے تھے لیکن پھر ہمیشہ کی طرح یہ بحث بھی تم ہی جیت گئی تھیں کیوں کہ تمہیں ہارنا پسند نہیں تھا اور مجھے تمہیں جیتتا ہوا دیکھنا اچھا لگتا تھا۔
بحث آبی جانداروں سے شروع ہوئی پھر ان کے رہن سہن سے ہوتے ہوئے انسانی طرز زندگی اور خاندانی نظام پر آگئی۔ پتہ نہیں کیوں تم شدید جذباتی ہو کر بتانا چاہ رہی تھی کہ تم صرف ایسے انسان کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہو جو تمہیں اپنی جائیداد نہ سمجھے جو تمہیں تمہاری مرضی سے جینے دے اور میں، میں صرف اتنا کہہ رہا تھاکہ لڑکی جیسے مرضی جیے لیکن اگر وہ بیوی ہے تو اس پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہوتا ہے لیکن اس حق کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس شخص کی جائیداد بن گئی۔

تم نے تقریبا چیخ کر کہا کہ میں نہیں چاہتی میں کسی پر بوجھ بن جاؤں، میں ایک پڑھی لکھی لڑکی ہوں خود کو سنبھال سکتی ہوں، نہ صرف اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں بلکہ اپنے شوہر کا بھی ہاتھ بٹا سکتی ہوں وغیرہ وغیرہ ۔ تم نے مجھے عورت کی آزادی، مرد سے برابری، جدید معاشرے کے فائدے گنوائے، مجھے ہر طرح سے غلط ثابت کیا اور مجھے پڑھا لکھا تنگ نظر کہہ کر بحث ختم کی تو میں سوائے تمہیں گھورنے کے اور کچھ نہ کہہ سکا۔ بس یہی وہ آخری بحث تھی جس کے بعد تمہاری جیت کے ساتھ ساتھ میں تمہیں بھی ہار گیا۔ ایک ایسی بحث جو پتہ نہیں شروع کہاں سے ہوئی تھی لیکن ختم تمہارے جانے کے بعد بھی نہیں ہوئی۔تمہارے وہاں سے چلے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ چند مرد و خواتین نے ہمارے معاشرے کو اتنا حساس بنا دیا ہے کہ عورت کے ساتھ ساتھ مرد بھی قید ہوچکا ہے۔ مرد کو بھی آزادی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی عورت کو ہے۔ کئی بار مرد اپنی ہی عورت کو درست بات بھی نہیں کہہ پاتا کیوں کہ وہ جھٹ سے اپنے حقوق ،اپنی آزادی یا برابری کا مطالبہ کردیتی ہے۔ عورت کو اپنے حقوق مانگنے کی آزادی ہے لیکن مرد تو اپنے حقوق گنوا بھی نہیں سکتا۔ ہمارے معاشرے میں میاں بیوی ایک اکائی ہیں لیکن خواتین کی آزادی نے اس اکائی کو بھی دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے والد گھر کے سربراہ کم اور ڈکٹیٹرزیادہ تھے۔ ہم نے چھٹیاں کہاں گزارنی ہے، کون سا مہمان گھر کے اندر آئے گا اور کون صرف بیٹھک تک محدود رہے گا، ہم کس دوست کے گھر جا سکتے ہیں اور کون ہمارے گھر آسکتا ہے یہ سب فیصلے انہوں نے ہم پر مسلط کئے ہوتے تھے۔ لیکن ان سب کے باوجود ابو نے کبھی بھی امی کو ایک لفظ نہیں کہا تھا۔ میں نے آج تک کبھی ابو کو یہ کہتے نہیں سنا کہ تم نے سر پر دوپٹہ کیوں نہیں لیا، یہ کپڑے کیوں پہنے، فلاں کام کیوں نہیں کیا یا کیوں کردیا ، امی کا جو دل کرتا وہ کرتی تھیں، ہم نے کون سے اسکول جانا ہے ؟کس کے ہاں ٹیوشن پڑھنا ہے وغیرہ وغیرہ سب فیصلے امی کرتی تھیں۔ ابو صرف گھر کے باہر کے کام اور ذریعہ معاش پر نظر رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اگر کبھی امی کو لگتا کہ ہماری ہڈیوں کو نمک لگنے والا ہے تو ابو امی کے حکم سے ہم پر اپنا ہاتھ صاف کردیتے تھے۔

میری امی ایک ہاوس وائف ہونے کے باوجود آزاد خاتون تھیں۔ میں نے اپنے والدین کو کبھی اس بات پر جھگڑتے نہیں دیکھا کہ آپ نے مجھے اگر اس کام سے منع کیا ہے تو یہ میری آزادی کے خلاف ہے یا ابو کبھی کہہ رہے ہوں کہ اگر تم نے یہ کام کردیا ہے تو یہ خواتین کی حرمت کے خلاف ہے۔ ان دونوں کو بڑے اچھے سے پتہ تھا کب کس نے کیا اور کیسے کرنا ہے۔ وہ دونوں باہمی مشاورت سے سارے کام احسن طریقے سے کر رہے ہوتے تھے اور اللہ جانے یہ مشاورت کب ہوتی تھی یا پھر پتہ نہیں ہوتی بھی تھی کہ نہیں۔

مجھے لگتا تھا شاید ابو خواتین کے نوکری کرنے کو اچھا نہیں سمجھتےاس لئے امی ہاوس وائف ہیں لیکن جب بھابھی نے نوکری کرنے کی خواہش ظاہر کی تو ابو نے منع کرنے کے بجائے ان کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ اگر تم دونوں میاں بیوی کو لگتا ہے کہ اس طرح تم لوگ ایک دوسرے کو اور گھر کو بھی وقت دے لو گے تو یہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔ وہ واحد دن تھا جب مجھے میرے ابو ڈکٹیٹر نہیں لگے اور بھابھی کو بھی ایک ہی سال میں اندازہ ہو گیا کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔

اس رات کے بعد سے آج تک میں یہی سوچتا ہوں کہ خاندانی نظام ، خواتین کی نوکری یا ایسی ہی کئی باتوں کو لے کر خواتین نے اپنی آزادی کا جھنڈا اٹھایا ہے لیکن حقیقت میں جو مسائل ہیں وہ کچھ اور ہیں اور خود انہیں عورتوں کے پیدا کردہ ہیں۔ نوکری کرنے والی لڑکیاں اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ وہ معاشرے کو آئینہ دکھا سکیں ان کے ساتھ چلنے والے لوگ بھی انہی کی طرح سوچتے اور سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں خواتین کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ چھوٹوں کے غیرذمہ دارانہ رویوں اور بڑوں کے غلط فیصلے ہیں۔ یہ لڑائی خواتین یا مردوں کی نہیں یہ لڑائی پورے معاشرے کی ہے۔

ماں باپ یا گھر کے چند افراد لڑکی کا رشتہ طے کرتے ہوئے نہیں سوچتے کہ دونوں میں کچھ مشترکہ چیز ہے بھی یا نہیں؟ صرف بینک بیلنس،کوٹھی بنگلہ اور گاڑی دیکھی جاتی ہے اور دوسری طرف لڑکے والے بھی حسن کو نشانے پر رکھتے ہیں۔ جب حسن اور پیسہ ملتے ہیں تو پھر ایسی آگ لگتی ہے جو نہ صرف پورا گھر بلکہ دو زندگیاں بھی جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور اس آگ پر تیل ڈالنے والا ہمارا یہ معاشرہ ہوتا ہے۔ کسی کو مذہب یاد آجاتا ہے اور کسی کو خواتین کے حقوق تنگ کرتے ہیں اور تو اور کچھ خواتین کو بچے یاد آجاتے ہیں۔ ان کی نظر میں ہر مسئلے کا حل بچے پیدا کرنا ہوتا ہے ایک بچہ کرلو سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ بیچاری لڑکی اور ساتھ لڑکا دونوں ہی نہ چاہتے ہوئے بھی ایک کمزور ترین رشتے کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ اگر اس سب میں بات طلاق تک آجائے تو پھر وہی پھپے کٹنیاں اس مطلقہ کو کہیں گھر بسانے نہیں دیتیں اور لڑکے کیلئے ایک اور کنواری زندگی برباد کرنے کے منصوبے بنارہی ہوتی ہیں۔

مجھے نہیں یاد میں آج یہ سب کیوں سوچتا ہوا چلا جارہا تھا کہ اچانک سامنے سے ایک زندہ لاش آتی دکھائی دی۔ ہوا سے اڑتے بالوں نے بتایا دیا کہ ان سے مجھے کوئی شناسائی ہے۔ غور کرنے پر پتہ چلا یہ تم ہو۔ تم نے شاید مجھے دیکھا اور رک گئی یہ پہلی بار تھا کہ تم نے ہاتھ بڑھایا اور میں نے تھاما نہیں کیوں کہ شاید اب تم کسی اور کی امانت تھیں۔ ایک بار پھر ہم وہیں اس دریا کنارے بیٹھ گئے۔ تم نے تقریبا سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ میں طلاق لینا چاہتی ہوں۔ مجھے لگا شاید کسی نے دریا کے ٹھہرے پانی میں بڑا سا پتھر پھینک دیا ہو۔ مجھے لگا جیسے تمہارے پیچھے لیمپ نہیں کوئی بڑا سا الائو جل رہا ہے جس کی روشنی نے میری آنکھوں کو چندھیا دیا ہے۔ پھر مجھے اچانک احساس ہوا میرے حلق میں الفاظ پھنس کر رہ گئے تھے اور بولنے کو کچھ نہیں تھا۔

تم نے کتنے ہی دھیمے لہجے میں سوال کیا تھا کہ کیا ہم پھر سے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ تمہارا سوال ختم ہوتے ہی ایک دریا میرے آپلکوں پر آکر ٹھہر گیا تھا لیکن میں صرف یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گیا تھا کہ میں اسی معاشرے کا حصہ ہوں اگر تم نے طلاق لی تو یہ معاشرہ اور میرے اور تمہارے گھر کی یہ خواتین جو آزادی کے راگ الاپ رہی ہیں مجھے ایک مطلقہ سے شادی کرنے پر چین سے جینے نہیں دیں گی۔
جیسے تم اکیلی اس دریا میں بہتے پانی کا رخ نہیں نہیں موڑ سکتیں ایسے ہی اس معاشرے کی سوچ کو بھی بدلا نہیں جاسکتا۔ اس معاشرے کو بدلنے کیلئے ہمیں آنے والی نسل اور اس کی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ سنو۔۔!! میں پہلے تم سے کبھی کچھ نہیں کہہ سکا لیکن آج کہتا ہوں، تم اس دریا کا ایسے موڑ دو کہ تم مجھے چھوڑ کر نہ جاسکو اگر چلی بھی جاو تو پھر واپس نہ آنا پڑے اور اگر آ بھی جاؤتو میں تمہیں پھر سے اپنا سکوں۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.