جنگ تو کرنی پڑے گی ۔۔۔ مگر!

3,760

پاکستان اور ہندوستان کے مابین بڑھتی کشیدگی کے باعث26 فروری کا کم و بیش سارہ دن خبروں کی نظر ہوا اور ہمارے وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ 27 فروری کی صبح ایسی تحلکہ انگیز ہو گی۔ پاکستانی فضائی حدود میں بھارتی فضائیہ کی در اندازی پر پاک فضائیہ کی بروقت اور شاندار کاروائی نے پاکستانیوں کے دلوں میں اعتماد اور احساس تحفظ مزید بڑھا دیا ہے اور دنیا کی بہترین افواج پاکستان کے لیے عزت و قدر بھی۔ پاکستان کی خود مختاری اور قومی سلامتی پہ نڈر افواج پاکستان نے نا ہی کبھی آنچ آنے دی ہے اور نا ہی کبھی آنے دیں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا ہمسائیہ ملک انڈیا ہمیشہ ہماری دفاعی صلاحتوں کو مس انڈرسٹینڈ کرتا ہے اور پھر منہ کی کھاتا ہے۔

کوئی شک نہیں کہ پلوامہ حادثہ پاکستان کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ثبوت اور سوچے سمجھے بغیرایک فرد کو کسی دوسرے فرد پہ الزام تراشی کرنا زیب نہیں دیتا تو یہ کتنی اوچھی حرکت ہے کہ ہندوستان ہر بار دشمنی میں اندھا ہو کر بنا ٹھوس شواہد اور ثبوت کے ایک خوددار اور امن پسند ریاست پاکستان پہ دہشتگردی کا الزام دھر دیتا ہے اور پھر انتہائی مکاری اور عیاری سے دنیا کے سامنے نا صرف واویلا کرتا ہے بلکہ پوری ہندوستانی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر انھیں بھی بے وقوف بناتا ہے۔

سوشل میڈیا کے عروج اور گلوبل ولیج بن چکی دنیا کے ہوتے ہوئے بھی سچ اور حقیقت جاننے میں لوگوں کو دقت کیوں؟ اندھوں کی طرح کسی بھی واویلے اور ڈرامہ پہ انحصار اور یقین کر کے بے مقصد خوشیاں منانا اور معصوموں کو مورد الزام ٹھرانا حقیقت سے جان بوجھ کر منہ موڑنے کے مترادف ہے۔

عالمی برادری اور امن کی نام نہاد تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنے میں کم از کم اب تو کسی پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہیے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کشیدہ حالات میں بھی پھر سے پرامن بات چیت اور مزاکرات کی پیشکش کی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جرنل آصف غفور کی پریس بریفنگ میں ان کی کہی ایک بات دل کو چھو گئی کہ “ہم نے جو جواب دیا اپنے دفاع میں دیا، ہم کسی قسم کی وکٹری انڈیکیٹ نہیں کرنا چاہتے۔ جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی، ہار نہیں ہوتی، انسانیت کی ہار ہوتی ہے”۔

جنگ کا دوسرا نام “تباہی” ہے۔ جو سامنے آیا اسے لپیٹ میں لے لیا اور نیست و نابود کر دیا۔ جنگ یہ نہیں دیکھتی کہ کون شیر خوار ہے، کتنی منتوں مرادوں کے بعد دنیا میں آیا ہے، کون بزرگ ہے اورگھر کا بڑا ہے یا کون کس کی آنکھوں کا تارہ اور جینے کی امید ہے۔ چرند پرند، انسان حیوان، بیل بوٹے، درخت سب بلاشرکت غیر تباہی کی لپیٹ میں آتے ہیں اور پیچھے صرف کٹی پھٹی باقیات رہ جاتی ہیں۔ اور صرف یہ ہی نہیں جنگ کی تباہ کاریوں کے مضر اثرات نسلوں تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔

سوشل میڈیہ پہ ایک طوفان برپا ہے۔ دونوں ملکوں میں ایک مخصوص طبقہ ہے جو جنگ کو لے کر بہت پرجوش دکھتا ہے۔ بہت سے پیچز کی رینڈم پوسٹس جنہوں نے جنگ کو مزاق اور ہوا بنا کے رکھ دیا ہے نظروں سے گزرتی ہیں تو افسوس ہوتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے متعلق جنگ کو لے کر ایسے ایسے گھٹیا لطیفے پڑھنے کو ملتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ دونوں ملکوں کے ویلے نوجوان جو جوش میں ہوش کھو بیٹھے ہیں اور خود کو دل جلے یا ناکام عاشق ظاہر کر کے کبھی بھی دشمن سے لڑنے مرنے کو تیار بیٹھے ہیں انہیں احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ اپنے کمفرٹ زون میں بیٹھ کے جنگ کی باتیں اور بے ڈھنگے لطیفے اور پوسٹس شئیر کر کے نوجوانوں کا لہو گرمانے اور انھیں اینٹرٹین کرنے کی کوشش کرنا بے حد آسان ہے مگر میدان جنگ میں اترنا لطیفے گھڑنے والوں کا نہیں بلکہ ہتھیار چلانے والے شیر دل اور آہنی ہاتھوں کا کام ہے۔

معذرت کے ساتھ جو افراد اپنے سب سے بڑے دشمن یعنی نفس سے جنگ نہیں کر پا رہے وہ اپنے ہمسائیہ دشمن ملک سے جنگ کر کے اس پہ کیا اور کیسے غلبہ پائیں گے۔؟

ہاں ہمیں جنگ کرنی ہے اپنے نفس کے خلاف، جہالت و فرقہ واریت کے خلاف، منافقت کے خلاف، غیر انسانی رویوں اور دوہرے معیار کے خلاف، بے ایمانی، بددیانتی اور نا انصافی کے خلاف۔ اگر ہماری نوجوان نسل ان سب محاذوں پہ جیت جاتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی دشمن کسی بھی محاذ پہ پاکستان اور پاکستانی عوام کا بال بھی بیگا نہی کر سکتا۔

پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے جس سچائی سے حقائق کو پیش کیا، مفاہمت اور امن کی کوششوں کو پزیرائی دے کر مثبت کردار ادا کیا کچھ ایسا ہی رول انڈین میڈیا اور دونوں ملکوں کے سوشل میڈیا کے دانشوروں کو بھی ادا کرنا ہو گا، امن کی خاطر، دونوں ملکوں کی سلامتی کی خاطر اور سب سے بڑھ کر انسانیت کی خاطر۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر ہم پہ ہندوستان کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی تو پاک فوج پوری پاکستانی قوم کو اپنے شانہ بشانہ کھڑا پائے گی۔ مگر اس سے پہلے ہمیں سمجھدار اور باشعور پاکستانی قوم ہونے کا فرض نبھانا ہے۔ ہر وہ عمل ترک کرنا ہے جس سے ملکی سالمیت اور افواج پاکستان پہ کوئی حرف آتا ہو۔

افواج پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں، حب الوطنی اور جزبہ ایمانی پہ ہمیں مکمل بھروسہ ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ عوام کو پاک فوج کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ کب اور کیسے کسی بھی جارحیت کے خلاف ردعمل ظاہر کریں۔ پاکستانی فوج اپنا فرض احسن طریقے سے نبھانا جانتی ہے اور ہمیشہ سے نبھا بھی رہی ہے مگر پاکستانی قوم ہونے کے ناتے ہمیں ابھی اپنے بہت سے فرض نبھانے سیکھنے ہیں۔

بحیثیت پاکستانی قوم ہمیں فرقہ واریت اوراختلافات بھلا کر متحد ہونا ہے اور خوشی اس بات کی ہے کہ ہم ہوئے بھی ہیں۔ یہ وقت تمام کدورتیں اور منفی سیاستیں بھلا کر اپنی فوج، حکومت، ہم وطنوں اور انسانیت کو سپورٹ کرنے کا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ ہم رہیں یا نا رہیں پاکستان انشااللہ رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا۔ اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تنزیلہ احمد نے مارکیٹنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے لکھتی ہیں اور سماجی و سیاسی معاملات انکے پسندیدہ موضوعات ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Maria Kanwal کہتے ہیں

    Nice thoughts indeed. Tanzeela Ahmed is blessed with a superb personality. May every youngster in our society start thinking like this.

تبصرے بند ہیں.