بندر تماشہ اور ڈگڈگی

1,867

بندر تماشہ اور ڈگڈگی

آج تک کسی نے بتایا نہ میں نے کہیں پڑھا کہ بندر تماشہ ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہے لیکن میں اپنی سمجھ سے ہی اسے ثقافتی ورثے کا حصہ مانتا ہوں۔ بچپن میں بندر تماشہ تو ہر کسی نے دیکھا ہوگا ،میں نے بھی دیکھا ہے بلکہ بہت دیکھا ہے کیوں کہ بندر کی قلابازیاں مجھے بہت بھاتی تھیں اور اب میرے بھتیجوں، بھانجوں کو بھی بہت پسند ہیں، اس لئے آج بھی اگر محلے میں کوئی بندر والا آجائے تو تماشہ دیکھنا پڑ جاتا ہے اور بندر کے سر پر رکھے ڈبے میں دو چار سکے ڈالنا مجبوری بن جاتی ہے۔ ویسے بھی کچھ دیر کے تماشے کے بعد ڈبہ تو سب کے سامنے آنا ہی ہوتا ہے کیوں کہ اگر ڈبے میں کچھ ڈالیں گے تو اگلا تماشہ شروع ہوگا لیکن افسوس پیسہ ہم دیتے ہیں مرضی مداری کی چلتی ہے کہ بندر کیسا کرتب دکھائے گا اور کون کون سی چھلانگیں لگائے گا۔ ہم تو بیچارے تماشبین صرف تماشہ دیکھنے اور ڈبہ بھرنے کیلئے موجود ہوتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس ڈبے میں ڈالا گیا ایک بھی سکہ تماشہ تو کیا ایک قلابازی تک نہیں بدل سکتا۔

اگر ماضی کے بندر تماشوں کا مقابلہ آج کے تماشے سے کیا جائے تو ہر دوسری چیز کی طرح بندر تماشہ بھی بہت بدل گیا ہے ،بندر کو نچانے والے نے کافی ترقی کرلی ہے پہلے صرف بندر ہوتا تھا اور ایک ڈگڈی لیکن اب تو بندر کے ساتھ ساتھ بکری ، کتا اور سانپ وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ مداری یہ بات جان گیا ہے کہ عوام بندر سے اکتا جاتے ہیں تو اسلئے وہ کبھی بکری سے دو چار کرتب کرواتا ہے اور کبھی سانپ چھوڑ دیتا ہے اور اس کے بعد پھر سے بندر کی باری کیوں کہ عوام کے آگے ڈبہ لے کر جانے والا تو بندر ہی ہوتا ہے۔

البتہ اگر کچھ نہیں بدلا تو وہ مداری کی چھڑی ہے۔ بندر کو نچانے والے کے پاس چھڑی پہلے بھی ہوتی تھی اب بھی ہے اور جتنی مرضی ترقی ہوجائے یہ چھڑی ہی ہے جس میں ساری طاقت ہے جس کے بل پر بندر چھلانگیں مارتا ہے ادھر ادھر ناچتا پھرتا ہے۔ بندر کو لگتا ہے کہ شاید یہ خود بندر ہی ہے جسے دیکھ کر لوگ خوش ہورہے ہیں اور تالیاں بجارہے ہیں لیکن دراصل یہ صرف بندر والے کی چھڑی کا کمال ہے وہ جس انداز سے چھڑی زمین پر مارتا ہے بندر اسی کے مطابق چھلانگ لگا دیتا ہے۔ چھڑی کو ذرا سا قریب کرنے پر بندر قلابازی مار دیتا ہے اور زمین پر مارنے سے الٹا چلنے لگتا ہے گویا بندر کا کوئی کمال نہیں یہ سارا کھیل چھڑی اور اس کو پکڑنے والے کا ہے۔ گویا چھڑی نہ ہوئی جادو کی چھڑی ہوگئی گھمائی اور کام نکوا لیا۔

چھڑی اور مداری کو اگر بھول بھی جائیں تو یہ بندر تماشہ دیکھنے والوں کا مزاج بھی عجیب ہوتا ہے انہیں پتہ ہوتا ہے کہ آنے والے چند منٹس میں کیا ہونے والا ہے لیکن ہر کوئی ٹکٹی باندھے دیکھتا رہتا ہے کہ شاید آج یہ مداری کوئی نیا کرتب کرا دے یا شاید بندر ہی کوئی ایسی قلابازی مار دے جس کے بعد تماشبینوں کو لگے کہ آج پہلی بار بندر نے مداری کیلئے نہیں بلکہ ہمارے لئے کچھ کیا ہے۔ امید اور آس جتنی اچھی چیزیں ہیں اتنی ہی بری بھی ہیں کیوں کہ یہ اچھے بھلے انسان کا خانہ خراب کردیتی ہیں، اسے ایک ہی غلطی بار بار کرنے پر مجبور رکھتی ہیں یا کی ہوئی غلطی کو برداشت کرنے کا اتنا حوصلہ دے دیتی ہیں کہ انتظار کرنا پڑتا ہے کہ اب کب وقت دوبارہ آئے اور ہم اپنی غلطی سدھاریں۔ افسوس امید ہر بار دم توڑتی ہے اور بندر وہی تماشہ دکھاتا ہے جو کئی دہائیوں سے چلا آرہاہے۔

بندر تماشے کی ایک اور مزے کی بات ڈگڈگی ہے جو مداری کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ چھڑی ہلانے کے ساتھ ساتھ ڈگڈگی بجاتا جاتا ہے جس کے بل پر بندر ناچتا جاتا ہے اور خود مداری بھی کچھ نہ کچھ بڑ بڑاتا رہتا ہے۔ کئی بار بندر کا ناچ اتنا بےکار ہوتا ہے کہ تماشبین بور ہونے لگتے ہیں لیکن مداری ڈگڈگی کا ساز تبدیل کر دیتا ہے کبھی آواز اونچی کردی اور کبھی نیچی کردی۔ آج کے دور میں موسیقی میں اتنی جدت آگئی ہے کہ پوچھیں مت اور مداری ٹھہرا عقل مند اس نے بھی ڈگڈگی کے استعمال کو جدید بنا لیا ہے اب وہ نت نئے ردھمز سیکھ گیا ہے کبھی وہ ٹو بائی ٹو تو کبھی چار بائی آٹھ کی بیٹ پکڑ لیتا ہے۔ اگر بندر کو پرانی بیٹ پسند نہ آئی تو نئی بنالی لیکن آج کل تو مداری نے ڈگڈگی کا گلا ہی گھونٹ رکھا ہے نہ اسے بجنے دیتا ہے نہ صحیح سے بجاتا ہے۔ ڈگڈگی کےساتھ ساتھ اس نے بندر کو بھی کچھ آوازیں نکالنا سکھا دی ہیں جس سے ایسے مدھر سُر نکلتے ہیں کہ سر دھننے کو جی چاہتاہے۔

بندر تماشے کو اب ثقافتی ورثہ جان ہی لیا ہے تو میں آپ پر واضح کردوں اس میں کہیں بھی کسی بھی طرح سے سیاسی عنصر موجود نہیں ہے اور ثقافت کو سیاست سے تھوڑا دور ہی رہنے دیں تو اچھا ہے۔ کیوں کہ میری اس تحریر میں نہ تو بندر کوئی سیاسی مہرہ ہے اور نہ ہی مداری کوئی نادیدہ قوت ہے اور نہ ہی ڈگڈگی میڈیا ہے جس کا گلا گھونٹا جارہا ہے ۔ آج کل لوگ پڑھتے کچھ ہیں اور سوچتے کچھ ہیں۔ اس لئے میرا فرض ہے کہ میں آپ کو بتادوں کہ برائے مہربانی اس تحریر کو صرف بندر تماشہ لیں۔ ایسا نہ ہو آپ کچھ غلط ملط سمجھ لیں اور بھگتنا مجھے پڑے ۔

میں قومی اداروں سے وفادار ہوں، جمہوریت کا حامی ہوں، ملک میں آنے والی حالیہ تبدیلی سے انتہائی خوش ہوں اور ہر طرح سے مثبت سوچتا اور بتاتا ہوں۔ یہ جو لوگ کہتے ہیں نا تبدیلی وبدیلی کچھ نہیں آئی میں ان کے بھی سخت خلاف ہوں۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ، گیس کا مہنگا ہونا اور ڈالر کے ریٹ کو پر لگ جانا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے آپ دیکھیں ہمارا وزیراعظم تقریریں کتنی اچھی کرتا ہے جہاں بھی جاتا ہے لوگ ہاتھ پکڑنے اور تصویر بنوانے کیلئے ترس جاتے ہیں۔ بھارت کو بھی ایسا جواب دیتا ہے جیسے ماضی میں کسی نے دیا ہی نہ ہو اور تو اور لکھا ہوا کچھ بھی نہیں بولتا۔ اپنی کہی ہوئی بات سے تو بالکل بھی قلابازی نہیں لگاتے میرا مطلب ہے یوٹرن نہیں لیتے۔

یہ عمران خان کی تقریریں، دل میں غریب عوام کا دکھ ہی تو ہے کہ سعودی شہزادے کی کار کے ڈرائیور بن گئے ورنہ دنیا کے سامنے اچھا تاثر دینے کیلئے ایسا کون کرتا ہے؟ اتنی دریا دلی اور بہتر الفاظ کے چنائو والی تقاریر پر اتنا پیسہ مل گیا بھلا سعودی شہزادے نے اتنا پیسہ کسی اور ملک کو دیا ہے؟

شہزادے نے کیا دینا تھا، کتنا دینا تھا وہ گھر سے سوچ کے نکلا تھا لیکن یہ جو سرمایہ کاری ہے یہ گوادر میں کہاں ہوگی، کیسے ہوگی اور چین کو اس پر کیا تحفظات ہوں گے؟ سی پیک پر کیا اثرات ہوں گے وغیرہ وغیرہ جیسے سوالات پوچھنے کا موقع ہی نہیں ملا یا شاید سب کو ڈر ہے کہیں گلا ہی نہ گھونٹ دیا جائے۔ لہذا میڈیا اور سوشل میڈیا صرف شہزادے کی آنیا جانیاں اور وزیراعظم کی ڈرائیوری دیکھ کر ہی خوش ہے۔ البتہ اس ساری صورتحال میں اکیس سو سے زائد پاکستانیوں کو آزادی مل جانے پر دل بے حد خوش ہے اور عمران خان کا شکرگزار بھی کیوں کہ اس ایک دورے سے صرف کچھ قیدیوں کی نہیں بلکہ دوہزار سے زائد خاندانوں کی زندگیاں بدل گئی ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.