پاک بھارت کشیدگی ۔۔۔ جنگ نہیں امن چاہیے۔

1,500

یہ تقریبا 2016 کی بات ہے جب بھارتی سیکورٹی فورسز نے اسکول سے واپس آرہے ایک کشمیری طالب علم عادل احمد ڈار سے زمین پر ناک رگڑوائی تھی، اس نوجوان کے دل میں بدلے کی آگ بھڑک اٹھی اور بالآخر تین سال بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فورسز کی گاڑیوں پر خودکش حملہ کردیا جس میں کوئی چالیس سے زائد فوجی مارے گئے۔

اس کے نتیجے میں پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے شعلے آسمان کو چھونے لگے اور اس آگ کو بھڑکانے میں سب سے زیادہ کردار ہندوستانی میڈیا کا رہا، بس پھر کیا تھا عقل کے اندھے جنگی جنون کو ہوا دینا شروع ہوگئے کیونکہ ان کی تو ہمیشہ خواہش رہتی ہے کہ بس ابھی جنگ چھڑ جائے اور ہم اپنے اس ازلی دشمن کو خاکستر کردیں تاکہ نارہے بانس اور نہ بجے بانسری۔

اس سب کے باوجود کچھ لوگ امن کی بات بھی کررہے ہیں جو چاہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی اس لہر کو بات چیت کے ذریعے ختم کیا جائے لیکن دونوں ریاستوں میں ایسی بات کرنے والے امن کے داعی ،حواریوں کی توپوں کی زد میں ہیں اور انہیں نام نہاد وطن پرستوں کی جانب سے غدار وطن کے القابات سے نوازا جارہا ہے۔

سوال یہ اہم ہے کہ جب بھی بھارت میں الیکشن قریب آتے ہیں تو ہمیشہ کوئی نہ کوئی فساد کیوں کھڑا کردیا جاتا ہے؟ کیا یہ سب کچھ محض اتفاق ہوتا ہے؟، دراصل بی جے پی سمیت وہاں کی انتہاء پسند جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کے اگر انہوں نے چناو میں بھارتی جنتا کو بےوقوف بناکر سرکار میں آنا ہے تو اس کیلئے پاکستان مخالف نعرہ لگانا ہوگا۔

لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا اور نہ یہاں کا میڈیا ان کے مقابلے میں اس قدر نفرت و انتہاء پسندی اور زہر اگلتا ہے۔ پر ایسا بھی نہیں کہ بھارت میں کوئی بھی حق سچ کہنے والا نہیں، وہاں مارکنڈے کاٹجو، اے ایس دولت، رجیپ سردیسائی، پرتاب بھانو مہتا اور برکھا دت سمیت ایسے متعدد حق پرست موجود ہیں جو اپنی حکومت کی غلط پالیسیوں پر جم کر برس رہے ہیں۔

مارکنڈے کاٹجو بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں انہوں نے کہا کہ؛ پلوامہ واقعے پر بدلے کا شور مچانے والے یاد رکھیں کہ پاکستان ایک نیوکلئیر طاقت ہے، کوئی مذاق نہیں ہے، پاکستانی فوج تیار ہے اور کشمیریوں کی اکثریت ہتھیار اٹھانے والوں کی حامی ہے، بھارت لائن آف کنٹرول کراس تو کرے، پاکستان کی جانب سے بھی زبردست ردعمل آئے گا، معصوم کشمیریوں کو مار کر بھارت پُرامن کشمیریوں کو بھی تشدد پر اکسائے گا۔

اے ایس دولت بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف کہتے ہیں کہ: جنگ کوئی تفریح نہیں! نریندر مودی حکومت کو اپنی پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے، ہمیں کشمیریوں کے دل اور دماغ جیتنے ہیں ناکہ ان کے دلوں میں اپنے لیے مزید نفرت پیدا کرنی ہے، جنگ کسی مسئلہ کا حل ہے اور ناہی ہم بات چیت کو ترک کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

پرتاب بھانو مہتا بھارتی دانشور ہیں یہ اپنی ایک حالیہ تحریر میں اعتراف کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خراب کرنے کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ پلوامہ حملے میں پاکستان جیت گیا بھارت ہار گیا۔ پاکستان پرکوئی عالمی، سیاسی اور سفارتی دباؤ نہیں، بھارت نیم روایتی جنگ میں پاکستان کو شکست دینےکی صلاحیت نہیں رکھتا۔

برکھا دت بھارتی خاتون صحافی ہیں اور انہوں نے جب پلوامہ حملہ کے بعد کشمیری طالبعلموں کے خلاف ہورہے امتیازی سلوک پر سوال اٹھانے کیساتھ ساتھ امن کی بات کی تو ان کو بھارتی انتہاء پسندوں کی طرف سے مسلسل کئی روز تک ہراساں کیا گیا، لیکن یہ بہادر خاتون چپ نہ رہی اور مزید طاقت کیساتھ بولنے لگی۔

یہ جو آوازیں اٹھ رہی ہیں، بھارت کو چاہئے کہ ان محب وطن بھارتیوں کی آوازوں کی گونج کو سمجھنے کی کوشش کرے ناکہ انہیں غدار وطن اور پاکستان کا ایجنٹ ہونے کے طعنے دیں۔

بھارتی حکومت نے پوری کوشش کی کے پلوامہ حملہ کا پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جائے مگر انہیں ہر طرف سے شکست کھانی پڑی، عالمی تنظیموں سمیت کسی بھی ملک نے مذمتی بیان میں پاکستان کا نام نہیں لیا، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان خود اس خطے میں سب سے زیادہ دہشگردی کا شکار ہے۔

درحقیقت دونوں دیسوں میں اس وقت ایسے لوگوں کی اشد ضرورت ہے جو کشیدگی کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہوں خاص کر بھارت میں جہاں بے چاری بھولی بھالی عوام کو اپنے مفاد کی خاطر پاکستان دشمنی پر کچھ نام نہاد محب وطن ہمیشہ اکساتے رہتے ہیں،تاکہ ان کا دھندہ پانی چلتا رہے۔

دونوں ممالک میں جتنا بجٹ دفاعی محاذ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جستجو میں اسلحے پر خرچ کیا جاتا ہے اگر اس کا آدھا بھی تعلیم، صحت اور غریبی کے خاتمے پر لگایا جائے تو ہم ترقی یافتہ ممالک کی صفحوں میں ہونگے۔

پاک بھارت کشیدگی کے اس ماحول کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے مسئلہ کشمیر عالمی قوانین کے مطابق حل کرنا ہوگا وگرنہ یہ کشیدگی ہمیشہ رہے گی۔ ایک نہ ایک دن ضرور ہمارے سربراہان کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا کیونکہ عوام کی اکثریت کو جنگ نہیں امن چاہئے، امن ہی کی بدولت اس خطہ میں خوشحالی اور ترقی آئے گی۔ عالمی قوتوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ اب مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر دباو ڈالنا پڑےگا وگرنہ خدا نہ کرے کہ کشیدگی کی اس لہر میں وہ بھی جل جائیں۔

مصنف معروف صحافی و قلم کار ہیں جبکہ دنیا نیوز اور ایکسپریس کےلیے بلاگ لکھتے ہیں اور ہمہ وقت جمہوریت کی بقاء اور آزادئ صحافت کےلیے سرگرم رہتے ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی اے ماس کیمونی کیشن کررہے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر، فیس بک اور ای میل پر رابطہ کیلئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.