ڈیجیٹل لائبریری، آئیے کتب بینی کو فروغ دیں!

1,164

یونیورسٹی لائبریری میں ایک روز ” ‘کتب بینی اور نظریات’کی تعمیر” ‘کے عنوان سے ایک فکری نشست کا اہتمام تھا- موضوع کی نوعیت چونکہ ادبی اورفلسفیانہ تھی تو اظہار خیال کے لیے ہسپانوی ادب کی ایک ممتاز شخصیت مدعو تھی- سامعین میں بلا تفریق پروفیسرز، طلباء اور دیگر شعبہ جات سے لوگ شریک تھے- مقرر نے ابتداء میں یورپ کی نشاۃ ثانیہ کی تحریک میں ادب بشمول مسلم قرون وسطیٰ کی کتب کے کردار پر روشنی ڈالی- اختتامی حصہ جدید یورپی سماج میں خیالات کی یگانگت و جمہوری معاشرہ کی تشکیل سے متعلق تھا-

معاشی کساد بازاری، بے روزگاری اور مہاجرین کی کثیرآمد کے باعث یورپ کے کئی ممالک میں اس وقت پاپولزم، قومیت اور دائیں بازو کی قوتیں زور پکڑ رہی ہیں- تو اسی تناظر میں سوال و جواب کا سیشن کسی حد تک سیاسی ہوگیا جب مہمان شخصیت سے اس بابت استفسار کیا گیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ترقی یافتہ یورپی ریاستوں میں جہاں جمہوریت پائیدار اور سماج متنوع اقدار کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انتہا پسندانہ قوتیں برسراقتدار آ جائیں؟ تبصرہ دلچسپ تھا! چونکہ یورپی شہری دنیا بھر میں ہونے والی سیاسی و جغرافیائی تبدیلیوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان تبدیلیوں کے اثرات (منفی یا مثبت) سے بھی باخبرہیں تو ایسی کسی تحریک کی پذیرائی یہاں بعید از قیاس ہے-

انھی خطوط پر مباحثے اور مذاکرے یورپی تعلیمی اداروں اور لائبریروں میں معمول کی بات ہے- ہفتہ وار منعقد ہونے والی ان نشستوں میں ادب، موسیقی، زبان، کتاب، سیاست، معاشرت، مذہب اور سماج کے دیگر کئی ایسے پہلوؤں پر تبادلہ خیالات کیا جاتا ہے- اظہار رائے کی آزادی، موضوعات میں تنوع، شخصی و سماجی نظریاتی اختلاف اور اس کے لیے درکار برداشت ان مجالس کی چنیدہ خصوصیات ہیں-

کتب بینی کی روایت یورپی سماج میں اس قدر قوی ہے کہ آپ بس، ٹرین، یا جہاز میں سوار ہوں تو ہرمسافر کو کتاب ہاتھ میں تھامے محو پائیں گے- فضول بحث یا یاؤہ گوئی معیوب سمجھی جاتی ہے- لائبریری میں داخل ہوں تو تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی- کئی عالمی زبانوں میں کتابیں موجود، اخبارات و رسالہ جات کی ایک لمبی فہرست جو قریب ہرموضوع کا احاطہ کریں- کم سن بچوں میں اس روایت کو پروان چڑھانے کے لیے الگ سے گوشہ قائم، جہاں دیدہ زیب کتب اور بڑی سکرینوں پہ بچوں کے لیے تیار کردہ فلموں سے یہ عادت پختہ کی جاتی ہے- جسمانی معذور افراد بشمول بصارت و سماعت سے محروموں کے لیے خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے- جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئےہر لابئریری کمپیوٹرزبمعہ انٹرنیٹ، کاپی مشین، فیکس، اور دیگر ضروری سازوسامان سے آرائستہ ہوتی ہیں- یہاں تک مشاہدہ کیا گیا ہے کہ لائبریریوں میں منی سنیما سکرین تک موجود، جہاں دنیا بھر میں سماجی موضوعات پر بننے والی انعام یافتہ فلموں کی نمائش کی جاتی ہے-

اس اجمال کا مقصد محض یہ بیان کرنا ہے کہ یورپی سماج میں کتاب بینی کو کس قدر دلچسپ اور سہل بنایا گیا ہےاوراسے ترجیح گردانتے ہوئے ترقی یافتہ معاشرے کس قدر وسائل کی دستیابی کو ممکن بناتے ہیں-

کتب بینی کی افادیت کیا ہے؟ یہی سوال راقم نے ایک دن مذاکرہ میں پوچھا تو بتایا گیا کہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کتب بینی سماجی فہم میں توازن لاتی، وسعت نظری پیدا کرتی، اور نئے تصورات کو فروغ دیتی ہے- دیگر فوائد میں یہ سرفہرست ہے کہ کتب بین معاشرتی مسائل بارے اپنی انفرادی رائے رکھتا ہے- وہ سماجی مدوں کے ماخذ سے آگاہی رکھتا اور اپنی نظریات کی اصلاح پر آمادہ رہتا ہے- اسی لیے کہا جاتا ہے کہ صرف تعلیم یافتہ ہونا کافی نہیں بلکہ باعلم ہونا ضروری ہے- یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کا عدم فقدان ہونے کے باوجود اشرافیہ کے مختلف طبقات مذہبی، سیاسی، لسانی، اورفروعی جہتوں سے ایک عام شخص کا استحصال جاری رکھتے ہیں-

کیا یہ ممکن ہے ہمارے ایسے معاشرے میں کتب بینی کے کلچرکو فروغ دیا جا سکے جہاں وسائل کمیاب اور آگاہی محدود ہے؟

کچھ عرصہ قبل تک شاید یہ توجیح قابل قبول تھی مگر گزشتہ حکومت نے یہ رکاوٹ بھی ختم کر دی- ڈیجیٹل لائبریری ۔۔۔ صرف ایک کلک کیجیے اورہزاروں کتب، مراسلات، تحقیقی مجلات، ڈاکومنٹریز، حتیٰ کہ نیم خواندہ افراد کے لیے سی ڈیز تک آپ کی کمپیوٹر سکرین پہ حاضر- ای- لائبریرز پنجاب کے 120 اضلاع میں قائم کی گئی ہیں- قلتِ وقت کے باعث لائبریری جانے کی فرصت نہ ہوتو کمپیوٹر آن کیجیے اور گھریا دفتر بیٹھے باسہولت ہمہ وقت اپنی پسند کی کتب کا مطالعہ کیجیے ۔

حکومتیں جہاں قومی سرمایہ کئی کم نفع بخش منصوبوں کی نذر کردیتی ہیں وہیں ڈیجیٹل لائبریری کا قیام احسن ترین اقدام ہے- اس سے نہ صرف طلباء مستفید ہوں گے بلکہ عام شہری بھی فائدہ اٹھا سکیں گے جو بیش قمیت کتب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے-

پنجاب حکومت ای-لائبریری پراجیکٹ میں پہل کرکے دیگر صوبائی حکومتوں پر سبقت لے چکی ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مفید پراجیکٹ کا دائرہ کار نہ صرف دوسرے صوبوں تک پھیلے بلک بجٹ میں رقوم بھی مختص ہوں کہ اسی میں مجموعی سماجی بھلائی پوشیدہ ہے-

پس تحریر: ای- لائبریری کو اس لنک سے استعمال کیا جا سکتا ہے:
https://elibrary.punjab.gov.pk/

سپین کے شہر پامپلونا کے ایک تعلیمی ادارہ میں لیکچرار ہیں-معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور وقتاً فوقتاً معاشی، تعلیمی، سیاست اور گورننس کے مسائل پر لکھتے رہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.