لوح قبر کی کہانی

2,420

فیس بک پر سکرولنگ کر تے میری نظر ایک ایسی تصویر پر پڑی جو کسی قبرستا ن کی تھی اوراس میں ایک قبر کے کتبے کو فو کس کیا گیا تھا جیسے ہی میں نے اس تصویر پر ماؤس کے ایرو کو کلک کیا تو یہ تصویر بڑی ہوکر میری 21 انچ کی سکرین پر پھیل گئی۔ یہ کتبہ کیا تھا ایک پوری کہا نی تھی جو لمحو ں میں میرے ذہن میں گھوم گئی، ابتدا ء سےآخر تک پو ری کہا نی کا آغا ز و انجا م میرے سا منے تھا۔ یہ بے انصا فی اور معا شرتی بے حسی کی ایک منہ بو لتی تصویر تھی ۔ ایک ایسی لڑکی کی قبر کا کتبہ جو ایک نئی زندگی کو اس دنیا میں لا تے لا تے خو د کسی کی حوس زر، لا پرواہی اور فر ض سے غفلت کا شکا ر ہو کر اس دنیا سے رخصت ہو گئی ۔

آئیں آپ کو مزید تجسس میں ڈالے بغیر کتبے کی تحریر کی طرف لاتے ہیں ۔ کتبے کے اُوپر اور اطرا ف میں جیسا کہ ہو تا ہے کہ محرابی شکل کے سب سے اوپر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اور نیچے کلمہ طیبہ کندہ تھا دا ئیں جا نب ” یا اللہ ” اور با ئیں جا نب “محمدﷺ” کے نا م ِ مبا رک تحریر تھے، اس کے نیچے محرا ب کی شکل میں دو دفعہ درود شریف پتھر میں کندہ کر کے تحریر کیا گیا تھا اور اس کے درمیان قبر میں دفن مرحومہ کی پو ری تفصیل درج تھی، جو کہ کچھ اس طرح تھی ” چ ۔ نعیم ” ذوجہ ” م ۔ نعیم۔ س ۔” پیدا ئش یکم جنوری1987لیکن اس کے آگے جوسرخ رنگ میں لکھی تحریر تھی وہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی مزار یا قبر پر نہیں دیکھی، یہ کچھ یو ں تھی ۔ ” تا ریخِ قتل 3اپریل2013تاریخ تدفین 4اپریل بروز بدھ 2013اورآخر میں جو تحریر تھا وہ سب سے زیادہ ششدر کر دینے والا تھا، لکھا تھا نام قاتلہ “لیڈی ڈاکٹر ن۔ش۔چوہدری،” اس تصویر کو پوسٹ کرنے والے نے تصویر کے اوپر ایک تحریر بھی لکھی تھی کے چند پیسوں کی لالچ میں کیس خراب کر کے لڑ کیوں کو قتل کر نے والی گائنی ڈاکٹرز اس تحریر کو ضرور پڑھیں ۔

اس سے پہلےکہ مزید کوئی نتیجہ اخذ کریں سب سے پہلے ہم خود اس تصویر کا تجزیہ کر لیتے ہیں کہ آیا کہیں یہ ایڈیٹڈ تونہیں، فوٹو شاپ یا کسی دوسرے پروگرام سے اس میں کوئی ردوبدل تو نہیں کیا گیا، اس تصویر کو میں نے جتنے بھی کمپیوٹر پروگرامزمیں کھول کر دیکھا مجھے کہیں سے بھی یہ کاٹی یا ایڈیٹڈ ہوئی نہیں لگی۔ اس قبر کے پچھلی جانب جو قبریں تھیں ان کے کتبے بھی صاف نظر آرہے تھے اور صاف پتا چل رہا تھا کہ یہ تصویر اصل ہے پھر میں نے اس تصویر کو جانچنے کا ایک اور طریقہ نکالا تصویر کو فیس بک پر اپلوڈ کیا اور ساتھ ہی لکھ دیا کہ اگر کوئی اس قبر کے مطلق جانتا ہو تو کمنٹ کرے۔ ابھی اس کوپوسٹ کیے کچھ منٹ ہی ہوئے تھے کہ کسی صاحب نےاس کے نیچے رومن رسم الخط میں “ر ۔کینٹ” لکھ دیا کچھ اور کمنٹس بھی آئے تاہم وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ قبر کہاں پر ہے، کتبے پر لکھی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ لڑکی کی عمر 26سال تھی اور ہوسکتا ہے کہ دو تین سال پہلے ہی اس کی شادی ہوئی ہو۔ یہ تو معلوم نہیں کہ پہلے بھی کوئی بچہ تھا یا جس بچے کی وجہ سے وہ اس لیڈی ڈاکٹر کے ہتھے چڑ ھ گئی کیا وہ زندہ ہے یا نہیں، لیکن اس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس لڑکی کا خاوند یا کوئی دوسرا یعنی باپ بھائی وغیرہ اس دکھ کو بھلا نہ سکا ۔یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ریاست، معاشرہ اور بےحس ادارے اس کو انصاف نہ دلواسکے، اس کے قتل کی تاریخ لکھوانا اور پھر مبینہ طور پر اس ڈاکٹر قاتلہ کا نام لکھوانا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بے بس انسان اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو سنگِ مرمر کے اس کتبہ پر ہمیشہ کے لیے رقم کر گیا ۔

اسے انصاف ملتا بھی کیسے؟ یہ معاشرہ توانسانوں کا کم اور جنگلی درندوں کا مسکن زیادہ نظر آتا ہے جہاں وہ غول در غول پھرتے ہیں۔ ان درندوں کا اپنا اپنا مافیا ہے جو ایک دوسرے کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے ” اس کیس میں بھی سب سے پہلے ڈاکٹر مافیا سرگرم ہوگیا ہوگا۔ لیڈٖی ڈاکٹر کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے ہر ایک نے غلطی مرحومہ یا اس کے گھر والوں کی نکالی ہو گی اور یہ کہا ہوگا کہ یہ لوگ وقت پر ہسپتال نہیں آئے، زچہ و بچہ کی خوار ک اور دوائی کا خیال نہیں رکھا، اسکےگھر والے کام کرواتے تھے، ہوسکتا ہے کہ کوئی خاندانی مرض ہو ۔غرض جتنے ڈاکٹر اتنے ہی ملزمہ کے حق میں دلائل۔ دوسری طرف کتبے کی کہانی تو بالکل الٹ نظر آرہی ہے اگر گھر والے، خاوند ،ساس، سسر، باپ، بھائی ،بہن اتنا خیال نہ کرتے تو وہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو اس طرح قبر پر لکھ کر دنیا کو نادکھاتے، جیسا کہ یہ کہہ کر ہر ایک کو خاموش کردیا جاتا ہے کہ خدا کی یہی مرضی تھی تو کوئی کیا کر سکتا ہے !

اسی طرح ایک اور مافیا ناانصانی کے اس جنگل کو اس بری طرح اپنا مسکن بنائے ہوئے ہے کہ کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور یہ مافیا ہے دولت مند اشرافیہ کا جس کے پاس بے پنا ہ پیسا ہے،وہ ہر شے کی ایک قیمت لگاتے ہیں اور خرید لیتے ہیں. انصاف تو ان کے گھر کی باندی ہے پیسا کم یا نا دینا ہوتو سفارش موجود ہے. اسی طرح اگر مڈل کلاس میں چلے جائیں تو چھوٹے پیمانے پر ہی سہی سارا محلہ مظلوم کے مقابلے میں ظالم کے ساتھ چل پڑتا ہے اور انصاف کے بجائے ظلم کا نشانہ بننےوالےکو صبر اور معاف کر دو کا درس دینا شروع کر دیتا ہے.

بے انصافی کے اس جنگل میں تیسرے قسم کے بھیڑے نما غول قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں کا ہے جو کہ ہر سائل کواوپر سے لے کر نیچے تک ایسے دیکھتے ہیں کے اسے کہاں کہاں سے نوچنا ہے، ملزم ہو یا ملزوم ان کے قریب ان کو جانچنے کا ایک ہی پیمانہ ہےکہ کون کتنی رشوت دے سکتا ہے. انصاف کے لیےعدالتوں کا رخ کریں تو وہاں ایک علیحدہ مافیاموجود ہے جو عدالت میں فیس لینے کے باوجود بھی مقدمے کی پیروی کی ہر تاریخ پہ سائل کی جیب کی طرف دیکھتا ہے اور بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مدعی کی کم اور ملزم کی وکالت زیادہ کر رہا ہے ۔

اب جب اتنے سارے مافیا معاشرے پر قابض ہوں تو پھر لیڈی ڈاکٹر کی مبینہ غفلت کا نشانہ بننے والی مرحومہ کو کیا انصاف ملا ہوگا؟ لواحقین کی داد رسی کس نے کی ہوگی؟ مجبوراً ان کے پاس ایک ہی حل رہ گیا ہوگا کہ قبر کے اس کتبے پر ملزمہ کا نام کند کروا دیا جائے کہ تا قیامت کوئی اس کو مٹا نا سکے اور بروز قیامت خدا کے رو برو فیصلہ ہو تو ثبوت کے طور پر یہ کتبہ بھی پیش باری تعالی ہو ۔

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. MAHMOOD SHEIKH کہتے ہیں

    At least a best step taken to awake this dead society.

تبصرے بند ہیں.