میڈیا، معاشرہ اور ہمارا کردار

754

ہمارے معاشرے میں بہت کچھ ایسا ہے جس کی نشاندہی کرتے ہوئے سمجھ نہی آتی کہ بات کہاں سے شروع کریں اور اگر جیسے تیسے شروع کر ہی لی جائے تو ختم کیسے اور کہاں کریں ۔ گو کہ ہر چیز اور معاملہ روز روشن کی طرح عیاں نظر آ رہا ہوتا ہے مگر پھر بھی اس کے بارے میں بیان کرنا گلے پڑ سکتا ہے۔

آج کل ہر کوئی برملا اظہار کرتا دکھتا ہے کہ زمانہ بہت خراب ہے، فحاشی اور بے راہ روی بہت بڑھ گئی ہے، نوجوان نسل اپنی اقدار، روایات اور حدود بھولتی جا رہی ہے۔ زمانہ خراب ہونے کی جو چیدہ چیدہ وجوہات پیش کی جاتی ہیں ان میں تعلیم و تربیت، گھریلو ماحول، دوستوں کی بیٹھک، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ کا بے دریغ اور غلط استعمال سمیت ایکٹرانک میڈیا سرفہرست ہے۔

ٹی وی پہ چلنے والے اشتہارات کا مرکز تیز طرار، الٹرا ماڈرن دیدہ زیب لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ہر چیز خواہ وہ چائے کی پتی، ٹی وائٹنر، پان سپاری، کینڈی، جوسز، کولڈ ڈرنک، ہیر کلر، کریمز، لوشن، فیس واش، بیوٹی سوپ، ٹوتھ پیسٹ، کوگنگ آئلز، برتن دھونے والا صابن، کپڑے دھونے والا ڈٹرجنٹ، یا چند ہزار کا موبائل فون ہو سب کو بیچنے کے لیے ناچتی گاتی، جلوے بکھیرتی لڑکیوں کا سہارا لیا جائے گا تو ہماری قوم کا کردار و اخلاق بھلا کیوں کر بلند ہو گا؟

چست فینسی لہنگا یا شرارہ گاگھرا پہن کے اٹھلاتی، ادائیں دکھلاتی گلیمرس خواتین جب ضروریات زندگی کی چیزوں کے ساتھ دھڑلے سے اپنی نمائش بھی کریں گی تو کوئی شک نہیں کہ عورت کی عزت و قدر کی باتیں صرف باتوں اور کتابوں تک ہی محدود ہو کے رہ جائیں گی۔

یہ کتنی چھوٹی سوچ اور قابل اعتراض حرکت ہے کہ اشتہارات میں مرد حضرات اگر کچھ اچھا کرتے دکھائے بھی جاتے ہیں تو ان کا مقصد کسی نا کسی حسینہ کو پٹانا اور اس کا منظور نظر بننا ہوتا ہے۔ بجا ہے کہ “وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ” مگر یہ بلکل بھی ضروری نہیں کہ ابن آدم حوا کی بیٹی کو ضرورت کی چیز کے رتبے تک محدود کر دے۔ مردوں کے اس معاشرے میں قصور وار مرد ہی گردانے جاتے ہیں کیوں کہ انھوں نے عورت کو صرف دل بہلانے اور زندگی رنگین کرنے کا سامان سمجھ رکھا ہے مگر ان خواتین کو ہم کیا کہیں جو راضی و بخوشی خود کو پیش کرنے اور اپنی نمائش لگوانے سے ذرا بھی دریغ نہیں کرتیں۔؟

مزید برآں یہ کہ ٹی وی ڈرامے بلا روک ٹوک ہر طرح کے تعلقات اور ٹیبوز کو واضح دکھانے لگے ہیں جن میں اصلاح کا پہلو کم اور انٹرٹینمنٹ کا مواد ذیادہ نکلتا ہے۔ مانا کہ جو بھی دکھایا جاتا ہے وہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہے مگر ٹی وی پہ چلنے والے اشتہارات اور ڈرامے ایسے ہرگز نہیں ہونے چاہیے جسے اپنی فیلمی ممبرز کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے میں ہم شرمندگی محسوس کریں اور بے ساختہ نظریں چرانے اور چینل بدلنے پہ مجبور ہو جائیں۔

ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات سے نکل کر موویز پہ آ جائیں تو حالات اور تشویش ناک نظر آنے لگتے ہیں۔ انتہائی بولڈ ڈائیلاگز اور آئیٹم سونگز کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ اور لڑکیوں کے زیب تن کیے ہوئے لباس کی لمبائی و چوڑائی میں خطرناک حد تک کمی لمحہ فکریہ ہے۔ ماڈرن نزم کے نام پہ زندگیوں میں نظروں کی گستاخی، ظاہری وجود کی نمائش، انسانیت سے عاری رویے، پتھر اور بےحس دل رہ جائیں گے تو پھر تنزلی کا شکار ہوتی سماجی اور معاشرتی اقدار کا گلا کرنا جائز نہیں لگتا۔

مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بڑی حد تک آج کل کا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا فحش اور بولڈ آئیڈیاز کی جیتی جاگتی مثال بن چکا ہے۔ ہر قسم کے غیر معیاری مواد تک جب نوجوان نسل کی با آسانی رسائی ہو گی اور وہ اس سب سے بخوبی مستفید بھی ہوتی رہے گی تو تمیز و تہذیب کو اپنی کم مائیگی پہ لازمی رونا ہی پڑے گا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ میڈیا کی بدولت نوجوان نسل میں ایسے منفی رجحانات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں جو بہت حد تک معاشرے میں بگاڑ کی وجہ بن رہے ہیں۔ تعصب کی عینک اتار کے کھلے دل و دماغ سے دیکھا اور سمجھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ درحقیقت زمانہ خراب نہیں بلکہ انسان خود پراگندہ خیالات و عادات کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ بلاشبہ زمانے سے انسان کی پہچان نہیں بلکہ حضرت انسان سے ہی ہر زمانے کی پہچان بنی ہے۔

نام نہاد شخصی آزادی حاصل کرنے کی جستجو میں مغربی روایات کی تقلید میں اندھا دھن بھاگنا ہمیں منزل سے بھٹکا تو سکتا ہے مگر کبھی بھی نشان منزل نہیں بن سکتا۔ وقت کے دھارے میں بہہ کر کافی کچھ ہماری زندگیوں سے نکل جاتا ہے اور بہت کچھ نیا شامل بھی ہو جاتا ہے۔ یہ دھیان رکھنا کہ جو بھی نیا ہماری زندگیوں میں شامل ہو رہا ہے وہ مثبت ہے یا منفی اور کس حد تک ہماری اخلاقی اقدار سے میل کھاتا ہے یہ سراسر ہماری ذمہ داری بنتی ہے زمانے کی نہیں۔

اپنے گریبانوں میں جھانک کے دیکھنا اور پھر خود اپنی اور اپنے سے جڑے افراد کی اصلاح کی طرف توجہ مرکوز کرنا ہر لحاظ سے معاشرے اور زمانے پہ تنقید کرنے سے کہیں افضل ہے۔

——-ختم شد——

تنزیلہ احمد نے مارکیٹنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے لکھتی ہیں اور سماجی و سیاسی معاملات انکے پسندیدہ موضوعات ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.