جنگ ہونے ہی کو ہے بس۔۔!!

1,786

مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ کے علاقے میں بھارتی سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کے بعد سوشل میڈیا پر پاک بھارت جنگ تقریبا شروع ہونے ہی والی ہے۔ اس سے پہلے کہ بوکھلایا ہوا کوئی بھارتی شہری لفظی گولہ باری سے اپنی ہی چھاتی چھلنی کرے میں بتا دوں کہ پلوامہ حملے میں اب تک چھیالیس جوانوں کی ہلاکت ہوگئی ہے اور یہ گزشتہ تین دہائیوں کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کسی بھی جاندار کی ناحق جان چلے جانا قابل مذمت ہے یہاں تو چھیالیس جیتے جاگتے انسان موت کی وادی میں چلے گئے۔ بات دوست اور دشمن ممالک کی نہیں، بات دہشت گردی اور اس میں ہلاک ہونے والوں کی ہے۔ گزشتہ کئی سال میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان پاکستان نے برداشت کیا اور سیکڑوں فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حملے میں چار جوان شہید ہوئے،لہذا دہشت گردی میں اپنے پیاروں کو کھو دینے کے غم سے پاکستانی اچھی طرح واقف ہیں۔ پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں سراہتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حملے کے فورا ًبعد بھارتیوں کے صبر کی تھیلی ایسے پھٹی کہ سارا گند سوشل میڈیا پر پھیل گیا۔ بھارت نے ہمیشہ کی طرح بغیر سوچے سمجھے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کردیا۔ بغیر کسی تحقیق اور شواہد کے پاکستان پر الزام لگانا خود بھارت اور اس کی حکومت کو مشکوک بناتا ہے۔ ویسے تو بھارت ہمیشہ ہی اپنے کرتوت چھپانے کیلئے پاکستان پر آنکھیں بند کر کے الزام لگا دیتا ہے لیکن اس بار بھارت میں الیکشن مہم زوروں پر ہے تو پاکستان مخالف نعرے لگانے اور ووٹ مانگنے کا ذریعہ تو بنانا ہی تھا۔

یوں تو پاک بھارت جنگ کا تذکرہ بلاوجہ ہی چھڑ جاتا ہے۔ بات ابھی شروع نہیں ہوتی کہ جنگ کے خطرے منڈلانے لگتے ہیں۔ دونوں ممالک اپنے اپنے ایٹم بموں پر کپڑا شپڑا مار لیتے ہیں کہ جنگ ہو نہ ہو تھوڑی دھول مٹی تو صاف ہوگی۔ فضاؤں میں جنگی طیارے قلابازیاں کھانے لگتے ہیں ،لیکن اس بار معاملہ الٹا ہے سوشل میڈیا پر بھارت کی جانب سے آگ کے گولے آرہے ہیں اور پاکستان میں چوکوں اور چھکوں کی برسات چل رہی ہے۔ انڈین میڈیا تاریخ کی بدترین پراپیگینڈا مہم چلارہا ہے اور پاکستانی میڈیا پر صرف پی ایس ایل ہنگامہ آن ہے اور حکومت سعودی مہمان کی خاطر تواضع میں مصروف ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے میچز عوام کے ٹھنڈ پروگرام کی وجہ ضرور ہوسکتے ہیں لیکن یہ ایک طرح اپنی افواج پر عوام کا یقین اور اعتماد ہے، شاید اسی لئے پاکستانی کسی کی گیدڑ بھبھکیوں پر غور کرنا بھی گوارہ نہیں کررہے۔ وہاں سے بیان آتا ہے جنگ شروع کرنے لگے ہیں یہاں سے خاموشی کی صورت میں جواب جاتا ہے کہ یار ٹھہر جا بس آخری اوور رہتا ہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد آواز آتی ہے حملہ ہونے لگا ہے یہاں سے جواب جاتا ہے اچھا یار کردو لیکن جنریٹر آن کرنے کیلئے ہمارے فاسٹ باؤلر حسن علی کو لے جاو۔

پاکستانیوں نے تو یہاں تک منصوبہ بندی کرلی ہے کہ جنگ جیتنے کے بعد کیا کیا تبدیلی آئے گی، سب سے بڑی تبدیلی جو نظر آرہی ہے وہ تو یہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم ہاؤس بھی یونیورسٹی بن جائے گا۔ کچھ لوگوں نے مال غنیمت میں کترینہ کیف کا مطالبہ کیا اور کچھ کو کرینہ کپور چاہئے۔ تحریک انصاف والے سوچ رہے ہیں کہ چلو نیا پاکستان نہ بن سکا نیا ہندوستان ہی بنادیں گے۔ بھارت میں جنہیں اپنی فوج پر ہمارے جوانوں سے زیادہ بھروسہ ہے وہ سوچ رہے ہیں کہ ہارنے کے بعد ہمارے ہاں بھی ڈالر مہنگا ہوجائے گا لہذا کچھ نے تو ڈالر خرید بھی لیا ہے۔ ہزاروں بھارتی لڑکیوں کو خوشی ہے کہ اگر وہ جنگ ہار گئے تو عاطف اسلم اور فواد خان پھر انہی کے ملک کے ہوجائیں گے۔

سیاست میں دلچسپی لینے والے سوچ رہے ہیں کہ اب عمران خان وزیراعظم بن گئے ہیں اگر اب پاکستان جنگ جیت گیا تو کم از کم ہماری پارلیمنٹ کی دیواروں پر شلواریں تو کوئی نہیں لٹکائےگا اور نہ ہی دھرنا دینے والا کوئی ہوگا۔ کچھ پنجابیوں کو اس بات کی خوشی ہے کہ جنگ کے بعد ہم پین دی سری کو پورے ہندوستان کی قومی گالی قرار دے دیں گے۔ یہ بھارتی بھی نہ کبھی اچھا سوچ ہی نہیں سکتے۔

یہ تو ساری باتیں ہوگئیں پاکستان کے جیتنے کی لیکن میں سوچ رہا تھا کہ جنگ کوئی بھی جیتے یا ہارے عام عوام کو کیا ملے گا؟ وہاں کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک نوجوان مارا جاتا ہے اور وہ شہید برہان وانی صرف ایک نام ہی نہیں بلکہ تحریک بن جاتا ہے لیکن پاکستان کی پولیس دن دیہاڑے گولیاں مار کے نہتے شہریوں کو قتل کردے گی اور تحریک تو دور کی بات ہے کوئی لانگ مارچ تک نظر نہیں آٓئے گا۔ جب بھارت میں ایک ریپ ہوتا ہے تو احتجاج، لانگ مارچ، بڑے بڑے فیصلے آتے ہیں لیکن پاکستان میں ریپ کیسز کے فیصلے آتے آتے بھی نہیں آتے بلکہ کیسز دبا دیے جاتے ہیں۔

جنگ سے پہلے عدالتی فیصلے اور ان کا معیار دیکھ لو، سیاستدانوں کا حال دیکھ لو، یہاں ڈاکٹرز علاج نہیں موت بانٹتے ہیں، گورنمنٹ ملازم صرف حکومت کو چھوڑ کر باقی سب کا ملازم ہوتا ہے۔ ملاوٹ مافیا اتنی ملاوٹ کرتا ہے کہ اصل کہیں نظر ہی نہیں آتا۔ میڈیا ہاوسز کی حالت اتنی پتلی ہے کہ لکھنے سے بھی قاصر ہوں۔ لہذا جنگ کوئی بھی جیتے یا ہارے انہیں ملے گا کیا؟ کچھ بھی نہیں صرف مسائل کا گڑھ !!۔۔۔ دو ایسے ممالک جن کے ہاں مسائل کےانبار ہی انبار ہیں انہیں مزید مسائل نہیں پیدا کرنے چاہئیں۔

جنگ دنیا میں کہیں بھی ہو اس کا ایک ہی مطلب ہے انسانی جانوں کا ضیاع،اموات اور صرف تباہی ہی تباہی لہذا یہ نہ ہی ہو تو بھلا ہے۔ پاکستان امن کی خواہش رکھتا ہے اور یہ ہرگز ہماری کمزوری نہیں، نہ اسے کمزوری سمجھنا چاہئے۔ مودی جی کو بس اتنا پیغام دینا ہے کہ وہ بے شک اپنی چوڑی چھاتی کی وجہ سے ضرور جانے جاتے ہوں گے لیکن ہمارا وزیراعظم چھاتی کے ساتھ ساتھ بڑے جگر والا بھی ہے اور جنگیں ہمیشہ چھاتیوں سے نہیں جگر سے لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ جنگ کا نعرہ لگانے سے پہلے یہ یاد رکھئے گا کہ جنگ پھولوں کو راکھ اور معصوموں قہقوں کو ماتم بنا دیتی ہے۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.