خان صاحب کا مت انتظار کریں مدنی بن جائیں

2,300

اگر آج سے 70 برس پہلے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی کوشش شروع ہوگئی ہوتی تو آج ہم منزل کو حاصل کرچکے ہوتے، مگر بد قسمتی سے شروع میں آنے والے حکمران پاکستان کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں اور بعد میں آنے والے اپنے اور اپنے خاندان کو مستحکم کرتے کرتے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے . اب اگر ستر برس کےبعد عمران خان صاحب نے عزم کیا ہے کہ وطن عزیز کواس کی تخلیق کے مقصد کے عین مطابق ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنایا جایا گا تو اب صورتحال یہ ہے کہ اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے اس بات کے منتظر ہیں کہ کب اسلامی فلاحی ریاست وجود میں آئے اور پرائے (پی ٹی آئی مخالفین) گھات لگائے اس انتطار میں ہیں کہ کب خان صاحب کوئی غلطی کریں اور کب وہ طنز کےتیر برسائیں ۔

غور طلب امر یہ ہے 70 برس کے بگاڑ کو اکیلے کپتان پانچ برس میں ٹھیک کرپا ئیں گے؟؟؟ ، یہاں پر مولانا طارق جمیل صاحب کا ایک اینکر کو دیاگیا جواب نقل کرتا ہوں کہ ہم نے اگر اس سلسلے میں 33 نمبر بھی حاصل کرلیے تو یہ کامیابی ہوگی.یعنی پانچ سال کے بعد بھی 67 فیصد صورتحال ریاست مدینہ کی طرز پر نہیں ہوگی ۔ ہم میں سے اکثریت کی حالت یہ ہے کہ ہم ہر روزصبح سے شام تک زندگی سنت کے خلاف گزارتے ہیں اور رات کو خلاف سنت سو جاتے ہیں ۔ صبح اٹھتے ہی ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ریاست مدینہ وجود میں آچکی ہو۔

میری تمام اہل وطن سے عاجزانہ التماس ہے کہ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ارض پاک مدنی ریاست بن جائے تو ہم سب کو خان صاحب کا انتظا ر کرنے کی بجائے خود کو مدنی بنانا ہوگا، یعنی وہ صفات جو اہل مدینہ کی تھیں وہ اپنے اندر پیدا کرنا ہوں گی۔مثال کے طور پر ہم سب عہد کر لیں کہ ہم جھوٹ نہیں بولیں گے ، سچ بولیں گے ، دھوکہ نہیں دیں گے، فراڈ نہیں کریں گے ،رشوت نہیں لیں گے، کسی پر زیادتی نہیں کریں گے ، ایثار کریںگے تو ریاست مدینہ کا سفر بہت جلد مکمل ہوجائے گا کیونکہ یہ سب ہی تو ریاست مدینہ میں ہور ہاتھا۔

چلتے چلتے ایک آخری گزارش کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کواللہ رب العزت نےعزت دی ۔ ہم لوگ گاؤں کے ٹاٹ کے سکولوں سے پڑھتے ہوئے اسلام آباد اور لاہور کے شہری بن گئے ہماری حالت بدل گئی ،مگر ہمارا گاؤں آج بھی گاؤں ہے ، ہمارے سکول میں آج بھی بچے بنیادی سہولیات ( آج کے حساب سے) محرو م ہیں۔

میں آپ کو مخدوم بھٹی کی مثال دیتا ہوں ، بھٹی پاکستان کے تاریخی شہر بھیرہ کے مضافات میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں علی پور سے تعلق رکھتا ہے یہ ایک عام سا سکول ٹیچر تھا، مگر آگے بڑھنے کی جستجو تھی، یہ کوشش کرتا رہا اور کوششیں رنگ لائیں ،یہ آسٹریلیا جا پہنچا اور آج اس کےیورپ میں اپنے دوسکولز ہیں، مگر یہ بلندی پر جاکر زمین کو نہ بھولا اور حکومت پر طعن و تشنیع کرنے کی بجائے یہ خود آگے بڑھا اور علی پور میں اپنے گاؤں کی ترقی کے لیے اپنی مدد آپ کےتحت فلاحی مرکز کی بنیاد ڈالی ۔ اگر ہم اپنے عہدے کا جائز استعمال کرتے ہوئے مخدوم بھٹی کی طرز پر اپنے پنڈ کو ترقی دینے کی کوشش کریں تو بہت سارے مسائل ختم ہوجائیں گے۔ بصورت دیگر بقول پروین شاکر :-

ہم نئے آنسووں کے ساتھ ——- روتی بہار کو خوش آمدید کہیں گے

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ ایکسپریس اور جسارت نیوز میں بلاگز لکھتے ہیں ،فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    بقول شاعر ( معذرت کے ساتھ شاعر کا نام بھول گیا ہوں) کچھ کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں ۔۔۔ تجھ سے ملنا خوشی کی بات صحیح تجھ سے مل کر (مگر )اداس رہتا ہوں۔۔رجحانات ،تصورات و خواہشات مثبت ہوں تو بہتر نتائج کی توقع بر محل۔۔مایوسی گناہ ہے پر اپنی قوم کی پچھلے چھ دہائوں سے حالت دیکھ کر (خاکم بدہن) امیدوں کے چراغ بجھتے نظر آتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.