بہتر معاشرہ بنانے کا نسخہ

741

میرا نام زید ہے۔میری عمر چار سال ہے۔میں آج کے جدید دور کا ایک باشعور بچہ ہوں۔میرے والدین مجھے ضروریا ت زندگی مہیا کرنے کے لیے دن رات محنت کررہے ہیں۔ پچھلے تین سال سے میرے پاس آئی فون اور ٹیبلٹ ہے۔ میں ویڈوز وغیرہ خود ڈاؤن لوڈ بھی کر لیتا ہوں اور زیادہ تر وقت دیکھتا رہتا ہوں۔ ماما بھی خوش ہیں کہ میں مصروف رہتا ہوں اور وہ بھی گھر کے کام اور ڈرامے وغیرہ سکون سے دیکھ لیتی ہیں۔ مجھے زندگی کی تمام سہولیات میسر ہیں۔پچھلے ڈیڑھ سال سے میں سکول بھی جارہاہوں۔ مجھے سکول سے اب تھوڑا تھوڑا ہوم ورک ملتا ہے جسےمیں نہیں کرتا تو میری ماما مجھ سے فون لے لیتی ہیں جس پر میں بہت زیادہ روتا اور چیختا ہوں۔کارٹون اور گیمز کے بغیر مجھے زند ہ ہی نہیں رہنا آتا۔ ٹیچر ماما سے شکایت کرتی ہیں کہ میری ننید پوری نہیں ہوتی۔میرا بھائی جو بارہ سال کا ہے وہ اپنی اسائنمنٹس بنانے کے لیے دن رات فون استعمال کرتاہے اور بات بھی بے ادبی سے کرتا ہے۔زبان بھی بری استعمال کرتا ہے۔آئے روز سکول سے بھی شکایات آتی ہیں۔

یہ ایک گھر نہیں تقریبا ًستر فیصد گھروں میں والدین کو اسی طرح کی صورت حال کاسامنا ہے کہ بچے بات نہیں مانتے۔ درحقیقت ہم نے بچوں کو سہولیات زندگی مہیا کرنے کی تگ و دو میں ان کی تربیت کے بنیادی فرض کو نظرانداز کر دیا ہے۔والدین ،اساتذہ کرام اورمیڈیا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا تے ہیں۔دوسری طرف ہمارے دین میں عورت پر معاش کی ذمہ داری نہ ڈالنے کی بنیادی وجہ بچے کی تربیت ہے۔

تقدیر امم کی کتابت کا سلسلہ افراد سے وابستہ ہے اور افراد کوقوم میں ڈھالنے کے لیے سنجیدگی سے لائحہ عمل طے کرناپڑتا ہے۔اس کے لیے مرکزی کردار والدین، اساتذہ اور معاشرے کا ہے۔ضروری ہےکہ ہر اکائی اپنا فرض دیانتداری سے نبھائے۔ہم مسائل کی نشاندہی تو ہمیشہ ہی کرتے ہیں ۔آئیے آج ان کے حل کے لیے چند تجاویز پر عمل کریں تاکہ ایک بہترین قوم وجود میں آسکے۔والدین اولاد کے لیے سہولیات زندگی کی بجائے ضروریات زندگی کا بندوبست کریں اور انہیں وقت دیں۔ ان کے مسائل سنیں، ان کی توجہ مثبت سمت مبذول کروائیں، ان کے ساتھ ڈرائینگ کریں، باہر لے جائیں، ان کے ساتھ مل کر اپنے محل کو صاف کریں، پارک وغیرہ کی صفائی کا خیال رکھیں۔

ان کی عام بات بھی توجہ اور انہماک سے سنیں۔کمپیوٹر اور اس کے خاندان سے دور رکھیں،آپس کے اختلافات ان کے سامنے ظاہر نہ کریں،ان کے سامنے اساتذہ کرام کو، معاشرے کو ،رشتہ داروں ،سیاستدانوں کو، کسی کو بھی برابھلا نہ کہیں،کسی کا بھی مذاق نہ اڑائیں، غیبت نہ کریں۔ باہر اگر سڑک پر کسی سے زیادتی ہو جائے تو برداشت کا رویہ اپناتے ہوئے معاف کر دیں۔زبان کااستعمال احتیاط سے کریں ۔اساتذہ کرام اپنے فرائض منصبی کو پہچانتے ہوئے اوربچے کے مسائل کوسمجھتے ہوئے اس کی بات کو اہمیت دیں اور اس کی درست سمت رہنمائی کریں۔اس کو یقین دلا دیں کہ وہ بہترین کام کرسکتا ہے۔یہی دراصل معاشرے کا نقطہ آغاز ہے۔

فرد سے قوم تک کا راستہ دشوار ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔آئیےاپنی اپنی سطح پر اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور افراد کی ایسے تربیت کریں جو اپنے اپنے دائرہ کار میں بہترین معاشرہ تشکیل دیں، جو دھوکا نہ دیں، ملاوٹ نہ کریں، رشوت نہ لیں، جو کیمرے کی آنکھ کے بجائے صرف اپنے اللہ کی محبت کے حصار میں حرام سے بچیں۔ آئیےبارش کا پہلا قطرہ بنیں اور آج سے ہی اپنے فرائض کی دیانتداری سے انجام دہی کے لیے کمر کس لیں۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.