صحافت، دورِ ایوبی سے دورِ عمرانی تک

970

یہ سات اکتوبر 1958ء کی رات تھی جب پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا نےاسمبلیاں تحلیل اور سیاسی جماعتیں کالعدم قرار دے کر ملک کی تاریخ کا پہلا مارشل لاء لگایا اور اس وقت کے آرمی چیف ایوب خان کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ایوب خان نے 1962ء میں پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس (پی پی او) کے ذریعے صحافت کو اپنا تابع کرنے کی بھر پور کوشش کی، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی صحافت ہے۔ پہلے صحافتی اداروں کو مالی بحران میں مبتلا کیا گیا پھر سرکاری اشتہارات یا تو بند کر دیے گئے یا پھر انکے ذریعے اداروں کو زرد صحافت پر مجبور کیا گیا۔صحافتی اداروں کو قومیالیا گیا، سرکش صحافیوں کو اپنے ادارے بند کرنا پڑے۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا دور شروع ہوتا ہے۔ کہنے کو تو آمر رخصت ہو جاتا ہے لیکن صحافت کیلئے آمریت برقرار رہتی ہے۔1964ء میں صدر ایوب کے ہاتھوں بنے ہوئے نام نہاد خود مختار ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ کو جمہوری حکومت نے بھی اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔صحافتی اداروں کے اشتہارات بند کرنے ،روزنامہ ڈان ، روزنامہ جسارت اور دیگر اخبارات کے مدیروں کی گرفتاری سمیت صحافت کے خلاف استحصالی ہتھکنڈے برقرار رہے۔

اس کے بعد ضیاءالحق کا دور شروع ہوتا ہے جس میں صحافت پر جبر کے پہاڑ توڑے گئے۔ اخبارات میں بدترین سنسرشپ کا نفاذ کر دیا گیا۔ضیاءالحق نے ایوب خان کے پی پی او میں مزید ترامیم کر کے اسے ریوائزڈ پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس (آر پی پی او) کا نام دیا۔ اسکے تحت حکومت کے خلاف خبروں (چاہے وہ حقائق پر مبنی ہوں) کی اشاعت پر صحافیوں کو سزائیں دی گئیں۔صحافت میں من پسند شریعت کا نفاذ کیا گیا۔ جبر کی پالیسیوں کے خلاف چار سو سے زائد صحافیوں نے گرفتاریاں پیش کیں۔ مزید گرفتاریوں کے ڈر اور صحافیوں کو خوف میں مبتلا کرنے کیلئے صحافیوں کو کوڑے مارے گئے انہیں پابند سلاسل بھی رکھا گیا اور صحافت کا رستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

ضیاءالحق کی حکومت کےبعد کےجمہوری ادوار بھی صحافت کیلئے ریلیف کا سبب نہ بن سکے۔من پسند اور منظور نظر صحافیوں کو نوازا جاتا رہا اورتنقید کرنے والوں کو معاشی محاصرہ بندی اور حکومت کے تقریبا بائیکاٹ کا سامنا رہا۔1997ء میں نواز شریف کی حکومت نے بغیر کسی منصوبہ بندی اور قانون سازی کےنیشنل پریس ٹرسٹ کے بیشتر اخبارات کی پرائیویٹائزیشن کے ذریعے ہزاروں صحافیوں کو بیروزگار کر دیا اور اس کے اثاثوں کی اربوں روپے کی پراپرٹی کا بھی ضیاع کیا گیا۔نوے کی دہائی میں ہی نواز شریف حکومت کی طرف سے صحافتی اداروں کے ایڈیٹرز کی گرفتاریاں، نقص امن کیسزمیں فرد جرم کی عائدگی،سنسر شپ کے نت نئے طریقوں کی بدولت ایک صفحاتی اخبارات کی اشاعت جیسے میڈیا مخالف اقدامات صحافت کی تاریخ کے ان مٹ نقوش ہیں۔

مشرف کا دور حکومت بھی صحافت کیلئے سازگار ثابت نہ ہو سکا۔ نائن الیون کے بعد عالمی سطح پر بھارت کا پاکستان مخالف ایجنڈا اپنے عروج پر تھا جسکا مقابلہ ضروری تھا جس کیلئے صحافیوں نے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔ 2002ء میں پیمرا جیسا ریگولیٹری ادارہ قائم کیا گیا جس نے بے شمار نجی چینلز اور ایف ایم ریڈیو کے لائسنز کا اجراء کیا گیا۔ ضیاءالحق مائنڈ سیٹ کے برعکس میڈیا میں لبرل ازم کی بنیاد رکھی گئی،لیکن جونہی صحافت تنقید کرنے پر آئی تو حکومت کو صحافتی اداروں کا طرز صحافت گراں گزرنے لگا۔ 2007ء کی وکلاء تحریک میں حکومت مخالف رپورٹنگ کی وجہ سے آزادی صحافت کا پھر سے گلا گھونٹنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ الیکٹرانک میڈیا کے مختلف چینلز پر مکمل پابندیوں سمیت پرنٹ میڈیا کوبھی جزوی پابندیوں کا سامنا رہا۔ صحافیوں کو مختلف طریقوں سے خوفزدہ اور زدو کوب کیا گیا لیکن صحافت نے آزمائش کی یہ منازل بھی طے کر لیں۔

اس کے بعدشروع ہونے والے جمہوری دور اور اس کے تسلسل میں ریاست کے چوتھے ستون کا بنیادی کردار ہے لیکن پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے بعدمسلم لیگ ن کی حکومت میں پھر سےصحافت کا سیاست کیلئے بے دریغ استعمال کیا گیا۔ جمہوریت کے پرانے طرز حکمرانی کی طرح پھر سے من پسند اداروں اور صحافیوں کو نوازا جانے لگا۔صحافیوں پر مقدمات کرائے گئے۔ ڈیوائیڈ اینڈ رول جیسے قبیح کردار کی بدولت صحافت کو سیاسی پارٹیوں کی طرح منقسم کیا گیا۔ حکومت کسی ادارے کا علی لا علان بائیکاٹ جبکہ دیگر من پسند اور حکومتی بیانیے کی ترویج کرنے والے اداروں پر اشتہارات سمیت دیگر نوازشات کی بارش کرتی رہی۔ان تمام تر اقدامات کی بدولت مسلم لیگ ن کا دور حکومت ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جب پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صحافی اپنے اداروں کے کم جبکہ سیاسی جماعتوں کے ترجمان زیادہ لگتے تھے۔

اس کے بعد عمرانی دور کا آغاز ہوتا ہے جس میں اقتدار سنبھالتے ہی نو منتخب وزیراعظم نے ملک کے نامور صحافیوں اور میڈیا مالکان کے ساتھ یکے بعد دیگرے مختلف ملاقاتیں کیں اور آمرانہ طرز پر سب سے پہلے صحافت کو کنٹرول کرنا ضروری سمجھا، بقول جالب

بولتے جو چند ہیں۔۔۔ سب یہ شرپسند ہیں

واجبات روکنے سمیت سرکاری اشتہارات میں غیر اعلانیہ بندش کر دی گئی، سوشل میڈیا کے ذریعے منظم طریقے سے صحافیوں کے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا،پھر مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے صحافیوں کی اداروں سے برطرفیاں کی گئیں۔ابتک ہزاروں میڈیا ورکرز بے روزگار کر دئیے گئے ہیں جو کہ تاحال سراپا احتجاج ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کی بدولت نجی اداروں کے علاوہ سرکاری نشریاتی ادارے اور نیوز ایجنسیزپر بھی پرائیویٹائزیشن اور ڈاؤن سائزنگ کی تلوار لٹک رہی ہے اور ان کے ملازمین کو بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ لیکن صحافیوں کا صرف میڈیا مالکان کے خلاف احتجاج حقائق پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔میڈیا میں جبری برطرفیوں اور اچانک ایسے خوفناک معاشی بحران سے موجودہ حکومت کسی صورت بری الذمہ قرار نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کی طرف سے خاموش تماشائی والا کردار مجرمانہ ہے جس سے شکوک وشبہات جنم لے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اگر صحافتی اداروں میں مداخلت نہیں کر رہی تو اس کی بہتری کیلئے بھی کوئی اقدامات نہیں کر رہی۔ ریاستی اداروں کے معاشی خسارے کو لیکر پریشان حکومت ریاست کے چوتھے ستون کو معاشی موت مارنے کے درپے کیوں ہے؟ صحافیوں کو چاہیے کہ دھڑوں کی صورت میں احتجاج کرنے کی بجائے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور تیزی سے ترقی کرنے والی انڈسٹری میں اچانک اور مصنوعی بحران کے محرکات کی پردہ پوشی کیلئے متعلقہ اداروں سے تحقیقاتی کمیشن اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا پرزورمطالبہ کریں۔

بے شک صحافت کو پھر سے ایک کڑی آزمائش کا سامنا ہے جسکا مقابلہ اتحاد اور ثابت قدمی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔یہ مقابلہ صحافی خود سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی کرنے کی بجائے صحافت کی ترجمانی کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں۔ قیام پاکستان سے اب تک صحافت کو پابند سلاسل کر کے، غداری کے الزامات لگا کراور سرعام سڑکوں پر گولیوں سے چھلنی کر کے اس کا گلا گھونٹنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔لیکن جیسا کہ حامد میر صاحب نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ “صحافیوں پر پابندیاں لگانے والے، انہیں جیلوں میں ڈالنے والے اور انہیں کوڑے مارنے والے گمنامی کے اندھیروں میں گم ہو گئے لیکن صحافی آج بھی زندہ ہیں” یہی نوشتہ دیوار ہے جو کہ حکومت وقت کو بھی پڑھ لینا چاہیے۔

ا

احتشام اللہ ایک نوجوان لکھاری ہیں جو حالات حاضرہ اور سیاسی پیش رفت پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔۔۔ بلاگز میں ذاتی آرا کا اظہار کرتے ہیں، جس کا کسی سیاسی جماعت یا ادارے کی راۓ سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.