حج اخراجات میں ہوشربا اضافہ …!

1,349

حج اسلام کے پانچ فرض ارکان میں سے ایک عظیم رکن اور پوری امت کے لیے ہمہ گیر عبادت ہے۔ حج ادا کرنے والے اہل ایمان علاقوں ، رنگ ،نسل ، قبائل و برادریوں سے بالا تر ہو کر، دنیاوی اور ظاہری زیب وزینت کو چھوڑ کر ایک طرز کے احرام میں ملبوس ہوکر یہ اقرار کرتے ہیں کہ ’’ اے اللہ حاضر ہوں ، میرے اللہ میں حاضر ہوں ، حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ،میں حاضر ہوں۔یقینا تعریف سب تیرے ہی لیے ہے ، نعمت سب تیری ہی ہے اور ساری بادشاہی تیری ہے تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔ حجاج کرام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق وارفتگی اور دیوانگی سے حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر اہل ایمان اپنے سینے میں حج بیت اللہ اور در مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی تڑپ رکھتا ہے ، مگر پاکستان میں روز بروز بڑھتی مہنگائی نے غریب پاکستانیوں کے لیے اس عظیم سعادت کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔

گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ء کی باضابطہ منظوری دے دی، جس میں حجاج کرام کو کسی قسم کی سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رواں سال ایک لاکھ 84ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے جس میں سرکاری حج کوٹہ 60 فیصد، جبکہ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کا کوٹہ 40فیصد رکھا گیا ہے ۔ اس طرح ایک لاکھ 7 ہزار پاکستانی سرکاری سکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے جبکہ 76 ہزار سے زائد عازمین پرائیویٹ سکیم کے تحت سعودی عرب جائیں گے۔ سرکاری سکیم کے تحت حج2019 ء کے لیے درخواستیں 20 فروری سے وصول کی جائیں گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان اور معاشی بدحالی ،ڈ الر اور ریال کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے حج اخراجات میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے ۔

حکومت نے حج اخراجات کو دو زونز میں تقسیم کیا ہے ، جس کے مطابق شمالی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے اور جنوبی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 27 ہزار 975 روپے ہوں گے۔ واضح رہے کہ حج 2018ء میں سرکاری سکیم کے تحت اخراجات 2 لاکھ 80 ہزار روپے سے 2 لاکھ 92 ہزار روپے تک تھے ،اس طرح رواں سال حج اخراجات میں تقریباً ایک لاکھ پینتالیس ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ وزارت حج کے مطابق اس سال بھی 80 سال سے زائد عمر کے پاکستانی شہر ی بغیر قرعہ اندازی حج ادا کر سکیں گے، جبکہ 3 سال سے مسلسل ناکام رہنے والے 10 ہزار عازمین بھی بغیر قرعہ اندازی حج پر جاسکیں گے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر پاکستانی حجاج کو اولڈ منیٰ میں ٹھہرانے کی کوشش کی جائے گی۔سعودیہ میں پاکستانی حجاج کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے گاڑیاں صرف 2015ء سے 2019ء کے ماڈل کی ہوں گی جبکہ رہائش کے لیے عمارتوں میں کم از کم 2 لفٹیں، انٹرنیٹ، وائی فائی کی سہولت فراہم کی جائیگی ۔ پاک سعودی معاہدے کی روح سے پاکستانی حجاج کو ای ویزہ دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ 2019ء کے حج کوانتظامات کے لحاظ سے مثالی بنایا جائے گا ۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب پرائیویٹ ٹورزآپریٹرز غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ پرائیویٹ ٹوورآپریٹرز کو چاہئے کہ غلط بیانی کی بجائے حجاج کو حقائق سے آگاہ کریں ، فاصلہ جتنا ہو اتنا ہی بتایا جائے اور حجاج کرام کی تربیت درست اندازمیں کی جائے ۔ جبکہ علمائے کرام کو مساجد میں حجاج کی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔

بلاشبہ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔ کسی بھی مسلمان کے سفر حج کا مقصد ایک فرض ادا کرنا ، اپنے ربّ کو راضی کرنا، گناہوں کی معافی مانگنا ، اپنے نفس کو پاک کرنا اور اب تک کی زندگی میں کئے جانے والے اعمال پر توبہ کرکے باقی عمر اسلامی احکامات کے مطابق گزارنے کا عزم کرنا ہوتا ہے۔ مگر صد افسوس کہ گزشتہ دور حکومتوں میں حج جیسے مقدس فریضے کی انجام دہی میں بھی حکومتی شخصیات نے کرپشن کے ریکارڈ بنا کر اور حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کرکے کرپشن کی بدترین مثالیں قائم کی ۔حج پہلے ہی سخت جدوجہد اور مشقت والی عبادت ہے ، حکومتی بد انتظامی کے باعث حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کیا جاتا رہا ۔

موجودہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے حج 2019ء میں حاجیوں کی سہولیات کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے اعلانات تو کئے جارہے ہیں مگر حج اخراجات میں ہوشربا اضافہ کرکے غریب اور متوسط طبقے کے پاکستا نیوں کے لیے مشکلات پیدا کردی گئیں ہیں ۔ جبکہ ضروری تھا کہ بھر پور کوشش سے حج اخراجات میں کمی لائی جاتی تاکہ سینے میں اللہ تعالیٰ کے گھر اور در مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی تڑپ رکھنے والے غریب پاکستانی بھی حج کی سعادت سے محروم نہ رہتے اور فریضہ حج ادا کرسکتے ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.