مرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن

894

دروازہ زوردار آواز کے ساتھ کھلا وہ نہایت بے بسی اور غصہ کی حالت میں اندر داخل ہوا اور پلنگ پر بیٹھ گیا۔ اس کی امی نے پوچھا “کیا ہوا؟” وہ تو جیسے اسی انتظار میں تھا۔ “کیا قصور ہے ہمارا؟” وہ بارہ سال کا بچہ اپنی امی سے تاسف سے پوچھ رہا تھا۔اس کی امی نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔”تم کہاں تھے؟ میں نے تو تمہیں کام سے بھیجا تھا۔وہ اضطراب کی حالت میں اٹھا اور اپنی امی کے قدموں میں بیٹھ گیا۔”بتائیے نا! کیا قصور ہے ہمارا؟ یہ کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح آزادی سے جینا چاہتے ہیں؟ یا یہ کہ ہم بھی دوسرے بچوں کی طرح اسکول جانا چاہتے ہیں؟” ۔یہ کہتے ہوئے اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اپنے اسکول بیگ کی طرف دیکھاجو نجانے کتنے ہی عرصے سے بند پڑا تھا۔ ”یایہ کہ ہم بھی اپنی جنت نظیر وادی کے حسن کو اسی طرح محسوس کرنا چاہتے ہیں جیسے باہر سے آنے والے کرتے ہیں؟۔ ان کے لیے یہ وادی جنت تو اس جنت کے باسیوں کے لیے یہ کیوں مقتل بنادی گئی ہے؟” ۔اس کی آواز بھرا گئی۔

آپ کو پتا ہے آج کیا ہوا؟ اس نے اپنی امی کی طرف دیکھا جو دکھ و یاس کی مورت بنی بیٹھی تھیں۔ “آ،آ،آج۔” اس کی آواز اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔” درندوں نے پیلیٹ گن سے ایک چھوٹی سی بچی کی آنکھ ضائع کردی۔اور بھی بہت لوگ زخمی ہوگئے۔میں ابھی دیکھ کر آرہا ہوں۔” اس کی امی کے آنسو بہہ نکلے۔” کل بھی جب میں جارہا تھا تو میں نے دیکھا دو تین بھارتی فوجیوں نے ایک بچےسے اسکا بستہ چھین کر پھینک دیا ، پہلے اسے مارتے رہے پھر اسے گولی ماردی۔اس کی بہن اس کے ساتھ تھی اسے اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔” وہ غم سے رو پڑااور اپنی امی کے گھٹنوں پر سر رکھ دیا۔ اس کی امی کے پاس خاموشی کے سوا کوئی جواب نہ تھا۔انھوں نے اپنا ہاتھ بے بسی سے اس کے سر پر رکھ دیا۔

اپنی امی کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر کے وہ پھر گویا ہوا۔ “امی کسی کو نظر کیوں نہیں آتا کہ ہم کشمیری کیا چاہتے ہیں؟ پاکستان کے یوم آزادی پر گھر گھر لہراتےسبز ہلالی پرچم، شہیدوں کی پاکستانی پرچم میں لپٹی میتیں، ہر جگہ “پاکستان زندہ باد” اور “پاکستان سے رشتہ کیا،لاالہ الااللہ” کے نعرے کسی کو نظر کیوں نہیں آتے۔ کیا اقوام عالم اندھی اور گونگی ہو گئی ہیں؟۔ کوئی ہمارے لیے آواز نہیں اٹھاتا۔” اس کی آواز کنوئیں سے آتی محسوس ہوئی۔اب تو بھارت نے وادی میں سبز کپڑا خریدنے اور بیچنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔لیکن اچھا ہوا پابندی لگا دی۔ پاکستانی بھی تو ہمارا احساس نہیں کرتے۔ ہمارے لیے آواز نہیں اٹھاتے ،دو دن پہلے رام داس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ہم دوستوں کو بہت ماراکہہ رہا تھا بہت پاکستان پاکستان کرتے ہو۔ بلاؤ اسے کہاں ہے تمہارا پاکستان۔ انہیں کوئی چنتا نہیں تمہاری۔” وہ دل برداشتہ ہوکر گھرسے نکل گیا اور گھر کے قریب دریائے نیلم کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھ کر دوسرے کنارے پر موجود آزاد کشمیر کی وادی کو حسرت سے دیکھنے لگا۔

کچھ ہی وقت گذرا تھا کہ اسے کچھ لوگوں کی آہٹ محسوس ہوئی۔ وہ سہم گیاکہ کہیں بھارتی فوجی نہ ہوں۔ڈرتے ڈرتے اس نے پلٹ کر دیکھا تو کچھ غیر ملکی سیاح اس کی طرف آرہے تھے۔ قریب پہنچ کر انھوں نے اپنے گائیڈ، جو ایک کشمیری تھا،کو خوبصورتی سے پیک کیا ہوا ڈبہ دیکر کچھ کہا۔۔۔گائیڈ نے وہ ڈبہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہاکہ”یہ سیاح یہاں آنے سے پہلے پاکستان گئے تھے۔ وہاں مختلف مقامات کی سیر کے دوران انھیں کچھ اسٹوڈنٹس ملے تھے جنھوں نے یہ معلوم ہونے پر کہ یہ لوگ مقبوضہ کشمیر بھی جائیں گے انھیں یہ دیا تھا کہ یہ کسی کشمیری مسلمان بچےکو دے دیجیے گا۔ یہ سن کر اس نے جھپٹ کرڈبہ لے لیااورالٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ سیاح آہستہ آہستہ اس سے دور ہوتے جارہے تھے۔ وہ بے چینی سے ڈبہ کھولنے لگا۔ ڈبے کے اندر نفاست سے تہہ کیا ہوا پاکستان کا جھنڈا رکھا ہوا تھا ساتھ ہی ایک پرچہ پر لکھا ہوا تھا

“مرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن
ستم شعاروں سے تجھ کو چھڑائیں گے ایک دن۔”
ان شاءاللہ

اس نے فرطِ محبت سے جھنڈے کو چوما اور ایک اونچے پتھر پر کھڑے ہوکر لہرانا شروع کردیا کہ اچانک گولی چلنے کی آواز سنائی دی اور وہ وہی گر پڑا۔ ہوا میں لہراتےسبز ہلالی پرچم نے اس کے مردہ جسم کو ڈھانپ لیا۔ ایک بار پھر بھارتی سورماؤں نےاک خطرناک آتنگ وادی کو مار کر بہادری کی مثال قائم کردی۔لیکن اب اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور سکون تھا کیونکہ پاکستان کی جانب سے آنے والی ہوائیں اسے آزادی کا پیغام دے رہیں تھیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.