تصویر کا دوسرا رخ

1,063

آج ہمارے معاشرے کے گوناگوں مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ نوجوان نسل کی تعمیری رہنمائی کافقدان ہے جس میں کلیدی کرداردیگر اسباب کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ اور تعلیمی نظام کا بھی ہے۔ وطن عزیز میں طلبا کی تعلیم و تربیت اور ان کی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لیے صحیح معنوں میں ایک بھی ٹیلی ویژن چینل نہیں ہے۔ تفریح کے نام پر قوم کو مادیت پرستی کی طرف دھکیلا جارہا ہے ۔دوسری طرف ہماراتعلیمی نظام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں پر مشتمل ہے۔ سرکاری سکولوں کی حالت زار سب کے سامنے ہےاور آجکل پرائیویٹ سکولوں پر تنقید کا سلسلہ بھی زبان زدِعام ہے۔ ان کو آف شور کمپنیاں بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ فیسوں کے معاملات پر ذرائع ابلاغ کے چرچے، ٹاک شوز، بحث و مباحثے، بیٹھکیں ہمارے طلبا کے ذہنوں کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ ان سے قوت فیصلہ اور بھروسہ و اعتماد چھین کر بدتہذیب بنا رہے ہیں۔

اعدادو شمار، جمع تفریق ، ضرب تقسیم سے قطع نظر ایک عام شہری کی حیثیت سے میری اہل اقتدار اور اعلٰی عدلیہ سے گزارش ہے کہ ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ اس قسم کے موضوعات پر میڈیا پر اور گھروں میں مباحثوں اور تنقید سے نہ صرف ہماری نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ اس سے بحیثیت مجموعی تمام تعلیمی اداروں کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ والدین اور طلبا اساتذہ کرام کو چند روپوں کے عوض پڑھانے والا مزدور سمجھ رہے ہیں ۔ اس سے تعلیم تو جاری وساری رہے گی لیکن باقی ماندہ علم بھی ناپید ہو جائے گا،جبکہ ایک مخلص قوم کے معمار کو تو حق ادا کیا ہی نہیں جاسکتا۔ والدین فیس کے نام پر انفرادی طور پر چند روپے تو حاصل کر لیں گے لیکن نسلوں کے اس ذہنی خلفشار کا سبب کون ہو گا؟ یاد رکھیے ہمارے تعلیمی نظام کا بیشتر حصہ پرائیویٹ سکولوں پر مشتمل ہے اوران کو گورنمنٹ یا کسی ادارے سے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں ملتی۔

معاشرے کے سفیدپوش طبقے کے افراد کا روزگار ان تعلیمی اداروں کے ساتھ وابستہ ہےجو اپنے خاندانوں کے کفیل ہیں۔ اس قسم کے فیصلوں سے یقینا ًیہ طبقہ متاثر ہو گا، بے روزگاری مزید بڑھ جائے گی ۔ اساتذہ کرام روزگار کے مسائل میں الجھ کر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکیں گے۔ تعلیمی معیار کم ہو جائے گا۔اس صورت حال میں ٹھوس اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ فیصلے کے تمام پہلوؤں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہ ہانکا جائے۔ فیسوں کی واپسی صرف ان ہی تعلیمی اداروں تک محدود رہے جو حقیقت میں کئی سو فیصد منافع حاصل کررہے ہیں۔ دیگر اداروں کو آگاہ کر کے فیصلوں پر عملداری اگلے سال سے شروع کی جائے تاکہ معاشرے کے کسی بھی طبقے پر بوجھ نہ پڑے اور ان سے وابستہ کسی فریق پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.