سیزنل انفلوئنزا سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

908

گزشتہ سال مختلف شہروں میں سیزنل انفلوئنزا ( سوائن فلو)سے سینکڑوں افراد متاثر ہوئے اور درجنوں جان کی بازی ہار گئے ، جس پر امسال محکمہ صحت کے بروقت اقدامات اور احتیاطی تدابیر کی بدولت سیز نل انفلوئز ا کے مر یضوں کی تعداد کسی حد تک کم ہے اور علاج کی سہولیات کی بدولت اموات کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے سیزنل انفلوئنزا کے مریضوں کی تشخیص و علاج کے لئے علیحدہ ایمرجنسی آئسولیشن میڈیکل وارڈ قائم کردیے گئے ہیں، جہاں سینئر میڈیکل آفیسرز تعینات اور حفاظتی ویکسی نیشن کا انتظام کیا گیا ہے ۔ ماہرین صحت کے مطابق اس خطرناک مرض سے بچاؤ کے لئے شہریوں کا اس سے مکمل آگاہ ہونا اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنا اشد ضروری ہے۔

سیزنل انفلوئنزا ایک خطرناک مگر قابل علاج وبائی مرض ہے جو کہ پاکستان میں موسم سرما میں ماہ نومبر سے اپریل تک رہتا ہے۔ سیزنل انفلوئنزا کو پہلے سوائن فلو کہا جاتا تھا،اب سیزنل انفلوئنزا ( اے ایچ ون این ون ) کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ پھیپھڑوں کا انفیکشن ہے جوکہ ایک وائرس کے ذریعے پھیلتا ہے۔ متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے آلودہ زرات پھیلتے ہیں اور بڑی آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتے ہیں۔ یہ متاثرہ مریضوں کے سانس لینے سے ہوا، اور ہاتھوں سے مختلف جگہوں پر پھیلتا ہے اورجب کوئی صحت مند انسان متاثرہ جگہ پر ہاتھ لگاتا ہے تو یہ جراثیم اس کے جسم میں داخل ہوکر اسے بھی دو یا تین دن میں متاثر کردیتا ہے۔

پاکستان میں موسم سرما میں اس مرض کے پھیلنے کی وجوہات یہ ہیں کہ اگرچہ قدرت نے سورج کی روشنی میں پائی جانے والی الٹرا وائلٹ شعاعوں کو جراثیم کش بنایا ہے، لیکن موسم سرما میں سورج کی روشنی بہت کم ہوتی ہے یا اس کی طاقت کم ہوتی ہے جس وجہ سے الٹرا وائلٹ شعاعیں جراثیم کو نہیں مار سکتے۔ سرد موسم میں لوگ سردی سے بچنے کے لیے زیادہ تر بند کمروں میں دیر تک رہتے ہیں،اس دوران متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے مرض بڑی آسانی دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں ٹھنڈے موسم میں ہوا خشک ہوجاتی ہے جو کہ سانس کی نالیوں میں موجود جھلیوں کو خشک کردیتی ہے اور جراثیم آسانی سے نظام تنفس کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرد موسم کی وجہ سے انفلوئنزا کا وائرس روز مرہ استعمال کی چیزوں مثلاً تولیہ، رومال، ٹشو، دروازے کے ہینڈل وغیرہ پر زیادہ دیر تک موجود رہتا ہے۔ بوڑھے افراد ، بچے ، حاملہ خواتین ، ذہنی دبائو ، جگر، گردہ، دل ، دمہ، پھیپھڑوں اور شوگر کے عارضے میں مبتلا افراد اس وائرس کا آسان شکار ہوتے ہیں۔ ان افراد کو سرد موسم میں اس وائرس سے بچائو کے لئے حفاظتی ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیزنل انفلوئنزا کی واضح علامات سانس لینے میں دشواری، اچانک بخار کا ہوجانا، زیادہ خشک کھانسی، سر میں درد ، پٹھوں اور جوڑوں میں درد ، گلے کا خراب ہونا اور ناک کا بہنا شامل ہیں، یہ علامات عام نزلہ و زکام میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن سیزنل انفلوئنزا میں ان علامات کی شدت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ عام زکام اور سیزنل انفلوئنزا دو الگ الگ بیماریاں ہیں اور ان کے جراثیم بھی الگ الگ ہیں البتہ دونوں کی علامات بہت ملتی جلتی ہیں۔ زکام کی علامات کم شدت کی ہوتی ہیں اور یہ جلد ٹھیک ہو جاتی ہیں ، علاوہ ازیں عام نزلہ و زکام میں بچوں اور بزرگوں میں اسہال ، متلی و الٹی زیادہ ہوتی ہے۔

سیزنل انفلوئنزا قابل علاج مرض ہے اور اس سے لاپرواہی کسی طور پر مناسب نہیں کیونکہ انفلوئنزا فلو شدید بیماری سے لے کر موت بھی لاسکتا ہے۔ تشخیص کے بعد مریضوں کا ان کی علامات کے مطابق علاج کیا جاتا ہے جس میں گھر پر بیڈ ریسٹ دیا جاتا ہے تا کہ معاشرے کے دیگر افراد تک خطرناک جراثیم نہ پہنچیں۔ بخار اور درد کو کم کرنے والی ادویات دی جاتی ہیں،مر یض کی خوراک کو بہتر کیا جا تا ہے اور جراثیم کے خلاف اینٹی وائرل ادویات دی جا تی ہیں،مریض اور گھر کے دیگر افراد کو ویکسی نیشن بھی کی جاتی ہے جس کا اثر تقریباً ایک سال تک رہتا ہے، یہ ویکسین مارکیٹ میں باآسانی دستیاب اور زیادہ مہنگی بھی نہیں ہے لیکن 6 ماہ سے کم عمر بچوں کو ویکسی نیشن نہیں کی جاسکتی۔

جسم میں سیزنل انفلوئنزا وائرس سے 1 سے 4 روز کے اندر بیماری کی علامات پیدا ہوتی ہیں اور بروقت علاج سے بیماری تقریبا ًایک سے تین ہفتے میں ختم ہوجاتی ہے لیکن یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ رو بصحت ہونے کے بعد بھی دو سے تین ہفتے تک جراثیم کا اخراج کھانسنے اور چھینکنے سے جاری رہتا ہے اسی لیے مریض اور مریض کے لواحقین دونوں کو بہت احتیاط کی ضرورت رہتی ہے۔ سیزنل انفلوئنزا سے متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ کھانستے وقت یا چھینک آنے پر اپنے منہ اور ناک پر صاف کپڑا یا پھر ٹشو پیپر رکھیں تاکہ اس مرض کے جراثیم کو مذید پھیلنے سے روکا جاسکے، استعمال شدہ کپڑا یا ٹشو پیپر فوری طور پر ضائع کردینا چاہیے۔

اس کے علاوہ عام لوگوں سے میل جول میں احتیاط برتنی چاہئے، ہاتھوں کے گندا ہونے پر ان سے آنکھوں ، منہ یا ناک کو چھونے سے گریز کرتے ہوئے ہاتھوں کومعیاری اینٹی سیپٹک صابن سے اچھی طرح دھونا چاہئے۔ ایسی غذائیں استعمال کرنی چاہیے جن میں زیادہ پروٹین ہوں، مثلاً انڈہ ، چھوٹا گوشت اور دالیں وغیرہ۔ معمولی نزلہ و زکام ہونے پر سیزنل انفلوئنزا سے بچنے کے لئے فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے، یہاں واضح رہے کہ ہر نزلہ و زکام سیزنل انفلوئنزا نہیں ہوتا لیکن احتیاط کا تقاضا ہے کہ بروقت معالج سے رجوع کیا جائے.

شدید نزلہ و زکام کی صورت میں کاروبار ، سکول اور ہجوم والی جگہوں جیسے مارکیٹ وغیرہ نہ جایا جائے، ہوسکے تو گھر پر ہی رہ کر آرام کیا جائے اور ماسک استعمال کیا جائے۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیزنل انفلوئنزا سے بچاؤ، اور روک تھام کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے ، شہری صحت و صفائی کی صورتحال یقینی بنا کر اور ہر مناسب احتیاط اور بروقت علاج سے اس مرض پر قابو پاسکتے ہیں۔
٭…٭…٭

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.