سانحہ ساہیوال اور ہمارا بوسیدہ نظام

926

اگر کسی ملک میں دو سے چار لاکھ رشوت دے کر یا ایم این اے کی سفارش سے, جعلی سند دے کراور میرٹ کی دھجیاں اڑا کر ایک شخص کو ہیڈ کانسٹبل ، اے ایس آئی یاسپاہی بھرتی کروایا جا سکتا ہے تو اس ملک میں مبینہ پولیس مقابلوں میں ماڈل ٹاؤن میں معصوموں کا قتل ہونےاور ساہیوال میں ننھے بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ اوربہن کو مار دینے کے ظالم واقعات تو ہوں گے.

سانحہ ساہیوال کے پیچھے صرف چند افراد نہیں بلکہ پولیس کی سلیکشن اور ٹرینگ کا گلا سڑا نظام ہے. جب ایم این اے یا ایم پی اے پولیس کی نوکریوں کی ووٹوں کے بدلے سیل لگائیں گے تو میرٹ پر اور قابلیت پر بھرتی ہونے کی بجائے نااہل اہلکار ہی پولیس کا حصہ بنیں گے.

رہی بات تعلیم کی تو وطنِ عزیز کا شاید ہی کوئی تھانہ انچارج یا ایس ایچ او انگلش کیا اردو میں ہی کوئی مضمون لکھ سکتا ہو.

سانحہ ساہیوال نے پولیس کی آپریشن کی صلاحیتوں پر بھی سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے. اگر گاڑی میں کوئی دہشتگرد تھا بھی تو اسے سنائپر کی مدد سے نشانہ بنایا جا سکتا تھا. بغیر تصدیق کیے ایک عورت, اسکے شوہر اور 13 سالہ معصوم لڑکی کو رش والی جگہ میں بیچ سڑک گولیوں سے موت کے گھاٹ اتار دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا. پولیس آپریشن ایسے بیچ چوراہے, بغیر تصدیق کے معصوموں پر گولیاں چلا کر نہیں کیا جاتا.

بد اخلاقی، نرم لہجے سے بات نہ کرنا، شہریوں کی عزت نہ کرنا، تصدیق کر کے گولیاں نہ چلانا، رشوت ستانی، غریب کو کچلنے اور علاقے کے طاقتور کے گھر کی لونڈی بن کر رہنا پاکستانی پولیس کا وطیرہ بن گیا ہے. مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب محسود کا قتل اور راؤ انوار کا کھلے عام انصاف کے منہ پر طمانچے مار کر ضمانت پر آزاد رہنا اور ماڈل ٹاؤن کے معصوموں کے قاتلوں کا چار سال بعد بھی گرفتار نہ ہونا ایسے بد قسمت سانحات کو ہوا دے رہا ہے.عابد باکسر کے شہبازشریف پر مبینہ جعلی پولیس مقابلوں میں لوگوں کو مروانے کے الزامات کا کیس بھی بیچ ہوا میں لٹکا ہوا ہے. ان کیسوں کا منتقی انجام تک پہنچنا مبینہ پولیس مقابلوں میں معصوم لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے ضروری ہے.

تبدیلی سرکار کو آئے بھی چار ماہ ہو گئے لیکن ایک اصلاحتی بل بھی اسمبلی میں نہیں لایا گیا کہ پولیس، عدالتوں کا نظام بہتر کیا جا سکے. حکومتی وزراء کی زبان کا حال یہ ہے کہ پہلے سانحہ ساہیوال میں مرنے والوں کو دہشتگرد قرار دیا پھر ان ہی کو انصاف دلانے کے لیے بیان داغ دیے.

سانحہ ساہیوال حکومتی اور اپوزیشن لیڈروں کے منہ پر طمانچہ ہے کہ سیاست کا مطلب اپنے محبوب قائدین کے قصیدے پڑھنے کا نام نہیں بلکہ ایسی اصلاحات، اقدامات کا نام ہے جن سے پولیس جیسے اداروں کی اصلاح ہو تاکہ مستقبل میں عوام اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں دن دیہاڑے بیچ چوراہے قتل ہونے سے بچ سکیں.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.