بڑھتے جنسی واقعات اور بچوں کا تحفظ …!

990

جنسی زیادتی اور استحصال کرنے والے درندے بچوں سے ان کی معصومیت اور ان کا بچپن چھین لیتے ہیں۔ پھول جیسےننھے بچوں کیساتھ روز بروز بڑھتے جنسی واقعات کے پیش نظر ، بچوں کو جسمانی صحت، جنسی افعال اور خطرات کے بارے میں آگاہ کرنا، اور خطرناک صورتحال سے نبٹنے کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنا ، معاشرے ، والدین اور تعلیمی اداروں کی اولین ذمہ داری بن چکا ہے۔ تحقیق کے مطابق بچے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بہت ایمانداری کیساتھ بتاتے ہیں اور عام طور پر زیادتی کرنے والے ان کے قریبی یا جاننے والے لوگ ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے معاملے میں کسی پر اندھا اعتماد ہرگز نہ کریں، بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں اور بچوں کو بھی سکھائیں کہ اگر کوئی ان کے جسم کے پوشیدہ حصوں کو چھونے کی کوشش کرے تو وہ فوری طور پر والدین کوآگاہ کریں۔

بچوں کیساتھ جنسی زیادتی اور استحصال کے بڑھتے واقعات صرف قانونی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی ہے جو کہ پاکستان میں ایک حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔گزشتہ دنوں وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2008کے مقابلے میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں 2018 میں سولہ عشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا۔ کے دوران بچوں سے جنسی زیادتی کے 4139 واقعات رپورٹ ہوئے۔ زیادہ تر واقعات پنجاب میں ایک ہزار 89 رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ دس برس کے دوران قصور میں بچوں سے زیادتی کے 272 واقعات پیش آئے،ان واقعات میں با اثر لوگ ملوث ہیں اور یہ واقعات بڑھ رہے ہیں۔ وفاقی محتسب نے بتایا کہ گزشتہ سال بچوں سے جنسی زیادتی کے اڑھائی سو سے زائد واقعات وفاقی محتسب کو رجسٹرڈ ہوئے ، ان واقعات کو روکنے کیلئے آگاہی مہم کیساتھ مختلف اضلاع میں سنٹرز قائم کئے جائینگے‘‘۔

معاشرتی خرابیوں کے خلاف قانون بنانے کا مقصد معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا ہوتا ہے، اگر پھر بھی حالات جوں کے توں رہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون میں کوئی پہلو ایسا رہ گیا ہے کہ جس سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ مغربی ممالک میں تو انٹرنیٹ پر چائلڈ پورنوگرافی کو جنسی زیادتی کا بڑا سبب قرار دیا جاتا ہےجبکہ پاکستان کے ماہرین نفسیات و سماجیات کو بھی اس کے اسباب پر تحقیق اور سدباب کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیے۔ لوگوں کے رویوں کو تشکیل دینے اور ان پر اثر انداز ہونے میں میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا آگاہی بھی پیدا کرتا ہے اور ارباب اختیار کو ان واقعات کی روک تھام کے لیے عملی قدم اٹھانے پر بھی مجبور کرتا ہے، ان مسائل کو پبلک ایجنڈا میں شامل کرانے میں میڈیا ہی کی طاقت پوشیدہ ہے۔ملکی میڈیا میں بھی اس مسئلے پر آگاہی کے لیے بھرپور مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔ بچوں کو جنسی استحصال کا آسان نشانہ بننے سے بچانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ، ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن کو نصاب میں شامل کرنا اوربچوں کو خطرات سے نبٹنے کے لئے تکنیکی سہولتیں فراہم کرنا بھی انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔

موجودہ حالات میں والدین اور ٹیچر ز کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کے مسائل پر گفتگو کرکے ان کے ساتھ گہرا تعلق رکھا جائے، ان کے بدلتے ہوئے رویوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، ان کو مختلف ناگوار واقعات اور رویوں کا سامنا کرنے کے طریقے سمجھائے جائیں اوران کو بھرپور اعتماد بخشتے ہوئے والدین یا ٹیچر کی صورت میں محفوظ پناہ گاہ میسر ہونے کا قوی احساس دلایا جائے۔ بچوں کو نصابی تعلیم کے علاوہ حفظان صحت کے اصول ، کھیل کود کی اہمیت، انسانی جسم کی ساخت، جسمانی اعضاء اور ان کے افعال ، جسم کی نشو ونما، صحت کے مسائل، انسانی جسم میں عمر کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبدیلیوں، شیر خواری، بچپن، کمسنی، قبل از بلوغیت، بلوغیت، جنسیاتی و ماحولیاتی مسائل وغیرہ اور حفاظتی تدابیر کی تعلیم دی جائے، بچوں کو نیت اور ارادے کے تحت انجام دیے جانے والے افعال کے بارے میں بتایا جائے۔

بچوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ کسی غیر کا بچوں کے پرائیویٹ باڈی پارٹس کو چھونا ایک نا پسندیدہ اور غیر مناسب عمل ہے۔ اور اگر کوئی شخص بچے کے پرائیویٹ پارٹس کو چھونے کی کوشش کرے تو بچے کو خطرے کا احساس ہوتے ہی انہیں زور سے چلانا چاہئے اور فوراً گھر کی طرف یا کسی محفوظ مقام کی جانب بھاگنا چاہئے اور اس واقعے کی اطلاع اپنے والدین یا ٹیچر کو ضرور دینی چاہئے۔بچے ہمارے معاشرے کا مستقبل اور روشن کل ہیں، ہر قیمت پر ان کی حفاظت کرنا تمام مکاتب فکر کی اولین ذمہ داری ہے،کیونکہ کوئی بھی معاشرہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے گھناؤنے واقعات کو برداشت نہیں کر سکتا۔

ایک سال قبل جب 7 سالہ زینب کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی تو پورے ملک میں بچوں سے زیادتی کے خلاف پہلی مرتبہ موثر آواز بلند ہوئی جس کی گونج سے سارا ملک ہل گیا۔ عمران نامی شخص قانون کی گرفت میں آیا، جس نے زینب کے قتل کا اعتراف کیا، جبکہ اس ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ یہ اس سے پہلے بھی سات بچیوں کو اسی طرح قتل کرچکا ہے ۔ننھی معصوم زینب کی تدفین تو ہوگئی مگر اس کے قتل پر اٹھنے والا سوال کہ’’ آخر کیوں پا کستان میں بچے محفوظ نہیں؟‘‘ شاید کبھی دفن نہیں ہو سکے گا۔ زینب کی روح ہم سے سوال کر رہی ہے کہ کیا یہ ملک صرف صاحب اقتدار افراد کے بچوں کے لیے بنایا گیا تھا، اور کیا عام افراد کی بیٹیاں درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئیں ہیں؟ زینب کی روح ہم سے پوچھ رہی ہے کہ اس ریاست کا مستقبل کیا ہے جو اپنے معصوم بچوں کو بھی تحفظ نہیں دے سکتی؟ آج پاکستان میں بہت سی چھوٹی اور بڑی زینب اور بھی ہیں جن کے قاتل اسی دھرتی پر دندناتے پھر رہے ہیں، وہ انصاف مانگتے مانگتے تھک گئیں مگر انصاف سے محروم رہیں، بدقسمتی سے ان کے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

بچوں کے بڑھتے جنسی تشدد کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک میں بچوں سے متعلق قوانین تو موجود ہیں لیکن عمل درآمد نہیں ، درحقیقت ہر سیاسی پارٹی سانحات اور واقعات کی بنیاد پر ہی اقدمات کرتی نظر آتی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ پانچ سال کے دوران بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار واقعات رونما ہوئے ،جبکہ بچوں پر تشدد کے مقدمات میں صرف 112مجرمان کو سزا ہوئی جن میں سے 25 مجرموں کو سزائے موت، 11کو عمر قید، جبکہ باقی مجرمان کو مختلف سزائیں سنائی گئی ۔

ملک میں جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے2016ء میں نیا قانون بنایا گیا جس کے مطابق بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنا انہیں کسی بھی قسم کی فحش نگاری کے لیے استعمال کرنا یا انہیں عریانیت دکھانا جرم ہے جس کی سزا 7 سال قید اور 70 ہزار تک کا جرمانہ قرار دیا گیاہے،یعنی اس گندے جرم کی سزا صرف قید اور تھوڑا سا جرمانہ ہے، حسا س نوعیت کے جرم کی اتنی کم سزا ہونے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ سال2017 ء میں قومی اسمبلی میں تحفظ اطفال بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا ، جس کے تحت بچوں کے تحفظ کے اقدامات کیے جائیں گے جن میں بچوں کے لیے مخصوص تربیتی مراکز بھی شامل ہیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین بنانے کی ضرورت، اور پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے ملک کا مستقبل محفوظ ہوسکے ۔
٭…٭…٭

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.