وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط

1,558

محترم وزیراعظم صاحب ! عوام نے آپ کو روایتی طرز سیاست کو رد کرتے ہوئے نظام میں تبدیلی اور ملکی دولت لوٹنے والوں کے احتساب کیلئے ووٹ دیا تھا۔جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ملک اس وقت احتسابی دور سے گزر رہا ہے،سابق وزیر اعظم سمیت سابق وزیر اعلٰی، کئی سابق وزراء اور بیوروکریٹ اپنی کرپشن کی سزا اور نااہلیاں بھگت رہے ہیں۔ اسکے ساتھ سابق صدر پاکستان، موجودہ وزیر اعلٰی سندھ اور ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین بھی پیشیاں بھگت رہے ہیں اور ان پر بھی سزا بھگتنے اور نا اہلیوں کی تلوار لٹک رہی ہے۔ وزراء اورانکی ای سی ایل، این آراو، چور ڈاکو اور اڈیالہ جیل جیسے بیانات کی گردان سیاسی ماحول کو کافی کشیدہ رکھے ہوئے ہیں۔ایسے میں ایک شب وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک ٹی وی شو میں کہا کہ نیب ہیلی کاپٹر کیس میں وزیر اعظم کی توہین کر رہا ہے، نیب کو یہ کیس ختم کرنا چاہیے۔

عام آدمی کیلئے یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ یہ اس حکومت کا وزیر کہہ رہا ہے جس کے وزراء اپنی تقریبا ہر پریس کانفرنس میں یہی بیان دہراتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں تو عوام نے مینڈیٹ ہی احتساب کرنے کیلئے دیا ہے، احتساب نہ کیا تو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی، کسی کو این آر او نہیں ملے گا، سیاسی تلخیاں تو کم ہو جائیں گی لیکن احتساب کی گرمی کم نہیں ہو گی۔

حضور!!! عرض صرف اتنی ہے کہ آپ یہ اس وزیراعظم کے بارے میں کہہ رہے ہیں جو اپنے رہنما اصول گنواتے ہوئے ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ احتساب ہمیشہ قیادت سے شروع ہوتا ہے، جب احتساب ہو گا تو پہلے میرا ہو گا بعد میں کابینہ کا ہو گا کیونکہ اگر لیڈر کرپٹ ہو تو وزراء، درمیانے درجے کی قیادت اور باقی سیاستدان بھی کرپٹ ہی ہوتے ہیں۔ اب اگر ان کا احتساب کیس چل رہا ہے تو وزیراعظم کی طلبی اور جوابدہی میں توہین کیسی؟ اس سے پہلے تو وہ متعلقہ اداروں کے بلانے پر نہ صرف پیش بھی ہوتے رہے ہیں بلکہ تحقیقاتی عمل میں مکمل تعاون بھی کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے متمنی حضرت عمر سمیت دور خلافت کا احتساب کیوں بھول گئے؟ کیا سابق وزرائے اعظم قانون کے سامنے ایسے پیش نہیں ہوتے رہے؟ کیا نیب یا متعلقہ تحقیقاتی ادارے ان کی توہین کے بھی مرتکب ہوتے رہے ہیں؟ کیا وزیراعظم کی طرح باقی نیب زدہ سیاستدان منتخب نمائندے نہیں ہیں؟ نیب اگر اتنی پگڑیاں اچھالتا ہے تو اس کے قوانین میں اصلاحات کیوں نہیں کی جاتیں؟ کیوں نیب قوانین اصلاحات کمیٹی ڈیڈلاک کا شکار رہتی ہے؟ اپوزیشن کو این آر او کا طعنہ دیتے ہوئے آپ تو خود استثنٰی کی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔

عمران خان صاحب، احتساب کیسز اگر آپ کی حکومت کے بنائے ہوئے نہیں ہیں تو بہتر ہو گا کہ آپ کے وزراء ان کیسز پر بیان بازیوں، تبصروں اور پیشن گوئیوں سے گریز کریں۔کیونکہ جمہوریت میں ادارے حکومتی مداخلت سے آزاد تصور کئے جاتے ہیں اور احتساب کرنا بھی خالصتاً متعلقہ اداروں کا کام ہے۔ آپ کے وزراء کی بیان بازیاں ان احتساب کیسز کا کریڈٹ لینے کی ناکام کوششیں ہی ثابت ہو رہی ہیں ، آپ کے وزراء اپنے جارحانہ بیانات کی بدولت ان کیسز کا فریق بننے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا احتساب کیسز پر کسی صورت بھی مثبت اثر نہیں پڑے گا اور تاثر یہی مل رہا ہے کہ وفاقی حکومت احتساب کیسز پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

ملکی معیشت اس وقت آئی سی یو میں ہے،عالمی معاشی ادارے بھی ہماری معیشت کو لے کر مستقبل کے بارے میں کوئی اچھے اعدادوشمار نہیں دے رہے اور ابھی حکومت کے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف سے مذاکرات کے ادوار اور انہیں مطمئن کرنا بھی باقی ہے۔دوست ممالک کے اعتماد کی بحالی درست مگر ملکی معیشت مزید قرضوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہمارے اپنے معاشی اعشاریے بھی ہمیں مستقبل کیلئے اچھی امید یا پالیسیوں کے دوررس نتائج دینے یا اس کے ثمرات کی صورت میں کسی قسم کا ریلیف عام آدمی تک پہنچانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ بجلی اور گیس کے ساتھ آپ کے وزراء کی بدولت ملک اس وقت سیاسی بحران کی بھی زد میں ہے۔

صرف بیوروکریسی کے تبادلوں اور برطرفیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے، آپ کے وزراء کو اب مسائل کی صرف نشاندہی چھوڑ کر اب ان کی ذمہ داری بھی لینا ہو گی۔ ملکی مسائل کا ذمے دار سابقہ حکومتوں اور ان مسائل کے حل میں رکاوٹ کا ملبہ صرف بیوروکریسی پر ڈالنے کا سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔عوام آپ سے درخواست کرتی ہےکہ اداروں کو اپنا کام کرنے دیں، یقین مانیں کہ ادارے حکومتی وزراء کے جارحانہ اور غیر ضروری بیانات کے بغیر بھی بہترین نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اپوزیشن رہنماءبار بار حلف دے چکے ہیں کہ وہ این آر او نہیں مانگ رہے بلکہ وہ تو احتسابی عمل کا تسلسل چاہتے ہیں لیکن آپ کے وزراء روزانہ میڈیا پر اپنی عدالت لگا کر احتسابی عمل کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ آپ کو عام آدمی سے غربت، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ سے نکالنے کا مینڈیٹ بھی ملا ہے۔ یکساں نظام تعلیم، صحت کی بہترین سہولیات اور ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کا مینڈیٹ بھی ملا ہے، عوام اس ریلیف کی منتظر ہے۔آپ نے کچھ دن قبل گیس لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر کابینہ میں اپنے وزراء سے کہا تھا کہ میں پوری دنیا سے پیسے مانگتا پھر رہا ہوں آپ وزراء خزانے کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں، بالکل عوام نے آپ کو کڑے احتساب کیلئے ووٹ دیا ہے لیکن آپ کے وزراء اپنے متضاد بیانات کی بدولت اس مینڈیٹ کی توہین پر بھی تلے ہوئے ہیں۔خدارااپنے وزراء کو کنٹرول کریں اوراحتسابی عمل کو شفاف رہنے دیں۔۔۔

احتشام اللہ ایک نوجوان لکھاری ہیں جو حالات حاضرہ اور سیاسی پیش رفت پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔۔۔ بلاگز میں ذاتی آرا کا اظہار کرتے ہیں، جس کا کسی سیاسی جماعت یا ادارے کی راۓ سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.