زندگی کی ڈور کو کاٹتی پتنگ

740

حکومت پنجاب نے ۱۲ سال کے بعد پنجاب کے روایتی تہوار بسنت کو منانے کا عندیہ دیا ہے اور صوبائی وزیر قانون، سیکریٹری پنجاب اور لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو کہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ اس تہوار کے موقع پر کیا اقدامات کیے جائیں کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جاسکے ۔یاد رہے کہ ماضی میں اس تہوار پر پابندی انسانی جانوں کے ضیاع پر ہائی کورٹ کی طرف سے لگائی گئی تھی پھر اچانک یہ پنجاب گورنمنٹ کو کیا سوجھی کہ اس پابندی کو اٹھانے کا اعلان کردیا، جبکہ کافی عرصہ سے کسی بھی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔ ایک طرح سے تولوگ اس تہوار کو بھول ہی چکے تھے لیکن پنجاب گورنمنٹ کے اطلاعات کے وزیر نے ایک پریس کانفرنس میں اس تہوار کو منانے کے اعلان کے دوران یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ ایک عوامی مطالبہ تھا۔ بارہ سال پہلے جب اس پر پابندی لگی تھی تو پتنگ بازی کے شوقین افراد نے اس کو ناجائز قرار دیا جب کے بعض حلقوں کی جانب اس کا خیر مقدم کیا گیا۔ ان ہر دو متضاد سوچ رکھنے والوں کے اپنے اپنے دلائل اور وضاحتیں تھیں مشرف، پرویز الہی ، زرداری، شہبار شریف غرض جتنے بھی حُکمران آئے ان کی کوشش رہی کہ اس تہوار کو دوبارہ سے بحال کیا جائے لیکن وہ بھی ایسا نہ کرسکے کیونکہ ان کے پاس ایسی کوئی ضمانت نہیں تھی کہ کوئی حادثہ پیش نہیں آئے گا اور انسانی جان کو خطرہ درپیش نہ ہوگا ۔

ایک دفعہ سابق گورنر سلیمان تاثیر نے جو کہ بسنت منانے کے بہت بڑے ہامی تھے کی کوششوں سے ایک دن کی اجازت بھی دے دی گئی اس وقت میاں شہباز شریف پنجاب کے چیف منسٹر تھے انہوں نے سختی سے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ایسا کوئی بھی میٹریل جو کہ انسانی جان کیلئے خطرہ ہوپتنگ بازوں کو استعمال نہ کرنے دیا جائے لیکن عین جب یہ بسنت منائی جانی تھی اس سے تین دن پہلے ایک چھ سال کی بچی اپنے والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کرجارہی تھی کہ اچانک ایک کٹی ہوئی ڈور کی پتنگ نے اس کی شے رگ کو کاٹ ڈالا اور اس ننھی جان نے اپنے باپ کے ہاتھوں میں ہی تڑپ تڑپ کر جان دےدی۔ اس پر پنجاب گورنمنٹ اور ہائی کورٹ نے اس پر ایک بار پھر سے پابندی لگادی۔ اس واقعہ کے بعد پھرکبھی بھی کسی جانب سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا کہ یہ کہا جاسکے کہ گورنمنٹ بہت زیادہ پریشر میں تھی، تاہم کچھ افواہیں ضرور گردش کررہی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ لاہور کی مشہور شخصیت جو اپنی حویلی میں ایسی ثقافتی سرگرمیاں منعقد کروانے کی شوقین ہے کی کوششیں بسنت کو بحال کروانے میں معاون ثابت ہوئیں اور یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ان کی پی ٹی آئی والوں سے دوستی کتنی پرانی ہے اور پنجاب گورنمنٹ میں ان کا کیا اثرو رسوخ ہے۔ اگر اس بات میں سچائی ہے تو اس اقدام کی کسی بھی طور پر حمایت نہیں کی جاسکتی تاہم اگر ملک میں سیاحت کو بحال کرنا مقصود ہے تو پھربھی صرف اسی صورت قابل قبول ہوگی کہ اس کو منانے سے پہلے ایک عوامی آگاہی کی مکمل مہم چلائی جائے اور انتظامیہ اس بات کی ضمانت دےکہ کسی انسانی جان کو خطرہ نہ ہوگا کیونکہ ایک انسانی جان کاکوئی نعم البدل نہیںہوسکتا۔جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ عوام یا پتنگ باز اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا دھاگا ،تندھی یا کیمیل لگی ڈور استعمال نہیں کریں گے جو کہ کسی کی بھی جان لے سکتی ہے، اس لئے اس تہوار کو منانا اپنے اندربہت اندیشے لئے ہوئے ہے اور گورنمنٹ کو بڑا سوچ سمجھ کر یہ اقدام اٹھانا ہوگا۔

اب ذرا آئیں ان وجوہات کا جائزہ لے لیتے ہیں جن کی بنا پر کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور پھر حکومت کو اس پر پابندی لگانی پڑی ۔

دھاتی ڈور کا استعمال:

بسنت یا عام دنوں میں سب سے زیادہ اموات دھاتی تار کے استعمال کے باعث ہوتی ہیں یہ وہ تار ہوتی ہے جو کہ عام طورپر موٹر سائیکل کے کلچ ایکسیلیٹر اور فرنٹ بریک لگانے کے لیے استعمال ہوتی ہے اس تار کے ساتھ پتنگ بازی کا مقصد دوسرے کے ساتھ پیچ لڑانا نہیں ہوتا بلکہ اس سے صرف کٹی ہوئی پتنگوں کو پکڑنا یا دوسرے کی اڑائی ہوئی پتنگ کو اس میں الجھا کر کھینچ لینا ہوتا ہے جس کا روایتی پتنگ بازی سے دور کا بھی تعلق نہیں اور ؁۲۰۰۰تک اس کا کوئی وجود نہ تھا ۔اگر اعدادوشمار اٹھا کر دیکھیں تو ؁۲۰۰۰سے پہلے بنست یا پتنگ بازی سے ہونے والی اموات بہت کم تھیں لیکن پھر کسی شیطانی ذہن کے لوگوںنے اس ڈور کوٖصرف پتنگیں لوٹنے کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس کی ساخت کچھ اس طرح کی ہوتی ہے ، کلچ کی تار جو سولہ باریک تاروں سے مل کربنی ہوتی ہے اس کی ہرایک باریک تار الگ کر کے آگے پیچھے جوڑی جاتی ہے اور تقریبا ایک ایک فٹ کے فاصلے پر تار کی گرہیں باندھی جاتی ہیں ۔اور پھر اسے ایک مضبوط دھاگے جسے تندی کہا جاتا ہے کہ گرد لپیٹ دی جاتی ہے، اس طرح پتنگ کا بوجھ دراصل ’تندی‘نے اٹھایا ہوتا ہے، ہوتا یوں ہے کہ اس سے پتنگ اڑانے والا پیچھے سے کٹ کر آنے والی پتنگوں کو ہوا میں ہی اس میں الجھاتا چلا جاتا اور ایک وقت میں کئی پتنگوں کو قابو کرنے کے بعد آہستا آہستانیچے اتارتا جاتا ہے ،لیکن بعض اوقات کسی تیز مانجھے لگی ڈور سے رگڑ کھا کر یا بہت زیادہ پتنگیں الجھ جانے سے یا تیز ہوا کے باعث تندی ٹوٹ جاتی ہے اور دھات کی یہ بیس ،پچس فٹ لمبی تار معصوم انسانوں کے لئے موت کا پیغام بن جاتی ہے ، کسی بھی موٹر سائیکل سوار کے گلے کے گرد لپٹ کر اس کا دم گھونٹ دیتی ہے ،بجلی کی تاروں پر گرتی ہے تو نیچے کھڑے راہگیر پر بھی جاگرتی ہے اور بجلی کے ایک جھٹکے سے موت کی نیند سلا دیتی ہے ۔

کیمیکل ڈورکا استعمال:

کیمیکل لگی نائیلون کی مضبوط ڈوری انسانی اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے ،یہ انتہائی مضبوط ہوتی ہے جو کہ مچھلی پکڑنے یا چائنہ سے درآمد ڈوری ہوتی ہے جو کہ بیگ اورجوتے وغیرہ بنانے میں استعمال ہوتی ہے اس پر کیمیکل لگایا جاتا ہے جو کہ رگڑ کھانے پر انتہائی گرم ہوجاتا ہے اور ساتھ لگنے والی ڈور کو کاٹ ڈالتا ہے۔ اس سے پتنگ اڑانے اور دوسرے کی پتنگ کاٹنے کا طریقہ عام پیچ لگانے سے مختلف ہوتا ہے۔ عام پیچ جس میں ڈور کو چھوڑا جاتا ہے کہ رگڑ کھانے سے دوسرے کی ڈور کاٹ دی جائے، جبکہ اس کیمیکل لگی ڈورکو تیز ہوا میں اڑایا جاتا ہے اور ایک خاص اونچائی پر پتنگ کو ایک ہی جگہ ساکن روک لیا جاتا ہے، جہاں زیادہ ہوا لگے اور ڈور میں زیادہ سختی پیدا ہو بس پھر جیسے ہی عام مانجھا لگی ڈوراس سے لگتی ہے وہ کیمیکل ریکشن کی وجہ سے کٹ جاتی ہے۔ یہ ویسے بھی پتنگ بازی کے اصولوں کے خلاف ہے لیکن اس کی تباہی اس وقت نظر آتی ہے جب یہ کٹ کرکئی کلو میٹر تک پتنگ کے ساتھ لٹکتی چلی جاتی ہے ایسے میں اگر کوئی بدقمسمت موٹر سائیکل سوار اس کی زد میں آجائے تو پھر یہ خود تو نہیں کٹتی لیکن انسانی جسم کے جس حصے پر پڑتی ہے اسے کاٹتی چلی جاتی ہے ۔

عام مانجھا لگی ڈور:
اکثر بسنت کی حمایت میں بولنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر عام ڈور سے پتنگ اڑائی جائے تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتی اس میں دو باتیں غور طلب ہیں ایک تو یہ کہ یہ اس دور کی بات ہے جب پاکستان یا انڈیا کا بنا ہوا ایک عام دھاگہ اس مقصد کیلئے استعمال کیا جاتا تھا اور دوسرایہ کہ یہ پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے جب چائنہ کا مال نہیں آتا تھا ،پھر اس زمانے میں موٹر سائیکل بھی اتنے نہیں تھے جس کی وجہ سے حادثے بہت کم ہوتے تھے اور اگر کہیں ہوتے بھی تھےتو زیادہ ہائی لائٹ نہیں ہوتے تھے۔ تاہم آج جب موٹر سائیکل کی تعداد کئی گنا بڑچکی ہے تو پھر حادثے کے امکانات بھی بڑھ چکے ہیں، اور ایک غیرمحفوظ بسنت پہلے سے بھی زیادہ خطرناک اور جان لیوا ہوسکتی ہے۔ اس کا اندازہ مشکل نہیں کہ یہ عام مانجھا لگی ڈوربھی مضبوط اور کاٹ دار ڈورکی طرح اگر تیز چلتی موٹر سائیکل سوار کی گردن کے گرد لپٹ جائےتو گردن کا کیا حشر کرے گی؟ جبکہ آج کے دورمیں ماضی کی نسبت ہر دوسرے شخص کے پاس موٹر سائیکل ہے ۔

ہوائی فائرنگ:
افغان وار نے جہاں اس خطہ کو بے شمار مسئل سے دوچار کیا وہیں ایک اصطلاح کلاشنکوف کلچر کی بھی دی۔ کلاشنکوف وہ اسحلہ تھا جو کہ اس جنگ کے نتجہ میں پاکستان میں متعارف ہو اے کے ۴۷ نام کی یہ فل آٹومیٹک رائفل کو کہ روس سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کلاشنکوف نے ایجاد کی تھی ۸۰،۹۰، کی دھائی میں یہ اتنی عام ہوگئی کہ یہ اسلحہ طاقت رعب دبدبہ اورامارت کی نشانی سمجھا جانا لگے جیسے کلاشنکوف کلچر کا نام دے جانے لگا اس کے ساتھ ہی ٹی ٹی نامہ پسٹل جو کہ کلاشنکوف کی طرح برسٹ نلاتی تھی بھی عام ملنے لگی۔ ۱۹۸۰ سے پہلے بسنت پر سوائے اس سے کہ کسی کہ ایک آدھ نعرہ یا بو کاٹا کی آواز بلند کرکے خوشی کا اظہار کیا جاتا تھا لیکن ۸۰ کی دھائی میں خوشی کا اظہار ہوائی گائرنگ کی شکل میں کیاجانے لگا اور اس کے لئے کلاشنکوف یا ٹی ٹی پسٹل عام استعمال کیا جاتا تھا کلاشنکوف چلانے کے لئے بڑی مہارت اور پریکٹس کی ضرورت ہوتی اور بنیادی طور پر یہ آرمی کمانڈو کیلئے بنائی گئی تھی لیکن جب عام لوگوں بھی استعمال کرتے تو کئی غلطیاں کر جاتے جس کہ نتجہ میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں نیز جب گولی اوپر کی جانب ہوا میں چلائی جاتی ہے تو پھر ایک خاص بلندی پر جاکر واپس زمین کی کشش ثقل کی وجہ نیچے کی جانب آتی ہے اور اس کی ولاسٹی اتنی ہی خطرناک ہوتی ہے جو کہ فائر کرتے ہوئے ہوتی ہے آپ نے اکثر سنا ہوگا اندھی گولی نےکسی کی جان لے لی جب کہ نہ تو فائر کی آواز آئی اور نہ کہیں قریب ہی کسی نے کوئی فائر کیا یہ دراصل وہی گولی ہوتی ہے جو دو تین کلومیٹر دور سے کسی نے ہوا مین فائر کی اور پھر وہ گرتے گرتے کسی کی جان لے گی ۔ یہ ہوئی فائرنگ جو کہ ۲۰۰۷ تک بسنت کا جزو لافینک بن چکی تھی نے کئی انسانوں کو نگل لیا ۔

لڑائی جھگڑے و دیگرحادثات:
اگر ہم ۷۰ کے عشرے تک کو مدِنظر رکھیں تو معاشرے میں برداشت، رواداری جیسی خوبیاں کسی ایک محلہ کو ایک خاندان سی شکل دے دیتی تھیں۔ پتنگ بازی بچوں، ٹین ایجر یا کالج کی عمر تک کے لڑکوں کا شوق سمجھا جاتا ،جیسے ہی کسی بڑے نے گھر میں قدم رکھا چھت پر پتنگ اڑاتے ہو ئےلڑکے بالے پتنگ کو ہاتھ سے کاٹ کر اور ڈور کو ادھر ادھر چھپا بھاگ نکلتے تھے۔ کسی کی ڈور کٹ جانے پر یا یہ کہ دوسرے نے کھینچا کیوں مارا تھوڑی بہت تو تکرار ضرور ہوجاتی تھی لیکن کیا مجال کوئی بڑا بزرگ اس کام میں شامل ہو ،بلکہ محلہ کے بڑے بوڑھے نظر رکھا کرتے کہ کس کا بچہ گھر کی چھت پر پتنگ اڑا رہا ہے اور جیسے ہی اس گھر کا کوئی بڑا نظر آتا اسے بتایا دیا جاتا بس پھر کیا ہوتا کہ لڑکے کی شامت آجاتی۔ لیکن پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور ایک ایک پتنگ پر جس کی قیمت ایک سےپانچ روپے تک کی ہوتی تھی عزت و انا کا مسئلہ بن گئی کسی نے ذرا اونچی آواز میں بو کاٹا کیا کہہ دیا گویا مرنے جینے کا مقام بن گیا ، گولی چلنے تک کی نوبت آگئی۔ ایسے کئی واقعات موجود ہیں کہ ایسی لڑائیوں میں جانیں گئی اور دشمنیاں کئی کئی سال چلتی رہیں ۔جہاں تک حادثات کا تعلق ہے تو بسنت کہ دنوں میں ہسپتالوں کے ایمرجینسی وارڈز میںخصوصی انتظامات کئے جاتے تھے ۔زیادہ تر حادثات کٹی ہوئی پتنگ لوٹتے ہوئے کسی چلتی گاڑی بس یا موٹر سائیکل کے سامنے آجانے سے آتے تھے ،کچھ حادثات چھتوں یا دیواروں سے گرنے سے ہوتے تھے لیکن ان حادثات میں جانی نقصان بہت کم دیکھنے میں آتا تھا ۔

میں نے اوپر انسانی جان جانے کی جو وجوہات بیان کی ہیں ان پر قابو پانے کی کوششیں مختلف حکومتوں کی طرف سے کی گئی، جیسا کہ میں اپنی تحریر کے آغاز میں بھی ذکر کرچکا ہوں لیکن وہ ان پر قابو نہ پاسکے۔ اس کی وجوہات میں سب سے پہلے خود عوام کا عدم تعاون ، دوسرا انتظامیہ کے چھوٹے افسران کی بد نیتی ، کرپشن اور پتنگ بازی کےکاروبار سے منسلک مافیا کا ہاتھ شامل ہے۔نتیجہ یہ کہ بالآخرکارہائی کورٹ اور گورنمنٹ کو اس پر مکمل پابندی لگانی پڑی اور ایک ثقافتی پروگرام جو کہ پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان بن چکا تھا ختم ہوکر رہ گیا ۔ لیکن ایک دفعہ پھر اس کو منانے کا جو اشارہ دیا گیا ہے اسے میرے سمیت کوئی بھی اپنی تہذ یب و ثقافت کا دلدادہ کبھی انکار نہیں کرے گا لیکن بطور ایک انسان اور اس معاشرے کے رکن، یہ سوال کرنے کا حق مجھے ہے کہ کیا یہ بسنت کسی انسانی جان سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے؟ اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ہوا میں ُاڑتی ہوئی یہ موت کی ڈور کسی بے قصور کے لئے موت کا پھندہ ثابت نہیں ہوگئی؟

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.