معصوم بچوں سے مشقت اور ہماری ذمہ داری…!

650

حکومت کی جانب سے بچوں سے مشقت پر پابندی کے باوجود دوسرےغریب ممالک کی طرح وطن عزیز میں بھی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، معاشی بدحالی، بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل کی وجہ سے ننھے معصوم بچوں کو زیور تعلیم سے دور رکھ کر مشقت لی جارہی ہے۔جابجا پھول جیسے بچے گھریلو ملازم، بوٹ پالش کرتے ، ہوٹلوں، چائے خانوں، ورکشاپوں، مارکیٹوں،چھوٹی فیکٹریوں ، خشت بھٹوں، سی این جی اور پٹرول پمپوں سمیت بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں۔ ستم یہ ہےکہ بچوں سے جبری مشقت کو ہمارے معاشرے میں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا ۔ کھیلنے کودنے اور پڑھنے لکھنے کے دنوں میں ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اوزار تھامے پھول جیسے معصوم بچے جب حالات سے مجبور ہوکر کام کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوں تویقینا معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتا ہے۔ بچوں سے مشقت خوشحالی و ترقی کے دعویدار معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ اور قوم کی اخلاقی اقدار کے زوال کی علامت ہے ۔

پاکستان میں جہاں غربت ، مہنگائی اوربے روزگاری نے غریب بچوں کو اسکولوں سےاس طرح دور کر دیا ہے کہ ان کے لئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گئی ہے، وہاں پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں نے تعلیم کو اس قدر مہنگا کر دیا ہے کہ اوسط درجے کی آمدن والے لوگ بھی اپنی اولادوں کو معیاری تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں۔ ایسے حالات میں غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں یا تعلیم کے بھاری بھرکم اخراجات کو برداشت کریں ؟۔ یہی وجہ ہے کہ غریب بچے ہر طرح کی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کے والدین وسائل کی کمی کے سبب ان کو تعلیم نہیں دلوا پاتے۔ محنت کش بچے کوئی پیدائشی محنت کش نہیں ہوتے، ان کی شکلیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی ہوتی ہیں لیکن صرف وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے میں ’’چھوٹے‘‘ بن کر رہ جاتے ہیں ۔

پاکستان میں آئین کاآرٹیکل گیارہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ بچوں کو کارخانوں، د کانوں اور دیگر پرخطر ملازمتوں پر نہیں رکھا جائے گا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ چائلڈ لیبر قوانین تو بنے ہیں لیکن آج تک کسی کو بھی ان قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزا نہیں سنائی گئی اور عملاً صورت حال سب کے سامنے ہے۔ امیر لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے حالات سب سے برے ہیں، جن پر شدید تشدد کے واقعات آئے روز منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ بیشتر کاروباری مقامات اور ورکشاپس میں محنت کش بچوں پر معمولی معمولی بات پر تشدد کے واقعات معمول ہیں۔ دیہات میں اینٹوں کے بھٹوں اور کھیتوں جبکہ شہروں میں سڑکوں اور ورکشاپوں اور چھوٹے کارخانوں میں پابندی کے باوجود معصوم بچوں سے مشقت لی جاتی ہےاور یوں اس طرح ان ننھےہاتھوں میں قلم کی جگہ اوزاروں نے لے رکھی ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو حکام کا کہنا ہے کہ والدین خود کمسن بچوں کو سڑکوں، بازاروں اور فیکٹریوں میں مزدوری کرنے کے لئے بھیج دیتے ہیں، جہاں حفظان صحت کے اصولوں سے آشنا نہ ہونے اور فیکٹریوں ، کارخانوں کے شور و دھوئیں اورگندے پانی کے فضلات کی وجہ سے مزدوری کرنے والے 70 فیصد سے زائد بچے ہپاٹائٹس اے، بی اور سی جیسے وائرس اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں موجود معاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے جگہ جگہ اس المیے کوجنم دے رکھا ہے جو بڑھتے بڑھتے ناسور بنتاچلا جارہا ہے۔ امیر کے امیرتر اور غریب کے غریب تر ہونے پرقابو نہ پائے جانے کی وجہ سے اب لوگ اس کے سوا کوئی راہ نہیں پاتے کہ وہ بچوں کوابتدا سے ہی کام پرلگا دیں تاکہ ان کے گھروں کاچولہا جلتا رہے اور ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں، چاہے ایسا کرنے سے قیمتی زندگیاں داؤ پر لگی رہیں۔

بچے کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں ، ان کی بہترین تربیت و نگہداشت پر جس قدر زیادہ توجہ دی جائے ، قوموں کی ترقی کے امکانات اس قدر زیادہ ہوتے ہیں ۔ بلاشبہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے بہت سے غریب خاندانوں کے لیے اپنے بچے محنت و مشقت پر لگانا مجبوری بن چکا ہے، لیکن یہ بھی جائز نہیں کہ ایسے موقع پر معاشرہ کوئی کردار ہی ادا نہ کرے. ہمارا مذہب تو اپنے ہمسا ئیوں چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں ان کے حقوق کا خیال رکھنے کی بھی تعلیم دیتا ہے اور رشتے داروں کے حقوق تو اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ اگر ہمسائیوں، رشتے داروں یا جاننے والوں میں کوئی بے سہارا بچہ یا خاندان ہے تو اسکی کفالت کرنا صاحب حیثیت لوگوں خصوصاً رشتے داروں اور ہمسائیوں کا فرض ہے. تاریخ اسلام ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

معاشرے کا فرض بنتا ہے کہ بچوں سے محنت و مشقت لینے کے بجائے ان کی تعلیم ،صحت اور خوراک کیلئے ان کے والدین کو مناسب سپورٹ کیا جائے ۔غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مزدوری کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم ،علاج معالجہ اور کفالت فراہم کی جائے تاکہ یہ اچھے شہری بن کر ہمارے آنے والے کل کے لئے مثبت کردار ادا کرسکیں۔ ان بچوں کے والدین کو ترغیب دی جائے اورپابند کیا جائے کہ وہ بچوں سے مشقت نہ لیں گے۔ بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کیلئے صرف حکومتی سطح پر کئے گئے اقدامات کو ہی کافی نہ سمجھا جائے بلکہ بچوں سے جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر تے ہوئے موثر ترین کردار ادا کرنا چاہئے۔
٭…٭…٭

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.