بچھڑا کچھ اس ادا سے

2,382

ایک دور تھا کہ کراچی میں گھر سے نکلنے سے قبل لوگ خبریں ضرور سنا کرتے تھے۔اس کی وجہ یہ ہرگز نہ تھی کہ اہلیان کراچی کے لوگوں کو با خبر رہنے کا بڑا شوق تھا بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ جانے سے قبل یہ معلوم کرلیا جائے کہ کس کس راستے پر دھرنا یا احتجاج جاری ہے،کہاں کس کو قتل یا شہید کردیا گیا،کہاں کس کے کہنے پر ہڑتال ہوگئی ہے۔ان تمام خبروں کے جاننے کے بعد کراچی کے لوگ فیصلہ کرتے تھے کہ گھر سے نکلا جائے یا گھر میں ہی رہنے میں عافیت ہے، گویا حال یہ تھا کہ لوگوں کو گھروں سے نکلنے کا بھی استخارہ کرنا پڑتا تھا۔ایک طویل عرصے تک روشنیوں کا شہر تاریکوں میں ڈوبا رہا۔ کہیں کسی کو قربانی کی کھال نہ دینے پر موت کی نیند سلا دیا جاتا تو کہیں کوئی بھتہ نہ دینے کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوجاتا۔ کبھی تو ایسا بھی ہوتا کہ ایک گلی میں رہنا والا صرف اپنی مخالف جماعت کے زیر اثر گلی میں داخلے پر مار دیا جاتا۔ اس تما م صورت حال کا ذمہ دار کسی ایک جماعت کو نہیں ٹھرایا جاسکتا اس کام میں جس سے جتنا ہو سکا اس نے اپنی طاقت کے مطابق اتنا حصہ ڈالا۔

ستمبر 2013 سے کراچی کے سانسوں کو رواں رکھنے کے لئے ملکی سویلین اور ملٹری قیادت نے کراچی پر سیاست کی آڑ لے کر بننے والے کئی اقسام کے گینگزکا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کئی حلقوں کو منظور نہ تھا۔ اس کی مخالفت بھی کی گئی لیکن کراچی اور پاکستان کے وسیع تر مفادات میں آخر یہ فیصلہ کرلیا گیا۔ پاکستان رینجرز سندھ کوآئینی ذمہ داری تفویض کی گئی کہ وہ کراچی آپریشن کا آغاز کرے۔ اس آپریشن کے بعد پاکستان مخالفین اور پاکستان اور امن سے محبت کرنے والے دو حصوں میں بٹ گئے۔ کراچی کے عوام نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھرپور ساتھ دیا۔ میاں نواز شریف کی سیاست کو ایک جانب رکھا جائے تو اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے کراچی میں قیام امن کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیارا ت دیئے۔اس آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کئی اہلکاروں نے جان کی قربانی دی اور اہلیان کراچی نے بھی ہر طرح سے ان اداروں کا ساتھ دیا اور آخر وہ دن بھی آگیا کہ کراچی میں مکمل امن قائم ہوگیا۔ کراچی والے رات بھر سڑکوں پر گھومنے لگے،بغیر استخارے کے کوئی ڈنر اور کوئی لنچ پر جانے لگا،ہر کوئی کھال اور صدقہ دینے میں اپنی مرضی کا مالک بن گیا۔

چند دن قبل کراچی والوں کی نیندیں تب اڑیں جب ایک بارپھر سے شہر میں دو سیاسی کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا،ان افراد کا تعلق پاک سر زمین پارٹی سے تھا۔خیر عوام نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ اتنا بڑا شہر ہے اس میں اگر کوئی ایک واقعہ ایسا ہوگیا تو اس کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ شہر کا امن خراب ہوگیا بلکہ جلد ہی ان افراد کے قاتل بھی گرفتار ہوں گے۔ ابھی پی ایس پی کے کارکنوں کے قتل کی خبر میڈیا چینلز کے اسکرین سے غائب ہوئی ہی تھی کہ ایم کیو ایم کے سابق ایم این اے علی رضا عابدی پر فائرنگ کی خبر سامنے آگئی اور چند ہی لمحوں میں افسوس ناک خبر بھی نشر کردی گئی کہ علی رضا عابدی اپنے خالک حقیقی سے جا ملے ہیں۔

سیدعلی رضا عابدی 6 جولائی 1972 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی سے جبکہ امریکا سے مارکیٹنگ کے شعبے میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے بطور کارکن اے پی ایم ایس او سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا، بعد ازاں علی رضا عابدی ایم کیو ایم کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ رہے۔علی رضا عابدی کراچی کے حلقے این اے 251 سے رکن قومی اسمبلی بھی رہے۔علی رضا عابدی ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جس سے مخالفین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے۔ ہر کسی سے ملنا، شفقت سے بات کرنا اور دلوں میں اتر جانے کا فن علی عابدی خوب جانتے تھے۔ ایک بار کسی فلاحی تنظیم نے ان سے سحری دسترخوان میں مدد کی گزارش کی تو علی رضا عابدی نے خود کھڑے ہوکر سڑک پر کھانا بنایا۔ دوران انتخاب علی رضا عابدی اتحاد مسلمین کے علمبردار تب ثابت ہوئے جب ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے کارکن الیکشن مہم میں آمنے سامنے نظر آئے تو اذان کے وقت علی رضا عابدی نے جماعت اسلامی کے رہنما اسامہ رضی کے پیچھے نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ پھر کراچی نے عجیب منظر دیکھا کہ دو انتہائی مخالف جماعتوں کے کارکن ایک جگہ نماز پڑھتے نظر آئے جہاں ایک جماعت کا رہنما امام تو دوسری کا رہنما مقتدی تھا۔ خیر کیا کیا گنوایا جائے اس شہر میں چلنے والی بے رحم گولیوں نے تو حکیم محمد سعید، مولانا غلام مرتضیٰ اور اسلم شیخوپوری کو بھی نہ بخشا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.