کل تک

1,820

ہمیں بڑا مزا آتا ہے جب ہمارا باس ہمیں کل تک کی مہلت دے دیتا ہے۔ یہ کل تک ہمارے معاشرے کی پسندیدہ اصطلاح ہے۔ ہمارا وزیر ہو یا کبیر ہو سیاسی کارکن ہو یا سرکاری اہل کار عام آدمی ہو یا طالب علم سب کو کل تک کی مہلت مانگنا نہایت عزیز ہے۔ اگر یہ مہلت مل جائے تو عید کے چاند سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ ہمارے ذمہ باس جو بھی کام لگاتا ہے وہ ہم اس وقت تک سر انجام نہیں دیتے جب تک ان سے کل تک کی مہلت نہ مانگ لیں۔ جب ہم کام مکمل کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایسے ہی ہم نے کل تک کی مہلت مانگی، کام تو بہت معمولی تھا،کل تک کی مہلت اور مل سکتی تھی۔ کبھی کبھی خود کو ملامت بھی کرتے ہیں کہ آئندہ کل تک کی مہلت نہیں مانگنی۔ یہ کل تک کی مہلت مانگنا جیسے ہمارا قومی حق یا فریضہ ہے۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں وہیں پر ہم سے کل تک کی مہلت مانگ لی جاتی ہے۔یہاں تک کہ موبائل کمپنیوں والے جو آج اور ابھی پیسے کاٹنے پر پختہ یقین رکھتے ہیں جب ان سے نئی سم نکلوائیں تو وہ بھی کل تک کی مہلت دیتے ہیں کہ کل تک یہ ایکٹیویٹ ہو جائے گی۔ اسی سے کل تک کی اہمیت کا اندازہ لگا لیں۔

یہ کل تک ہے بھی بڑے کام کی چیز ۔ کل تک کی مہلت پا لینے سے جو سکوں ملتا ہے وہ سارے کا سارا کل آ جانے سے غارت ہو جاتا ہے۔ ادھر سیانے لوگ کہتے ہیں کہ کل کبھی نہیں آتا۔ شائد وہ گزرے ہوئے کل کی بات کرتے ہیں کہ وہ تو نہیں آئے گا، مگر یہ ہمارا کل تو پھر آج بن کر آ ہی جاتا ہے۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ کل تک کی مہلت پھر مانگ لیں اور مانگ بھی لیتے ہیں مگر باس بھی مجبور ہوتا ہے اس نے بھی کل تک کی مہلت مانگ رکھی ہوتی ہے اپنے باس سے، ہمیں کام آخر کرنا ہی پڑ جاتا ہے۔ کسی بھی محکمے کے ملازم سے سوال کریں کہ آپ کی نوکری کیسی ہے تو وہ یہی جواب دیتا ہے کہ اگر اس میں یہ کام نہ کرنا پڑے تو نوکری بہت ہی اچھی ہے۔

صرف صحافی اپنے کام کو پسند کرتے ہیں ،وہ ابھی اور اسی وقت پر یقین رکھتے ہیں۔ بڑے عہدہ دار اپنی ہدایات میں یہ لکھتے ہیں کہ معاملہ کی رپورٹ ہر صورت میں آج ہی دی جائے مگر اس کا ماتحت جانتا ہے کہ یہ ایک سرکاری جملہ ہے اور کل تک کی مہلت اس میں بذات خود موجود ہے۔

طالب علم جب ہوم ورک نہیں کر کے جاتا تو بہت حیلے بہانے بنا کر کل تک کی مہلت لے ہی لیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جس دن ساری کلاس کام کر کے جائے استاد اس کی چیکنگ کل تک ملتوی کر دیتے ہیں۔ ہمارے بہت سے محکمے اس کل تک پر بڑی مستعدی اور مستقل مزاجی سے عمل کرتے ہیں۔ عدالت میں کیس دائر کرانا مشکل ہوتا ہے جب کہ کل تک کی تاریخ لینا نہایت ہی سہل ہے. بس ریڈر صاحب سے مل لیں اور کل تک کیا اگلے سال کی اس تاریخ کے کل تک کی تاریخ لیتے رہیں۔ پہلے کچی تاریخیں پڑیں گی پھر پکی اور وہ بھی بہت مرتبہ کل تک ملتوی ہو جائیں گی۔

سرکاری افسران جو اس مہلت دینے کے مجاز ہوتے ہیں کہ معاملہ خود ہی کل تک ٹال سکتے ہیں وہ لازمی طور پر اسے کل تک ہی لے جاتے ہیں اور یہ مہلت خود انجوائے کر کے ماتحت کو فوری عملدرآمد کا حکم صادر کرتے ہیں۔ ہمارے نظام کی خرابی ہے یا محکمہ ڈاک کی کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہدایات یا حکم نامے کبھی کبھی مقررہ تایخ کے بعد ماتحت افسران تک پہنچتے ہیں اور ان پر بھی لکھا ہوتا ہے کہ آج ہی اس کا جواب داخل دفتر کیا جائے نتیجے میں … معاملہ پھر کل تک!

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.