چابہار ہندوستان کے کنٹرول میں ۔۔۔

3,768

پیر ۲۴ دسمبر کو ایران کی بندرگاہ چا بہار کا انتظام ہندوستان نے سنبھال لیا ہے۔جنوبی ایران میں یہ بندرگاہ ، صرف ۸۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر پاکستان کی بندرگاہ گوادر کی حریف بن کر ابھری ہے ۔ گو کہا یہ جاتاکہ چابہار بندرگاہ کا مقصد جنگ زدہ افغانستان کی معیشت کو سہارا دینا اور ہندوستان کے لئے وسط ایشیا تک تجارتی راہ داری فراہم کرنا ہے لیکن در حقیقت اصل مقصد وسط ایشیا سے پاکستان کی روابط کی راہیں مسدود کرنا ہے اور واہگہ سے کابل تک براہ راست راہ داری کے حصول میں ناکامی کے بعد چا بہار کے راستے ہندوستان کو براہ راست افغانستان سے رابطہ کے لئے متبادل راہ فراہم کرنا ہے۔ ایران کو بھی اس بندرگاہ کے ذریعہ افغانستان کے راستے وسط ایشیا سے تجارتی راہ استوار کرنے اور وسط ایشیا کے ممالک کو براہ راست آبنائے ہر مز کے دہانے پر خلیج عُمان تک رسائی حاصل ہو سکے گی اور یہ ممالک روس میں طویل راستہ کی دوری پر شمالی بندرگاہ کے ذریعہ بیرونی دنیا سے رابطہ پردارومدار نہ کر سکیں گے ۔

ہندوستان کو خطرہ تھا کہ ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی تادیبی پابندیوں کے نفاذ کی وجہ سے یہ بندرگاہ تینوں ممالک کے اشتراک سے محروم ہو جائے گی اور ۲۰۱۵ سے ہندوستان نے اس بندرگاہ کی تعمیر و توسیع پر جو سرمایہ لگایا ہے وہ برباد ہو جائے گا ۔ لیکن گذشتہ نومبر میں اس بندرگاہ کو امریکا کی پابندیوں سے مثتنی قرار دینے کی کوششیں کامیاب رہی ہیں اور گذشتہ پیر کو ایران کے جنوب میں سیستان بلوچستان میں چا بہار کی بندرگاہ میں ہندوستان کی کمپنی انڈیا گلوبل لمیٹڈ نے شاہد بہشتی پورٹ کا انتظام سنبھال لیا ہے۔

چا بہار بندرگاہ میں ہندوستان ، افغانستان اور ایران کے اشتراک کے سمجھوتے پر ۲۰۱۵ میں دستخط ہوئے تھے اور ایران کی شوری نگہبان ، گارڈین کاونسل نے نومبر ۲۰۱۶ میں منظوری دی تھی ۔ ایران اور ہندوستان کے درمیان ایک دوسرے سے خرید ی جانے والی ایک سو سے زاید اشیا پر محصول میں تخفیف پر بات چیت جاری ہے۔

ہندوستان کا دعوی ہے کہ چابہار کے بارے میں ہندوستان، افٖغانستان اور ایران کے درمیان سمجھوتے سے افغانستان کی معیشت کو مدد ملے گی لیکن در اصل اس بندر گاہ کے راستے، افغانستان پر ہندوستان کا اقتصادی ، سیاسی اور فوجی تسلط مزید گہرا ہوگا اور پاکستان کے خلاف ہندوستان کا محاصرہ اور مضبوط ہوگا۔

افغانستان میں طالبان کے بر سر اقتدار آنے سے پہلے پاکستان نے وسط ایشیا کے لئے ہرات اور کراچی کے راستے تجارتی راہ داری کھولنے کی کوشش کی تھی اور اسلام آباد اور تاشقند کے درمیان براہ راست پروازیں بھی شروع کی تھیں۔ لیکن ہرات کے راستے کراچی تک راہ داری افغانستان میں طالبان کے حریف گروہوں کے درمیان جنگ کی وجہ سے قائم نہ ہو سکی اور افغانستان کے راستے ، وسط ایشیا سے پاکستان کے روابط کے منصو بے ٹھپ پڑ گئے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.