لاہور میں بسنت، آسمان پر بہار آئے گی؟

1,358

لاہور پاکستان کا دل ہے اور یہاں کے باسی دنیا بھر میں زندہ دلان لاہور کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وطن عزیز کا یہ دل پورے پاکستان کو خون فراہم کرتا ہے۔ یہ خون ایک جنون ہے جو لاہور سے اٹھتا ہے اور پاکستان بھر میں پھیل جاتا ہے ۔لاہور کی تعریف میں جو بھی لکھا جا ئے وہ کم ہے ۔ لاہور کا ہر رنگ اتنا حسین ہے کہ اسے دیکھنے کیلئے آنکھوں کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایسے ہی تو نہیں کہا جاتا کہ،
“جنے لہور نہیں تکیا او جمیا ای نہیں”۔

لاہور کی گلیاں ، بازار ،کھانے گو کہ اس شہر کی ہر چیز ہی پاکستان اور اس کی ثقافت پر گہر ا اثر رکھتی ہے۔ لاہور کے بدلنے سے پورے ملک کی آب و ہوا بدلتی ہے۔ بہار کے آنے سے ذرا پہلے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھولوں اور مختلف رنگوں کی باتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اس زندہ دل شہر میں ہمیشہ سے ہی بسنت سے متعلق سرگوشیا ں شروع ہو جاتی ہیں۔ پہلے لوگ ایک دوسرے سے پوچھا کرتے تھے کہ بسنت کب ہو گی؟ اخباروں میں سرخیاں چھپا کرتی تھیں، دکانوں میں پوسٹر لگا کرتے تھے اور اب گزشتہ ایک دہائی سے لاہور میں ایک نئی بحث چھڑ جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس بار بسنت ہو گی یا نہیں؟ کیوں کہ بسنت لاہور میں زمین پر نہیں آسمان پر بہار لے آتی تھی ۔

آج کل بھی میڈیا پر بسنت سے متعلق ہی خبر گردش کر رہی ہے۔ پورے پاکستان کیلئے صرف بسنت خبر نہیں ہوتی مگر لاہور میں بسنت کا ہونا یا نہ ہونا خبر ہوتی ہے کیوں کہ بسنت مناتے کیسے ہیں یہ صرف لاہور ہی جانتا ہے۔ یہ لاہور ہی ہے جس نے پتنگ بازی کو بسنت بنایا ، ایک تہوار بنایا اور پھر دنیا بھر کو دکھایا کہ تہوار مناتے کیسے ہیں؟ ویسے تو پتنگ بازی ہمسائے ملک سے آئی لگتی ہے اور کچھ لو گ بسنت کو ہندوانہ رسم بھی کہتے ہیں لیکن بھارت سمیت دنیا بھر کے لوگ بسنت منانے کیلئے صرف لاہور کاہی رخ کرتے ہیں ۔ کیوں ؟ اس سوال کا جواب صرف وہی دے سکتے ہیں جنہوں نے لاہور کو بسنت مناتے دیکھا ہے یا لاہور میں بسنت منا چکے ہیں۔

لاہور نے اس تہوار کو منانا چھوڑ دیا تھا بلکہ جینا شروع کر دیا تھا ۔ یہاں پر لوگ جنون کی حد تک پتنگ بازی کرنے لگے تھے۔ سارا سارا سال پتنگ بازی ہوتی تھی۔ مقابلے ہونے لگے تھے، پیسہ لگنے لگا تھا جس کے باعث یہ کھیل خطرناک ہوتا گیا اور پھر لوگ انجانے میں دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے لگے۔ کسی کے ہاتھ میں پڑی ڈور کسی کا گلا کاٹنے لگی۔ کئی ماﺅں کے لخت جگر چھتوں سے گر کر مر گئے ۔ ایسے ہی کچھ سنگین اور جان لیوا حادثات کے باعث شہباز شریف نے تقریباً دس سال پہلے لاہور میں پتنگ بازی پر پابندی لگائی تھی جسے تحریک انصاف کی حکومت نے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔

اب دس سال بعد لاہور میں بسنت منائی جانے کی خبر اہل لاہور کیلئے عید کا چاند نظر آنے سے کم نہیں ہے ۔ لاہور میں پتنگ بازی نقصان دہ ہے لیکن اس پر کچھ احتیاطی تدابیر استعمال کر کے قابو پا یا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے ہم لاہور کو اور یہاں کے باسیوں کو کیا دے سکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا شاید مشکل ہے۔

لاہور تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے پاکستان کا بڑا اہم شہر ہے۔ لاہور نے پتنگ بازی کو ایک تہوار بنایا اور پھر یہ تہوار یہاں کی ثقافت میں رچنے بسنے لگا ۔اس تہوار نے ہماری موسیقی ، شاعری یہاں تک کے ہمارے پہناوے تک کو ایک نیا انداز دیا تھا ۔”پتنگ باز سجنا سے” لے کر” چھڈو سانوں گڈیا ں اڈان دیو” تک پتنگ بازی سے متعلق گانوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ بسنت کے قریب ہر گلو کار اور موسیقار کی خواہش ہوتی تھی کہ اس کا گانا ریلیز ہو اور انھیں بھی اپنے فنی جوہر دکھانے کا موقع ملے۔ اس تہوار میں ڈھول کی تھاپ اور بھنگڑے کو بھی ایک نیا رنگ دیا۔

بسنت وہ تہوار ہے جو ہر سال لوگوں کو قریب لے آتا تھا۔ جس دن بھی بسنت ہوتی خاندان بھرکے لوگ کسی ایک ایسے گھر میں اکٹھے ہوتے جس کی چھت اونچی ہوتی اور پھر ایک نہ ختم ہونے والا شغل شروع ہو جاتا ۔خواتین کھانے بناتیں، مرد حضرات چھتوں پر چڑھ کر پتنگ بازی کرتے، جوان گڈی اڑاتے ،بوڑھے تناویں ڈال کر دیتے، بچے پتنگوں کو خراب کرنے اور ڈور میں گنجل ڈالنے اور انہیں سلجھانے میں مصروف رہتے ۔

لڑکیاں بھی اس تہوار کے آنے پر خوشی سے نہال ہوتی تھیں کیوں کہ بسنت آتے ہی انہیں نئے کپڑے خاص طور پر پیلے رنگ کے جوڑے بنانے کا موقع ملتا تھا۔ ہاتھوں میں پیلے گجرے، بالوں میں گیندے کے پھول ،ذائقے دار کھانے اور موسیقی کے ساتھ خوب ہلہ گلہ ان کی خوشی کو دو بالا کر دیتا ہے۔

آج سے کچھ عرصہ قبل پاکستان بھر میں دو جبکہ لاہور میں تین عیدیں منائی جاتی تھیں یہاں تک کہ باقی دو عیدوں پر بھی لوگ پتنگ بازی ہی کیا کرتے تھے۔ جس طرح عید الفطر کی چاند رات کا کوئی مقابلہ نہیں ایسے ہی بسنت کی بھی چاند رات کا الگ ہی سما ہوا کرتا تھا۔ پتنگ بازی کا میلہ رات گئے تک سجا رہتا ، لائٹس ، ڈیک اسپیکر، موسیقی، بھنگڑے اور پکوان آسمانی بہار کو چار چاند لگا دیتے تھے۔ لاہور کے ہر دوسرے محلے اور چوک میں پتنگ بنانے، ڈور لگانے ، اور مانجا لگانے والے عام نظر آتے تھے۔ مگر کچھ عرصہ قبل یہ تہوار کہیں گم ہو گیا۔

دس سال پہلے کے اور آج کے لاہور میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ جو دس سال پہلے جوان تھے اب ان کی جوانی ڈھل چکی ہے اور جو بچے تھے وہ جوانی میں ہیں یا جوانی کو عبور کر چکے ہیں ۔ لاہور شہر بھی اپنے اصل سے کہیں زیادہ مختلف ہے ۔ دوسرے شہر وں، صوبوں اور قصبوں سے منتقل لوگوں نے لاہور کے دامن کو وسیع و عریض کر دیا ہے۔ مہنگائی اس قدر ہے کہ کوئی بھی گڈی ڈور خریدتے ہوئے سوچے گا لیکن اس کے باوجود بسنت کیلئے لاہوریوں کا جنون پاگل پن کی حد تک ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ بسنت واقعی کھلتی ہے یا نہیں؟ لاہور ایک با ر پھر سے اس تہوار کو جیتا ہے یا نہیں؟ اور سب سے اہم بات کہ کیا لاہور اور تمام شہری حفاظتی تدابیر کو اپنائیں گے یا نہیں؟ اگر پتنگ بازی کھلتی ہے تو اس کی اجازت کتنی ہو گی ؟ کیا کیا پابندیاں ہوں گی؟ پابندیوں کے ساتھ کیا یہ تہوار منایا جا سکتا ہے اور اگر ہاں تو یہ کام آزمایا جا چکا ہے اور لاہور نے یہ قبول نہیں کیا تھا۔

حکومت نے بسنت کی اجازت دے کر یقیناً ایک مشکل فیصلہ کیا ہے، اب شہریوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ ہمیں اس کھیل میں دوسروں کی زندگیوں سے نہیں کھیلنا۔ دھاتی تار، کیمیکل لگی ڈور، کلچ تار ، شیشہ لگی ڈور ، ہوائی فائرنگ اور ایسی دوسری چیزوں سے دور رہنا ہے کیوں کہ ہمارا ایک قدم کسی دوسرے کی جان بچا سکتا ہے اور لاہور کو اس کا کھویا ہوا تہوار واپس دلا سکتا ہے۔

اگر بسنت کے موقع پر حکومت اور شہریوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی تو نہ صرف کئی جانیں بچ جائیں گی بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار مل جائے گا۔ ان کے ٹھنڈے چولہے پھر سے گرم ہوجائیں گے ۔ گڈی ،ڈور بیچنے والوں کی چاندی ہوجائے گی، گلوکاروں اور موسیقاروں کو ایک نیا موقع مل جائے گا، سڑکوں پر کھڑے ڈھول بجانے والوں کو شادی بیاہ کے علاوہ بھی کمانے کا موقع مل جائے گا۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.