عرب بہار جو خزاں سے اجڑ گئی۔

1,320

آٹھ سال ہوئے جب ۱۷ دسمبر کوتیونس میں سڑک پر سبزی بیچنے والے نوجوان محمد بوعزیزی نے حکام کی چیرہ دستیوں سے تنگ آکر خودکو آگ لگا لی تھی جس کے شعلوں نے عوام میں ایسی آگ بھڑکائی کہ ۲۴ سال سے اقتدار پر قابض آمر زین العابدین بن علی کی حکومت کو آنا فانابھسم کر کے رکھ دیا ۔ اس آگ کے شعلے تیونس تک محدود نہیں رہے بلکہ مصر سے یمن اور لیبیا اور مراکش سے بحرین تک آمر حکمرانوں کے خلاف جمہوری انقلاب کی آگ بھڑک اٹھی جسے عرب بہار کا نام دیا گیا۔

تیونس میں تو اس بہار کے جمہوری پھول کی کونپلیں پھوٹیں جو اب بھی باد مخالف کی زد میں ہیں لیکن جن ملکوں میں عرب بہار کی لہر اٹھی تھی وہاں حالات پہلے سے بدتر ہیں۔ سب سے زیادہ عذاب مصر پر آیا جہاں ۳۷سال سے اقتدار پر قابض حسنی مبارک سے نجات حاصل کرنے کے لئے لاکھوں افراد قاہرہ کے تحریر اسکویر میں جمہوریت کی شمع کی چاہت میں دیوانہ وار جمع ہوگئے اور سترہ روز کے اندر اندر حسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا۔ فاتح عوام بہت خوش تھے کہ حسنی مبارک کے دور کے خاتمہ کے بعد ملک کی تاریخ میں پہلی بار عام انتخابات منعقد ہوئے ۔ لیکن ان انتخابات میں اخوان المسلمین کی کامیابی اور محمد مرسی کے صدر منتخب ہونے پر واشنگٹن ، تل ابیب اور ریاض تک ہل چل مچ گئی اور ان انتخابات کو رد کرنے کے لئے امریکا کی پشت پناہی اور ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کے بل پر مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور منتخب صدر محمد مرسی کو پابند سلاسل کر کے ان کو مقدمات کے گھیرے میں لے لیا۔ سعودی عرب نے بھی اخوان المسلمین پر کاری وار کرنے کے لئے جنرل السیسی کو بارہ ارب ڈالر کی امداد دی۔ لوگوں نے دیکھا کہ پھر کس طرح اسرائیل ، مصر کا دوست اور اتحادی بن کر ابھرا۔

عرب بہار نے سعودی عرب کا تو رخ نہیں کیا لیکن اس خطرہ کی پیش بینی کرتے ہوئے وہاں نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کو کار چلانے کی اجاٍٍزت دے کر اور امریکی اور مغربی فلموں کے لئے سنیما گھر کے دروازے کھول کر عرب بہار کو روکنے کی کوشش کی۔ لیکن استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں صحافی جمال خشوگی کے بہیمانہ قتل نے اقتدار کے آسمان پر ولی عہد کے چڑھتے ہوئے سورج کوگہنا کے رکھ دیا۔ پھر امریکا کے سیاسی ، فوجی اور اقتصادی چھاتے تلے اسرائیل سے قربت کی وجہ سے سعودی عرب کی متعبری کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔

تیونس کو عرب بہار کی کامیابی پر فخر تھا اور جمہوری حکومتوں نے جمہوریت کو واقعی فروغ دیا لیکن یہ حکومتیں سنگین اقتصادی مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہیں جس کے بعد تیونس میں جمہوری مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے۔ دریں اثنا تیل کے پیاسے مغربی ممالک نے لیبیا میں عرب بہار کی آڑ لے کر معمر قذافی کا نہ صرف تختہ الٹ دیا بلکہ لیبیا کی سر زمین کو ان کے خون سے داغدار کردیا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو معمر قذافی کے مجوزہ افریقی مرکزی بنک اور نئی کرنسی کے منصوبے سے شدید خطرہ تھا کہ کہیں ڈالر کی بادشاہت نہ ختم ہو جائے ۔ مغربی ممالک کو قذافی کے جوہری عزائم سے بھی دھڑکا لگا ہوا تھا۔ مغربی طاقتوں نے معمر قذافی کا تو خاتمہ کردیا لیکن اس کے نتیجہ میں ملک دو حکومتوں اور دو پارلیمنٹوں میں بٹ گیا اور جنگجو سرداروں کی ولایتوں میں تقسیم ہوگیا۔

شام میں عرب بہار نے ہولناک خانہ جنگی کا رخ اختیارکر لیا جس میں امریکا ، سعودی عرب سمیت اس کے اتحادی کود پڑے ۔ یوں عرب بہار کے نام پر ہلاکت و تباہی اور بربادی کی ایسی آگ بھڑکا دی جو چار سال گذرنے کے بعد اب بھی بھڑک رہی ہے ۔

ادھر بحرین میں عرب بہار کی جو لہر اٹھی وہ سعودی عرب نے اپنی فوجی امداد سے روک دی۔ فلسطینیوں کو امید تھی کہ عرب بہار ان کے دکھوں کا مداوا ثابت ہوگی خاص طور پر مصر کے انقلاب کے بعد انہیں توقع تھی کہ اسرایل کے خلاف مزاحمت میں ان کے ہاتھ مضبوط ہوں گے لیکن مصر میں جنرل السیسی کی فوجی حکومت اور اس کی اسرائیل کے ساتھ قربت نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

عرب بہار کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ ایک تو اس تحریک کی کوئی مضبوط قیادت نہیں تھی اور پھر اس تحریک کے پاس وسائل کی کمی تھی ۔ اس تحریک میں شامل لوگ صرف جمہوری نظام کی خواہش سے لیس تھے اور مقابلہ ان کا مالدار حکمرانوں کے فوجی اور مالی وسائل سے تھا ۔ اسی کے ساتھ عرب حکمرانوں نے عرب بہار کو اپنی بقا کے لئے شدید خطرہ گردانا اور اس کو کچلنے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کی اور مشترکہ اقدامات کئے۔

مراکش میں بادشاہ محمد V1کے خلاف شورش کے خاتمہ کے لئے سخت گیر اقدامات اور سعودی عرب کی مالی امداد کے بل پر اقتصادی اصلاحات اور مراعات کارگر ثابت ہوئیں ۔ بہت سے مبصرین کے نزدیک عرب بہار گو خزاں سے اجڑ گئی ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے ۔ اب بھی اس کی وقتی کامیابی جمہوریت پسند قوتوں کو وجدان بخشتی ہے ۔ ایک سال کے دوران چار آمر حکمرانوں تیونس کے بن علی ، مصر کے حسنی مبارک ، لیبیا کے معمر قذافی اور یمن کے صلاح کی حکمرانی کا خاتمہ کچھ کم کامیابی نہیں تھی۔ پھر اس دوران کئی ملکوں میں انتخابات ہوئے اور کم سے کم تیونس میں جمہوریت کا قیام بھی عرب بہار کا مرہون منت ہے ۔ عرب بہار نے یہ بات بھی باطل ثابت کر دی کہ عرب عوام اس قدر کاہل ہیں کہ ان سے کسی انقلابی اقدام کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ یہ سوچنا بھی غلط ہے کہ عرب بہار یکسر ختم ہو گئی ہے۔ اب بھی کئی ملکوں میں اس کی راکھ میں آگ سلگ رہی ہے اور مشرق وسطی میں وہ حالات برقرار ہیں جن کی وجہ سے آٹھ سال پہلے عرب بہارشروع ہوئی تھی ۔ اب بھی آمر حکمران اور آمرانہ حکومتیں ہیں ، عوام اقتصادی مصائب سے گذر رہے ہیں ، عدل و انصاف کا فقدان ہے اور بدعنوانی عام ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.