ہندوستان کی سیاست پر ہندو دھرم کا مکمل غلبہ

2,230

بلا شبہ اس وقت ہندوستان ، کٹر ہندوتا کے گھور اندھیرے میں بری طرح سے گھرا ہوا ہے. ملک کی سیکولرازم کی حامی ایک سو ۳۳ سالہ پرانی کانگریس پارٹی نے بھی سیاست کے لئے مذہب کا سہارا لیا ہے اور بھارتیا جنتا پارٹی سے سبقت لے جانے کے لئے کوشاں ہے۔ پچھلے دنوں پانچ ریاستوں جن میں مدھیہ پردیش، راجھستان، چھتیس گڑھ ، تلنگانہ اور میرزورم میں اسمبلیوں کے انتخاب ہوئےتھے. کانگریس پارٹی کے صدر راہول گاندھی نے مدھیہ پردیش میں انتخابی مہم کا آغاز بڑے دھوم دھڑکے سے ریاست کے دو بڑے مندروں، کامناتھ مندر اور ما پتمبر پیٹھ کے مندر میں پوجا پاٹھ سے کیا اور مہم کے دوران دوسرے پانچ مندروں میں پوجا کی اور جبل پور میں نرمدا کے گوری گھاٹ پر آرتھی پوجا میں حصہ لیا۔

انتخابی سیاست کے لئے راہول گاندھی کا مندروں میں پوجا کا یہ پہلا سلسلہ نہیں تھا ۔ گذشتہ سال گجرات میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب کے دوران انہوں نے سومناتھ اور ۲۴ دوسرے مندروں میں جا کر پوجاکی تھی ، لیکن نریندر مودی کی اس ریاست میں راہول گاندھی کی مندروں میں پوجا پاٹھ کامیاب نہیں ہوئی تھی۔البتہ اس بار مدھیہ پردیش ، راجھستان اور چھتیس گڑھ کے ریاستی انتخابات میں کانگریس کو بھارتیا جنتا پارٹی کو ہرانے میں کامیابی حاصل رہی ہے۔

بلاشبہ ملک میں سیکولرازم کے حامیوں نے انتخابی سیاست کے لئے مذہب کا سہارا لینے پر ناخوشی ظاہر کی تھی لیکن ان کے نزدیک ہندوتا کی جنونی پارٹی بھارتیا جنتا پارٹی کے سیاسی اثر کو روکنے کا یہی بہتر طریقہ ہے ۔ راہول گاندھی نے انتخابی مہم کے دوران مندروں میں پوجا پر خاص طور پر زور اس وجہ سے بھی دیا کہ نریندر مودی ہندووں میں کانگریس کو بدنام کرنے کے لئے یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ کانگریس مسلمانوں کی حامی اور یرغمالی جماعت ہے ۔ اس کی وجہ سے پچھلے انتخابات میں کانگریس کو سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اب مندروں میں جا کر راہول گاندھی نے اس تاثر کو باطل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

پچھلے سال گجرات کے ریاستی انتخاب کی مہم کے آغاز پر جب راہول گاندھی سومناتھ کے مندر گئے تھے تو مندر کے رجسٹر میں انہوں نے اپنے آپ کو غیر ہندو لکھا تھا جس پر زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا تھا۔ کانگریس کے ترجمان نے شور مچایا کہ یہ کانگریس کے خلاف سازش ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ راہول گاندھی ہندو ہیں اور مقدس دھاگہ جنیو پہنتے ہیں۔

اس پر مجھے راہول کے دادا فیروز گاندھی یا د آگئےجن کا میں دلی میں ان دنوں پڑوسی تھا جب میں سن ساٹھ میں نامہ نگار کی حیثیت سے تعینات تھا۔ میں پارلیمنٹ کے قریب رائے سینا ہوسٹل میں رہتا تھا اور دو قدم کے فاصلے پر راجندر پرشاد روڈ پر اراکین پارلیمنٹ کے بنگلہ میں فیروز گاندھی رہتے تھے۔ میرے دوست ممتاز صحافی اندر ملوہترا نے ان سے میرا تعارف کرایا تھا۔ پہلی ملاقات میں وہ مجھ سے گھل مل گئے ۔ ایک تو پڑوسی کے ناطے سے دوسرا انہیں پاکستان کی سیاست اور حالات سے بے حد دلچسپی تھی اور اردو شاعری سے بے حد لگاو تھا۔ فیروز گاندھی روزانہ شام کو اصرار کرکے مجھے اپنے بنگلہ پر بلاتے تھے۔ اُن دنوں وہ گھر میں اکیلے رہتے تھے کیونکہ ان کی اہلیہ اندرا گاندھی اپنے والد پنڈت نہرو کے ساتھ تین مورتی میں رہتی تھیں۔ اس علیحدگی کا دوش وہ نہرو کو دیتے تھے۔فیروز گاندھی اس بات پر بھی سخت ناراض تھے کہ ان کے بیٹوں راجیو اور سنجے کو اندرا گاندھی مندروں میں لے جاتی ہیں اور اپنے سیاسی مقصد کے لئے انہیں ہندو بنا دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پارسی ہیں اور ان کے بچے بھی پارسی ہیں لیکن اندرا گاندھی نے جیتے جی ان کے بیٹوں کو چھین لیا ہے اور ان کی شناخت مسخ کر دی ہے۔ وہ بڑے دکھ کے ساتھ کہتے کہ میں نے برسوں اندرا گاندھی کی والدہ کملا نہرو کی خدمت کی اور جب نہرو جیل میں تھے تو علیل کملا نہرو کی دیکھ بھال کی ۔ وہ اشک بھری آنکھوں کے ساتھ کہتے کہ پنڈت نہرو نے میری خدمت کا یہ بدلہ دیا کہ میری بیوی کو مجھ سے چھین لیا اور بچوں کا مذہبی تشخص مٹا دیا۔

اب پارسی دادا کے پوتے راہول گاندھی نے سیاست کی خاطر پوری طرح سے ہندو دھرم کا چولا پہن لیا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان میں سیاست پر مذہب کا غلبہ ہوتا جارہا ہے اور کانگریس کی روایتی سیکولرزم پسپا ہوتی نظر آتی ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. عثمان بابر کہتے ہیں

    کوئی مانے یا نہ مانے لیکن مذہب کارڈ کے بغیر بر صغیر کی سیاست بغیر نمک کے سالن کی طرح ہے۔

تبصرے بند ہیں.