تبدیلی کا نعرہ اور بیرون ملک دوروں کے اخراجات

3,476

پاکستان کی سیاست دیگر ممالک سے کچھ مختلف ہے،یہاں انتخابات جیتنے سے قبل عوامی نمائندے اور سیاسی قائدین عوام سے صرف وعدے کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ یہ وعدے انتخاب جیتنے کے بعد پورے کردیےجائیں گے۔ اگر صدر مملکت عارف علوی اپنے بیان عظیم سے مدد نہ فرماتے تو میرے لئے اس سیاسی صورت حال کی وضاحت کرنا کچھ مشکل ہوتا۔ محترم عارف علوی نے ایک بار اپنے ایک بیان میں کہا کہ شادی اور الیکشن سے پہلے کئے گئےوعدے ایک جیسے ہوتے ہیں کچھ پورے ہوجاتے ہیں اور کچھ رہ جاتے ہیں۔یہاں میں اس بات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ ارینج میرج میں وعدوں کی ضرورت نہیں پڑتی کیوں کہ یہ رشتہ والدین کی جانب سے طے کیا جاتا ہے اسے قائم کرنے یا قائم رکھنے کے لئے رام کہانیوں کی ضرورت نہیں پڑتی،جبکہ محبت کی شادی میں محبوب اپنی محبت کو آسمان سے چاند توڑ لانے کے خواب تک دکھاتا ہے جو یقینا ًخواب ہی ہوتے ہیں۔ جہاں تک میں نے تحقیق کی نوجوانوں کو خان صاحب سے اور خان صاحب کو نوجوانوں سے عشق ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے بھی الیکشن سے قبل عوام سے کئی وعدے کئے جن کی تکمیل تاحال ایک خواب ہے۔خیر ابھی حکومت کو زیادہ وقت نہیں ہوا۔ہم پہلے بھی 70 سال تک سب کچھ خاموشی سے سہتے رہے ہیں اوراب بھی شاید کئی سال انتظار کرنا پڑے۔ تحریک انصاف کے نمائندے جب اپنے وعدے پورے نہ کرسکے تو عوام نے ان کے وعدوں سے پھر جانے کو سوشل میڈیا پر یوٹرن کا نام دیا۔ خدا جانے یہ نام عام آدمی کی جانب سے تجویز کیا گیا یا پھر کسی اور سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے تخلیق ہوا لیکن اسے کافی مقبولیت ملی۔ سوشل میڈیا کے اور الیکٹرانک میڈیا سمیت عوامی حلقوں میں ”یوٹرن” کی اصطلاح اتنی مقبول ہوئی کہ وزیراعظم عمران خان کو اس پر بات کرنا پڑی۔ خان صاحب نے یوٹرن کو عظیم رہنما کی سب سے اہم خوبی قرار دیا۔ بہرحال یہ بات درست ہے کہ میدان کے باہر کھڑا شخص میدان میں کھیلنے والے کھلاڑی کی کیفیت سے آشنا نہیں ہوتا۔ یقینی طور پر تحریک انصاف کی حکومت نے بھی مسائل کے باعث ہی اپنے وعدوں میں ترمیم کی ہوگی۔

عمران خان صاحب کے وعدوں میں سے اہم وعدہ تین ماہ تک غیر ملکی دورہ نہ کرنا اور خصوصی طیارہ استعمال نہ کرنا تھا۔ خیر اس بات کو بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ ملکی مفاد میں وزیراعظم کو اس بیان سے پیچھے ہٹنا پڑا ہوگا۔ گزشتہ ادوار میں ملکی معیشت تباہ کردی گئی تھی اسے سہارا دینے کیلئے دوست ممالک سے روابط اہمیت کے حامل ہیں۔وزیراعظم عمران خان کو ملکی مفاد میں حکومت ملتے ہی بیرون ملک دورے کرنا پڑے، اس میں کوئی ممانعت بھی نہیں۔گزشتہ دنوں ان دوروں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات جاری کی گئیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے 18 ستمبر سے 20 نومبر تک کئے گئے غیر ملکی دوروں کے حوالے سے وزارت خارجہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے 6 دوروں پر 4 کروڑ 3 لاکھ اکیاسی ہزار سے زائد اخراجات آئے۔ سعودی عرب کے ایک روزہ دورے پر 30 لاکھ 99 ہزار سے زائد کے اخراجات ہوئے جبکہ ابوظہبی کے دورے پر 4 لاکھ 33 ہزار کے اخراجات آئے۔ اس کے بعد ریاض کے دو روزہ دورے پر 8 لاکھ 70 ہزار سے زائد اخراجات آئے۔ چین کا 5 روزہ دورہ قوم کی جیب پر اور ملکی خزانے پر کافی بھاری رہا ،اس دورے پر سب سے زیادہ 2 کروڑ 44 لاکھ سے زائد کا خرچہ ہوا۔ تحریری جواب کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے 18 نومبر کو ابوظہبی کے دوسرے دورے پر 39 لاکھ 90 ہزار کے اخراجات آئے جبکہ ملائیشیا کے دورے پر 75 لاکھ 43 لاکھ کے اخراجات آئے۔

سیکیورٹی کے تحت وزیراعظم کا پروٹوکول لینا غلط نہیں،وزیراعظم عمران خان ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ بائے روڈ سفر کر کے عوام کو مشکل میں نہیں ڈ النا چاہتے۔ لیکن کیا وزیراعظم دیگر مسافروں کے ساتھ عام طیارے میں سفر نہیں کرسکتے؟ کیا بیرون ملک جانے والی عام فلائٹس محفوظ نہیں؟میاں محمد نواز شریف کے دور میں بھی شاہ خرچییوں کی یہی صورت حال تھی۔ جس پر تحریک انصاف کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور یہ بالکل درست تھا کیوں کہ ان کی شاہ خرچیاں ملک اور عوام پر بوجھ تھے۔ اس تمام تر صورت حال میں سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت کے اخراجات سے معیشت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا؟

ایک عام مسافر اسلام آباد سے سعودی عرب سفر کرے تو یکطرفہ کرایہ تقریبا 50ہزار لگتا ہے۔اسی طرح اسلام آباد سے ابو ظہبی جانے کا یکطرفہ خرچہ لگ بگ 20 ہزار ہے۔ ملائیشیا سفر کیا جائے تو اسلام آباد سے ملائیشیا جانے کا اوسط خرچ 30ہزار ہے۔ جبکہ چین تک فضائی سفر کے اخراجات ایک عام آدمی کے لئے 1لاکھ روپے ہیں۔ اس تمام جمع خرچ کے مطابق وزیر اعظم کے دوروں پر ایک آدمی سے کئی گنا زیادہ خرچ آیا۔ لازماً وزیراعظم ایک عام آدمی کی طرح اکنامی کلاس میں سفر نہیں کریں گے،وزیراعظم تنہا بھی نہیں جائیں گے ان کے ہمراہ وزرا کا وفد بھی ہوگا،لیکن کیا عوام کو سادگی کا درس دینے کے بعد حکومتی شاہ خرچی درست ہیں؟ اگر حکومتی اخراجات اسی طرح رہے تو آنے والے 5 سالوں میں بیرون ملک دوروں پر کتنا خرچ ہوگا؟ اور کیا یہ اخراجات قومی خزانے پر بوجھ نہیں بنیں گے؟کیا ان سے غریب عوام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا؟ کیا سادگی کی باتیں صرف ایوان وزیراعظم کی گاڑیاں اور جانور نیلام کرنے تک محدود ہیں؟

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. Shafi کہتے ہیں

    اربوں روپے چوری اور سابق حکمرانوں کے غیر ضروری شاہانہ اخراجات پر بھی کبھی قلم کو زحمت دیجئے گا۔ آپ جناب عمران خان کو بدنام کی کوشش کرکے دیکھ لیجئے ،آپ اپنے آپ کو اس سعی لا حاصل میں بری طرح ناکام پائیں گےُ۔۔۔ہاں مگر پانچ سال کے بعد آپکو اس نوع کا تبصرہ یقیناً لائق صد توجہ و تحسین و احترام ہوگا۔۔۔ ملک کی عزت کو تار تار اور بری طرح داغدار کرنے والوں کے کرتوتوں کے نتائج اتنی آسانی سے صاف نہیں ہونگے۔ شکر ہے رب ذولجلال کا کہ ہم میں نہ صرف جناب عمران خان کو پیدا کیا بلکہ ہمیں بطور رہنما عطا کیا۔ ۔۔

  2. سا نی کہتے ہیں

    جس رپورٹ سے اپ نے یہ اعدادوشمار اخذ کئے ہیں اسی میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب کے غیر ملکی
    دوروں کے اخراجات کی بھی تفصیلات ہیں۔ اس سے یقینا یہ اخراجات کم ہیں اور دورے پر جانے والے افراد بھی۔
    دوسری بات غیر ملکی دورے دونوں سربراہان کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے طے کئے جاتے ہیں اس لئے عم مسافر طیارے اس مقصد کے لئے استعمال کرنا مشکل ہے ۔
    لکھاری کو غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اخراجات میں اعتدال بہت ضروری ہے لیکن جس طرح نیم حکیم خطرہ جان ہوتا ہے ایسے ہی آدھی معلومات عوامی شعور کے لئے نقصان دہ ہیں۔

  3. Healthzigzag کہتے ہیں

    Everything changed when anyone come in power

تبصرے بند ہیں.