اب یہ بہتر ہے کہ مسکن کریں صحراؤں کو!

779

برصغیر کی زمین پر اور کئی زاویوں سے تنقید کی جا سکتی ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس زمین نے ڈائیورسٹی کو ہمیشہ سیلیبریٹ کیا ہے۔ مذہبی تفرقات کے باوجود بڑے امن و محبت سے رہنے والے لوگ ہیں یہ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب کبھی فسادات ہوئے تو مسلم اکثریتی بستیوں میں ہندو گھروں کی حفاظت مسلمانوں نے کی اور ہندو اکثریتی بستیوں میں ہندوؤں نے مسلمان خاندانوں کی حفاظت کی۔ وجہ اس وقت یہ تھی کہ مذہبی ٹھیکیدار اس وقت اس قدر آزاد اور بدزبان ہرگز نہ تھا، لوگ روادار تھے، مذہبی معاملات کی حساسیت سمجھتے تھے اسی لئے مذہب کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے نہیں دیا کرتے تھے۔ مگر بٹوارے کی رات آئی اور پھر ضیاء کے سیاہ دور کا آغاز ہوا کہ جو ایک واحد کریڈٹ ہمارے حصے میں تھا وہ بھی ہم سے چھین لیا گیا۔ سیاسی مفادات کے لئے مذہب کو ایکسپلائٹ کیا گیا، اپنی ذات بیچنے کے لئے مذہب کا لبادہ اوڑھا گیا۔ قدیم معقولہ ہے جاہلوں کو ٹرانس کرنے کے لئے بہترین الیوژن مذہب ہوتا ہے۔ علماء خریدے گئے اور وہ ہاہاکار مچی کہ خدا کی پناہ۔ اس کے بعد ایک ایسا بےترتیب اور برداشت سے خالی معاشرہ نکل کر آیا ہے کہ سکون نام کی شہ تو سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

ریاست کبھی فسادیوں کے آگے جھکا نہیں کرتی، ریاست یرغمالیوں کو تحفظ ہرگز نہیں دیا کرتی اور مضبوط ریاستیں کبھی فسادیوں اور اس کے آئین کو للکارنے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیا کرتی۔ لیکن جب دونوں کام ریاست یا ریاستی ادارے شروع کر دیں تو وہیں سے ریاست کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اقوام ہمیشہ مشکل وقتوں میں ہی ابھرا کرتی ہیں، امریکی ابھرے تو سول وار کے بعد ابھرے، برطانوی ابھرے تو میڈیول اور اس کے بعد کی ایک طویل چپقلش کے بعد ابھرے۔ ہم اپنی مثال ہی لے لیں ۔ ہم گڈ اور بیڈ طالبان کی بحث بڑے زور و شور سے کر رہے تھے کہ اسی دوران ڈیڑھ سو بچے طالبان نامی درندے آ کر ذبح کر گئے تب یہ اکیس کروڑ کا ہجوم اور اس کے بکھرے ہوئے رہنما اکٹھے ہوئے۔ بات زیادہ پرانی نہیں، آج سے چند ماہ قبل جولائی، 2017ء کو جب نواز شریف نااہل ہوئے تو ان کی سیٹ پر ستمبر، 2017ء کو محترمہ بیگم کلشوم نواز انتخاب لڑیں۔ اس وقت ایک جماعت تحریکِ لبیک کے نام سے ابھری۔ اس سے پہلے بھی یہ گروہ وجود ضرور رکھتا تھا اور اس کے سربراہ گالیوں اور مغلظات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری برابر صلاحیت رکھنے پر شہرت تو رکھتے تھے مگر اس طرح منظم اور سیاسی طاقت کے طور پر قطعاََ نہیں ابھرا تھا۔ ممتاز قادری کے جنازے ڈیزائن کرنے والا اور اس وقت اس کی پھانسی کے خلاف احتجاج کرنے والا بھی گروہ یہ ہی تھا۔ اس این۔ اے۔ 120 کے انتخاب کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں اس جماعت نے اپنا ووٹ بینک دکھانا شروع کیا جو کہ دراصل کافی حیران کن تھا۔ کہ کیسے ایک نئی ابھرنے والی جماعت یہ کارکردگی رکھ سکتی ہے۔

اس وقت اس جماعت کے بنائے جانے کا مقصد مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک توڑنا تھا۔ پنجاب کے اندر بریلوی ووٹ بینک ہمیشہ سے (ن) لیگ کے پاس رہا ہے کیوں کہ بریلوی مکتبہ فکر کی کچھ اس قسم کی منظم جماعت نہ تھی۔ تحریکِ لبیک کو ڈیزائن کیا گیا۔ پھر ختم نبوت کا ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا جسے ایکسپلائٹ کرنے کا آغاز لال حویلی والی سرکار شیخ رشید نے اپنی اسمبلی کی تقریر سے کیا۔ ایک پندرہ سو کا جتھا فیض آباد آیا اور کئی ہفتوں تک ریاست کو یرغمال بنائے رکھا۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب ریاست کے ایک اہم ستون کو امن بحال کرنے کے لئے کال دی گئی تو اس نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔ پھر ریاست کی رِٹ کی ایسی کی تیسی کرنے والوں میں ہزار ہزار کے لفافے بھی بانٹے گئے اور اسی ادارے کے توسط سے حکومت اور فسادیوں کے مابین ایک معاہدہ ہوا، جس میں ریاست گھٹنوں پر موجود تھی اور وزیرِ قانون اپنی وزارت سے عین شدت پسندوں کی منشاء کے مستعفی ہوئے۔ نواز شریف صاحب پر جوتا اچھالا گیا، خواجہ آصف پر سیاہی اچھالی گئی اور احسن اقبال پر تو گولی تک چل گئی۔ وقت گزرا اور پھر انتخابات ہوئے اور جو اس جماعت کی تخلیق کا مقصد تھا، وہ بھی پورا ہو گیا۔ موضوع چونکہ یہ نہیں ہے لیکن پھر بھی بطور سنَد کے بتاتا چلوں کے اکثر حلقوں میں فتح و شکست کا تناسب پندرہ سے بیس ہزار ووٹ تھا اور انہی حلقوں میں تحریک لبیک اتنے ووٹ سمیٹ رہی تھی۔ پھرکہانی نومبر، 2018ء تک پہنچی جب سپریم کورٹ کے تین ججز نے ایک تاریخ ساز فیصلہ دیا اور قاضی ہونے کا حق ادا کیا۔ اگر 56 صفحات کا فیصلہ کوئی شخص پڑھے تو محاورتاََ نہیں بلکہ حقیقتاََ ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ وہ فیصلہ دراصل یہ بتاتا ہے کہ دینِ اسلام دراصل تھا کیا اور اسے کیا بنا دیا گیا؟ پوری ریاست میں سے تین ججوں نے اتنی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی اور ان تین ججوں میں جسٹس آصف سعید کھوسہ وہی جج ہیں، جو ایک سفاک قاتل ممتاز قادری کے ساتھ انصاف کرنے سے بھی نہیں چوکے تھے۔ دراصل یہ وہی لوگ ہیں جن کا انصاف کسی ممتاز قادری یا اس کے جاں نثاروں سے نہیں ڈرتا اور اپنے حلف کے ساتھ لفظ بہ لفظ کھڑے ہیں۔

فیصلہ آنے سے قبل ہی چینلز کو یہ عندیہ دے دیا گیا کہ خبردار اس پر کوئی بات نہ کی جائے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ چینلز پر ٹرانسمیشنز کی جاتیں اور اس مقدمے سے متعلق اصل حقائق عوام کے سامنے رکھے جاتے کہ کیسے ایک ذاتی جھگڑے کی آڑ میں اتنا بڑا تنازعہ کھڑا کیا گیا اور کیسے گواہان کی ہر گواہی میں تضاد تھا۔ معاملہ چونکہ حساس تھا اور سب ہی جانتے تھے کہ اسے ایکسپلائٹ کیا جائے گا، ریاست کے لئے ضروری تھا کے اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی ہوتی۔ معاملہ ایکسپلائٹ کیا گیا، قتل کے فتوے لگائے گئے اور بغاوت پر اکسایا گیا۔ آغاز پر تو عمران خان نے ایک بہت اچھی تقریر بلاشبہ کی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں احتیاط برتتے ہوئے چند باتیں فلٹر کر دینی چاہئے تھیں۔ مگر چونکہ وقت تنقید کا ہرگز نہیں تھا، بلکہ ریاست کے ساتھ کھڑا ہونے کا تھا تو ہم ریاست کے ساتھ کھڑے ہو گئے کہ اب حالات مختلف ہوں گے اور اب ریاست کچھ کرے گی۔ تقریر کے بعد خان صاحب چین کے دورے کے لئے پرواز کر گئے، کیا ہی بہتر ہوتا وہ ایوان میں آتے اور ایک پالیسی بیان دیتے۔ عمران خان اس وقت بالکل وہی غلطی کر رہے ہیں جو ان سے پچھلوں نے کی کہ پارلیمان کو اہمیت نہ دینا۔ انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے انسان کو کبھی اس مرکز کو قطعاََ نہیں بھولنا چاہئے جو ان کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ پارلیمان کو مضبوط اس کا سربراہ کیا کرتا ہے اور جب بھی حکومتوں پر کڑے وقت آیا کرتے ہیں تو یہ پارلیمان ہی ان کو سیکیور کرتا ہے۔لیکن کیا کیجئے خان صاحب مصروف تھے۔ 2014ء میں جب غیر جمہوری طاقتوں کی ایماء پر عمران خان ڈی۔ چوک پر موجود تھے تو اس وقت کے وزیرِ اعظم کو سیکیور بھی اسی پارلیمان نے کیا تھا۔

عمران خان تو چائنہ تشریف لے گئے اور ریاست اور اس کے ادارے چھپ گئے۔ تین دن سڑکوں پر چند شدت پسند جتھوں کا راج تھا کوئی ریاست کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ پھر ان مٹھی بھر لوگوں نے طے کیا کہ اسکول کھلیں گے یا نہیں کھلیں گے، ہمارے بچے اسکول کالج جائیں گے یا نہیں جائیں گے، لوگ دفتر جائیں گے یا نہیں جائیں گے۔ وہ رِٹ، وہ تحفظ، ریاست کی وہ امان جس کا یقین وزیرِ اعظم نے دلایا تھا، وہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ پھر اچانکہ بوتل میں سے چند لوگ نکلے اور انہوں نے جا کر ان کے ساتھ ایک اور سرنڈر ڈاکیومنٹ سائن کر لیا۔ لوگ پوچھتے رہ گئے کہ اس رٹ کا کیا ہوا جس کا وعدہ ریاست نے کیا تھا مگر جواب ندراد تھا۔ اس دھرنے کے بعد ہی ایک اور جلسے نما دھرنے کی کال خادم رضوی کی جانب سے پھر دی گئی۔ جس پر ریاست حرکت میں آئی اور ریاست نے اپنی رِٹ کی خاطر کوئی ہاتھ پیر مارنے کا آغاز کیا اور ہفتے کی شام خبر آئی کہ بالآخران ملاؤں کے خلاف بھی کاروائی ہونے جا رہی ہے اور ان کے خلاف مقدمات بنا دئیے گئے ہیں۔

اس گروپ کے خلاف ایکشن ہی راہِ نجات نہیں ہے بلکہ اس شدت پسندی کو جڑ سے مٹانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے بھولے لوگوں کے ایکسپلائٹ ہونے کی وجہ شعور اور علم کی کمی ہے۔ ہم لوگ تقلید کا معاشرہ ہیں۔ ہمارے نیوٹن اور آئن سٹائن سڑکوں پر، مکینک کی دکانوں پر گالیوں سے بھرے نیچر کے لاز بتاتے نظر آئیں گے۔ دوسرا ممبر و محراب پر مسلط جاہل ملّاؤں کو ریگیولیٹ کرنا ضروری ہے کہ جس کا جو دل کرتا ہے فتویٰ صادر کر دیتا ہے۔ جس کو دل کیا کافر کر دیا، جس کو دل کیا مرتد کر دیا گیا۔ اس سب سے پہلے سیاست میں مذہبی معاملات کو نمبر بنانے کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہئے۔ اس لعنت کے رد کے لئے طویل المعیاد منصوبہ بنانے اور اس پر عملدرامد کرنے کی ضرورت ہے۔

یہاں چند باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب اس طرح کے گروہ اپنے مقاصد کے لئے بنائے جاتے ہیں تو یہ اختتام پر نقصان ہی پہنچاتے ہیں، فلاح کا باعث ہرگز نہیں بنا کرتے۔ کیونکہ طاقت جب بھی ملتی ہےاس کی حوس کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ یہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ہمارے ادارے 2017ء میں اس لئے سوئے رہے کہ آگ پارلیمان اور اس کے ممبرز کے دروازے تک پہنچی ہے اور جی۔ ایچ۔ کیو محفوظ ہے۔ یہ ادارے اس وقت جاگے جب آگ ان کے اپنے دروازے تک جا پہنچی۔ فیصل رضا عابدی جیسا کمزور شخص یا کوئی بوڑھا صحافی سخت بات کرنے کا مرتکب ہو جائے تو اس کی تضحیک ضرور کی جاتی ہے۔ مگر جب ان حضرات نے ججوں پر فتوے لگائے تو کوئی نوٹس نہ ہوا۔ وہ عدالت جو آسیہ بی۔ بی۔ کیس میں مضبوط بن کے ابھری وہ یہاں کمزور نظر آئی۔ حکومت نے بلاشبہ دلیر قدم اٹھایا ہے، اب دعا یہ ہے کہ حکومت اپنے سربراہ کی یو-ٹرن والی فضیلت سے فیض لینے مت جا پہنچے بلکہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہئے اور یہ طے ہونا چاہئے کہ ریاست کسی کی کنیز ہرگز نہیں ہے ۔ریاستی اداروں کو بھی آج اپنے کنڈکٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ریاست ماں ہوتی ہے اور بچوں کی آپسی چپقلش جو بھی ہو، ماں کی حرمت اور کہا مقدم ہوتا ہے۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.