حج برائے سال 2019 ء کے انتظامات

1,316

حج برائے سال 2019 ء کے انتظامات کو مز ید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ طے پایا جس پر پاکستان اور سعودی وزراء نے دستخط کیے۔ پاکستان نے حالیہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق سعودی عرب سے حج کوٹہ میں 20 ہزار حجاج بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا، مگر سعودی حکام کی جانب سے حج برائے سال 2019ء کوٹہ میں صرف 5 ہزار حجاج کا اضافہ کیا گیا ہے۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق پاکستان سعودی عرب معاہدے کے بعد پاکستان سے آئندہ سال ایک لاکھ 84 ہزار 210 افراد فریضہ حج ادا کر یں گے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خادم حرمین شریفین سے مشاورت کے بعد نئی مردم شماری کے مطابق حج کوٹہ میں اضافے پر غور کیا جائے گا، اور زیادہ تر پاکستانی حجاج کو اولڈ منیٰ میں ٹھہرانے کی کوشش کی جائے گی۔

وزارت مذہبی امور نے حج 2019ء کے انتظامات کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستانی عازمین حج کے لیے رہائش گاہوں اور ٹرانسپورٹ کے حصول کا عمل شروع کر دیا ہے ، قونصلیٹ جنرل جدہ کی جانب سے سعودی کمپنیوں سے رہائش گاہوں اور ٹرانسپورٹ کے لیے پیشکش مانگ لی ہے۔ اسی طرح عازمین حج کے کھانے کے لیے کیٹرنگ کمپنیوں سے پیشکش بھی مانگ لی ہے۔ سعودی کمپنیوں سے پہلی بار مڈل مین کے بغیر براہ راست ٹینڈر مانگے گئے ہیں۔ اسی طرح حجاج کرام کو سعودی عرب لے جانے کے لیے مختلف فضائی کمپنیوں کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔ سعودیہ میں پاکستانی حجاج کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے گاڑیاں صرف 2015ء سے 2019ء کے ماڈل کی ہوں گی جبکہ رہائش کے لیے عمارتوں میں کم از کم 2 لفٹیں، انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ سرکاری سکیم کے تحت حج درخواستوں کی وصولی آئندہ سال جنوری میں شروع کی جاسکتی ہے۔ امسال ڈالر، ریال کی قیمت میں مسلسل اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے سرکاری اسکیم کے تحت حج کے اخراجات ساڑھے3 لاکھ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر مذہبی امور نے حج 2019ء میں فی حاجی45 ہزار روپے کی سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے آئندہ سال حج اخراجات 2018ء کی نسبت 70 ہزار روپے فی حاجی زیادہ ہونے کا امکا ن ہے۔ واضح رہے کہ حج 2018ء میں سرکاری سکیم کے تحت اخراجات 2 لاکھ 80 ہزار روپے سے 2 لاکھ 92 ہزار روپے تک تھے۔ امسال روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ میں پاکستانی حجاج کو مرحلہ وار شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے،ابتدائی طور پر اس سے صوبہ سندھ کے 35 ہزار حجاج مستفید ہونگے۔ منصوبے کے تحت حاجیوں کی تصدیق و امیگریشن کا عمل کراچی کے ہوائی اڈے پر ہوگا۔ پاک سعودی معاہدے کی روح سے پاکستانی حجاج کو ای ویزہ دیا جائے گا۔

گزشتہ دنوں دورہ ملتان کے دوران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا تھا کہ 2019ء کے حج کوانتظامات کے لحاظ سے مثالی بنایا جائے گا ۔ حج آپریشن کو ہم نے اس بار بہتر بنانے کے اقدامات کیے ہیں تاہم ابھی کچھ مشکلات باقی ہیں جو آئندہ پیش نہیں آئینگی اور حج 2019 بالکل آسان ہوگا۔سرکاری وپرائیویٹ دونوں سطح پر حج کو ٹہ میں اضافہ کیا جائے گا، شہر اولیاء میں کھڑے ہو کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کا حج مثالی ہوگا۔ نورالحق قادری نے کہا کہ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب پرائیویٹ ٹورزآپریٹرز غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ پرائیویٹ ٹوورزآپریٹر کو چاہئے کہ غلط بیانی کی بجائے حجاج کو حقائق سے آگاہ کریں ، فاصلہ 500گز ہو یا جتنا مرضی دور اتنا ہی بتایا جائے اور حجاج کرام کی تربیت درست اندازمیں کی جائے ، جبکہ علمائے کرام کو مساجد میں حجاج کی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔

بلاشبہ حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک عظیم رکن اور پوری امت کے لیے ہمہ گیر عبادت ہے۔ حج ادا کرنے والے اہل ایمان علاقوں ، رنگ ،نسل ، قبائل و برادریوں سے بالا تر ہو کر، دنیاوی ظاہری زیب وزینت کو چھوڑ کر ایک طرز کے احرام میں ملبوس ہوکر یہ اقرار کرتے ہیں کہ ’’ اے اللہ حاضر ہوں ، میرے اللہ میں حاضر ہوں ، حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ،میں حاضر ہوں۔یقیناً تعریف سب تیرے ہی لیے ہے ، نعمت سب تیری ہی ہے اور ساری بادشاہی تیری ہے تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔ حجاج کرام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق وارفتگی اور دیوانگی سے حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔ کسی بھی مسلمان کے سفر حج کا مقصد ایک فرض ادا کرنا ، اپنے ربّ کو راضی کرنا، گناہوں کی معافی مانگنا ، اپنے نفس کو پاک کرنا اور اب تک کی زندگی میں کئے جانے والے اعمال پر توبہ کرکے باقی عمر اسلامی احکامات کے مطابق گزارنے کا عزم کرنا ہوتا ہے۔

صد افسوس کہ گزشتہ دور حکومت میں حج جیسے مقدس فریضے کی انجام دہی میں بھی حکومتی شخصیات نے کرپشن کے ریکارڈ بنا کر اور حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کرکے کرپشن کی بدترین مثال قائم کی ۔ حج پہلے ہی سخت جدوجہد اور مشقت والی عبادت ہے ، حکومتی بد انتظامی کے باعث حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کیا جاتا رہا ۔ موجودہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے حج 2019ء میں حاجیوں کی سہولیات کے لئے کئے جانے والے اقدامات اور اعلانات لائق تحسین ہیں۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ حجاج کرام کے لئے جدید سہولیات کے ساتھ ساتھ حج اخراجات میں کمی لائی جائے تاکہ سینے میں اللہ تعالیٰ کے گھر اور در مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی تڑپ رکھنے والے غریب پاکستانی بھی حج کی سعادت حاصل کرسکیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.