نام شاہین ، چلے تو چاند تک نہ چلے تو شام تک

1,455

زیادہ پرانی نہیں بلکہ پچھلے سال کی بات ہے ۔ابوظہبی کا میدان تھا پاکستان کو سری لنکا کی کمزور ٹیم کیخلاف جیت کیلئے صرف ایک سو چھتیس رنز درکار تھے ۔ پوری قوم بے فکر تھی کہ میچ شروع ہوگا تو ایک دو گھنٹے میں گرین شرٹس با آسانی فتح سمیٹ کر مقابلہ اپنے نام کرلےگیں ۔ لیکن نتیجہ ایسا نکلا جس کی کسی کو توقع نہ تھی ، شاہین صرف 114 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئے اور سری لنکا میچ جیت گیا ۔گزشتہ سال ہی بارباڈوس میں 187 رنز کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستانی بلے باز صرف 81 رنز پر ڈھیر ہو گئے ۔ اب نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم ابوظہبی کے میدان میں صرف 176 رنز کا ہدف حاصل نہ کر سکی اور میچ 4 رنز سے ہار گئی یہی نہیں شاہین سیریز کا فیصلہ کن میچ بھی بھاری بھرکم مارجن سے ہار گئے ۔ نیوزی لینڈ نے 49 سال بعد پاکستان کو ہوم سیریز میں شکست دیدی ۔ گزشتہ 10سال میں پاکستانی ٹیم نے 5 بار ایسے ٹیسٹ میچز میں شکست کھائی جن میں اسے میچ جیتنے کیلئے صرف 200 رنز سے کم سکور درکار تھا ۔

ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے ۔ دو ٹیمیں میدان میں ہوں تو ایک کو ہارنا ہی ہوتا ہے ۔ لیکن شکست کھانے کا بھی کوئی ڈھنگ ہوتا ہے ۔ لڑ کر ہارے تو کوئی دکھ نہیں لیکن ہاتھ پاؤں پھول جائیں ، خود دباؤ کو دعوت دیں اور مات کھا جائیں تو یقینا ً یہ کسی کو اچھا نہیں لگے گا ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کا المیہ کچھ اور ہی ہے ۔ نہ خامیاں سمجھی جاتی ہیں اور نہ ہی ان پر قابو پانے کا خیال آتا ہے ۔ جس کی ذمہ داری کرکٹ بورڈ ، سلیکشن کمیٹی ، مینجمنٹ ، کوچنگ اسٹاف اور کپتان پر عائد ہوتی ہے ۔

سب سے پہلی بات تو یہ کہ دنیا کی کوئی بھی ٹیم ہو وہ اپنی ہوم سیریز میں مرضی کی پچز تیار کراتی ہے ا ور حریف کو زیر کرتی ہے ۔ آسٹریلوی باؤنسی پچز پر کوئی ٹیم کینگروز کو باآسانی ہرا کر تو دکھائے ۔ جنوبی افریقی تیز وکٹوں پر کوئی ہوم ٹیم سے ٹکر لے کر تو دکھائے ۔ بھارتی سلو وکٹوں پر کوئی اس کے درمیانے درجے کے اسپنرز کے سامنے بلے بازی کرکے تو دکھائے ۔ سری لنکا کی عام سی ٹیم کو گال ، دمبولا جیسی ٹرننگ وکٹوں پر کوئی آسانی سے ہرا کر تو دکھائے ۔طریقہ کار ہی یہی ہے کہ ہر ملک اپنی مرضی کی پچز بنا کر ہوم سیریز کھیلتا ہے ۔ مگر شاید پاکستان کرکٹ بورڈ اس چیز سے لاعلم ہے ۔ پاکستان تقریباً 11 سال سے امارات کو اپنا ہوم گراؤنڈ بنا کر کھیل رہا ہے ۔ لیکن آج تک انتظامیہ کو پتہ ہی نہیں چل سکا کہ کس میدان پر کیسی وکٹ بنانی ہے ۔ جو کرکٹ جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ واکا پرتھ کی وکٹ ہمیشہ تیز ہوتی ہے ۔ میلبرن کی وکٹ بلے بازوں کیلئے سازگار ہے ۔سڈنی کی پچ باولرز کومدد دیتی ہے ۔ لارڈز اور اوول میں پچ پہلے دوسرے اور آخری دن کیسا کھیلتی ہے ۔ڈربن اور جوہانسبرگ کی پچز پانچ دن میں کتنا بدلتی ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ کلکتہ اور چنائی کے میدانوں میں وکٹ پر دراڑ پڑتی ہیں اور اسپنرز جادو جگاتے ہیں ۔ یہی نہیں اگر پاکستان کی بات کریں تو سب جانتے ہیں کراچی کی پچ بیٹنگ کیلئے آئیڈیل ہے ۔ فیصل آباد اور ملتان کی پچز بھی بلے بازوں کو مدد دیتی ہیں ۔ لاہور کی وکٹ پہلے دن باؤلرز کو مدد دیتی ہے دوسرے تیسرے روز بیٹنگ اور پھر چوتھے اور پانچویں روز اسپنرز کو مدد دیتی ہے ۔ راولپنڈی کی پچ تیز ہے باؤنسی وکٹ ہے ۔اتنی طوالت سے بیان کا مقصد ہے کہ 10 سال میں پی سی بی یہ حکمت عملی ہی نہ بنا سکا کہ دبئی کی وکٹ کیسی ہوگی ، ابوظہبی کی پچ کیسی ہوگی اور شارجہ کے میدان میں پچ کیسی ہوگی ۔ یہاں تو میچ ہارنے کے بعد پاکستانی کپتان کہہ رہا ہوتا ہے کہ ہمارا خیال تھا پچ ایسا کھیلے گی مگر ہوا توقعات کے برعکس ۔ پی سی بی سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ کیا اتنے سال بعد بھی آپ کو اس بات کی ضرورت محسوس نہ ہوئی کہ ان تینوں اسٹیڈیم میں ایک مستقل نوعیت کی پچ ہی بنا لیں جس سے ہر کھلاڑی کو پتہ ہو کہ اس اسٹیڈیم میں میچ کا مطلب ہے کہ وہاں فلاں چیز ہوگی ۔

پاکستانی ناکامیوں کی بڑی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے غیر ضروری تبدیلیاں ۔ راقم بھی کرکٹ کھیل چکا ہے ۔سرخ گیند اور سفید گیند میں صرف ایک ہی چیز سمجھ آئی ہے کہ اس میں جوڑی بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے ۔ کئی سال تک عمران خان اور وسیم اکرم کی جوڑی نے دھوم مچائی ۔پھر عمران خان ، وسیم اکرم اور وقار یونس کا ٹرائیکا چھایا جن کا بھرپور ساتھ عاقب جاوید اور مشتاق احمد دیتے تھے ۔اس کے بعد وسیم اکرم اور شعیب اختر کی جوڑی میدان میں چھائی رہی جن کا ساتھ ثقلین مشتاق ، عبد الرزاق اور اظہر محمود دیتے تھے ۔ پھر ان کے بعد سعید اجمل ،شاہد آفریدی ، محمدحفیظ کا اسپن ٹرائیکا چھایا ۔ ان تمام ادوار کو اٹھا کر دیکھ لیں ان میں پاکستان نے زیادہ تر فتوحات سمیٹیں ۔اس کی بنیادی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ جوڑی دار کو اپنے ساتھی کا پتہ چل جاتا ہے ۔ اگر ایک اینڈ سے دوسرا ناکام ہے تو دوسرے اینڈ سے پہلا تباہی مچا دیتا تھا۔ دونوں ناکام ہوجائیں تو پیچھے باولنگ چینج میں موجود بیک اپ حریف کو مشکل میں ڈال دیتا تھا ۔ جو بھی میچ ہوتا تھا سارے جہان کو پتہ ہوتا تھا پہلا اوور وسیم اکرم نے ہی کرنا ہے ۔ ساتھ وقار یونس ہی نے ہونا ہے ۔ اٹیک شعیب اختر ہی کریگا ۔ آج کی صورتحال دیکھ لیں تو کسی بھی میچ سے پہلے کسی کھلاڑی کو پتہ نہیں ہوتا کہ کون باؤلنگ کا آغاز کریگا اور کون اس کا ساتھ دیگا ۔ پاکستان سلیکشن کمیٹی کسی باؤلر کی جوڑی بننے ہی نہیں دے رہی ۔ محمد عامر کی ناکامی میں سب سے بڑا کردار اس کا مستقل پارٹنرنہ ہونا ہے ۔ کسی ایک میچ میں عامر کے ساتھ جنید ہوتا ہے تو کبھی عثمان شنواری ، اگلے میچ میں فہیم اشرف اٹیک کرتا ہے تو اس سے اگلے میچ میں محمد حفیظ یا عماد وسیم اٹیک کرتے ہیں ۔ عالمی کرکٹ میں اتنی غیر سنجیدگی درست نہیں ۔ راقم دعویٰ کرتا ہے ورلڈ کپ تک 5 سے 6 باؤلر فکس کر لیں ہر کسی کو پتہ ہو کہ اٹیک اس نے کرنا ہے اور ساتھ فلاں باؤلر کریگا ۔مڈل اوورز میں کون کون باؤلنگ کریگا اور ڈیتھ اوورز فلاں کی ذمہ داری ہے پھر دیکھیے یہ ٹیم کس طرح نتائج دیتی ہے ۔خصوصا ٹیسٹ میچز میں محمد عباس کی صورت میں اچھا باؤلر مل گیا ہے اس کا ساتھ یاسر شاہ دے رہے ہیں اگر ان دونوں کے ساتھ ایک اور اچھا باؤلر ڈھونڈ لیا جائے تو گارنٹی دیتا ہوں تین اہم باؤلرز کے تال میل سے پاکستان 70 سے 80 فیصد ٹیسٹ میچ جیت سکتا ہے ۔

ایک اور بڑا مسئلہ پاکستانی بلے بازوں کا ہے ۔کچھ چیزیں وطن پرستی ہوتی ہیں اور کچھ سچائی ہوتی ہیں ۔ یہ مانا کہ پاکستان میں کئی بڑے بڑے بلے بازوں نے دنیائے کرکٹ میں اپنا نام بنایا ہے ۔ لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ان ادوار میں کئی عالمی بلے بازوں سے کہیں پیچھے تھے ۔ پاکستانی کرکٹ میں لٹل ماسٹر حنیف محمد ، ظہیر عباس ، جاوید میانداد ، انضمام الحق ، سعید انور ، محمد یوسف اور یونس خان سمیت کچھ ہی نام ہیں جن کا مقابلہ آل ٹائم گریٹ پلیئرز سے ہو سکتا ہے ۔ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو کبھی بھی بیٹنگ لائن ہماری قوت نہیں رہی ۔ پاکستان کو 80 فیصد سے زائد میچ باؤلرز نے ہی جتوائے ہیں ۔ پاکستانی بلے باز ہمیشہ سے ہی اپنی غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ لیکن مصباح دور کے بعد ان میں ایک اور چیز سرایت کر گئی ہے جس کا نام ہے غیر ضروری دباؤ اور مخالف کو زبردستی اپنے اوپر حاوی کر لینا ۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں سب ریکارڈ منظر عام پر ہے کہ پاکستانی ٹیم ہارے یا جیتے کبھی دفاعی خول میں نہیں جاتی تھی ۔ اس خصوصیت کو مصباح الحق نے ٹیم میں متعارف کرایا ۔ ایک عام سے باؤلر کو بھی اتنا احتیاط سے کھیلو کہ وہ آپ پر حاوی ہو جائے ۔ عمومی طور پر پلان یہ ہوتا تھا کہ بلے باز پہلے ڈاٹ بالز کھیلے ،کریز پر جمے اور آخر میں ہٹنگ کرکے میچ آگے لیکر جائے ۔ لیکن اکثر ہوتا پلان سے مختلف ہی تھا ۔ بلے باز غیر ضروری طور پر ڈاٹ بالز کھیلتا اور اوورز ضائع کرتا ۔ رن ریٹ کم ہوتا اور دباؤ بڑھتا تو جب میچ فنش کرنے کی باری آتی تو آؤٹ ہو کر پویلین واپس ۔ یوں دباؤ باقی آنے والے بلے بازوں پر ۔ مصباح الحق تو اس طرح کی بیٹنگ کے عادی تھے ہی لیکن انہوں نے دیگر کھلاڑیوں کو اس لت میں ڈال کر ان کا کیرئیر تباہ کر دیا ۔ مصباح الحق اپنی کارکردگی تو دکھاتا تھا لیکن یہ کارکردگی ٹیم کے کسی کام نہ آتی تھی ۔ سرفراز احمد کے آنے کے بعد ایک بار پھر ٹیم نے جارح مزاج اپنایا اور مختصر فارمیٹ میں ٹیم بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ پی ایس ایل کی وجہ سے کافی ٹیلنٹ سامنے آیا ہے ۔جس نے ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میں خود کو منوایا ہے ۔ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کے زیادہ تر لڑکے مصباح کی قیادت میں نہیں کھیلے اس لیے انہوں نے ٹک ٹک کا سبق نہیں اپنایا اور جارح مزاجی اپنائی اور کامیابی سمیٹ رہے ہیں ۔

مگر بات کریں ٹیسٹ کرکٹ کی تو وہاں اب بھی کئی خامیاں ہیں ۔ جس کی بڑی مثال گزشتہ سال سری لنکا کیخلاف 136 رنز کا ہدف حاصل نہ کرنا ہے۔ دو ماہ قبل آسٹریلیا کیخلاف یقینی ٹیسٹ جیت کا ڈرا میں بدل جانا اور اب حال ہی میں نیوزی لینڈ کیخلاف 176 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ڈھیر ہونا شامل ہیں ۔ان سب میں سب سے زیادہ قصور وار خود سرفراز احمدہیں ۔ وہ مصباح الحق کے برعکس ہیں ۔ مصباح پرفارم کرتا تھا لیکن ٹیم کو مشکل میں ڈال دیتا تھا ۔90 کی دہائی والی کرکٹ کھیلتے کھیلتے قومی ٹیم ون ڈے میں 9 ویں رینکنگ تک چلی گئی تھی ۔بات سرفراز کی کریں تو اس پر قسمت کی دیوی مہربان ہے سرفراز سے نہ بڑی ہٹس لگتی ہیں اور نہ ہی بڑی اننگز کھیلی جاتی ہیں ۔ ہر 15 سے 20 اننگز کے بعد ایک بڑی اننگز کھیلنا کپتان کے شایان شان نہیں ۔ سرفراز احمد کی بطور بلے باز اور وکٹ کیپر کارکردگی کسی بھی طور ٹھیک نہیں ۔ کسی کھلاڑی سے فیلڈنگ میں تھوڑی سی چوک ہو جائے تو سرفراز کی نصیحتیں اور غصہ سب ٹی وی پر دیکھ اورسن رہے ہوتے ہیں ۔ کوئی بلے باز آؤٹ ہوجائے تو سرفراز کا ری ایکشن سب کے سامنے ہوتا ہے ۔ کسی باؤلر کو مار پڑ رہی ہو تو سرفراز کی باتیں سننے والی ہوتی ہیں ۔ لیکن جب مشکل صورتحال میں غیر ضروری شاٹ کھیل کر سرفراز پویلین لوٹ رہے ہوتے ہیں تو ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ جب وکٹ کے عقب سے کیچ گرا دیں یا اسٹیمپ مس کر دیں تو کوئی آپ پر غصہ کرنے والا نہیں ۔سرفراز کو اپنے کھیل پر توجہ دینی چاہیئے پہلے خود اسٹیو اسمتھ ، ویرات کوہلی ، جوئے روٹ اور اے بی ڈویلیئر ز کی طرح پرفارم کرے پھر دوسروں پر اپنا نزلہ گرائے ۔

اظہر علی اور اسد شفیق مجموعی طور پر 130 سے زائد ٹیسٹ کھیل چکے ہیں ۔ گزشتہ 8 یا 9 سال سے قومی ٹیم کا حصہ ہیں لیکن آج تک ان کے چہرے پر اعتماد نظر نہیں آیا ۔ جب یہ میدان میں اترتے ہیں تو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ کوئی بڑا بلے باز ہے یا یہ کوئی کچھ کرنے کے ارادے سے میدان میں جا رہا ہے ۔ نیوزی لینڈ کے خلاف حال ہی میں عبرت ناک شکست میں اظہر علی اور سرفراز احمد کا کلیدی کردار ہے ۔صرف 41 رنز پر 7 وکٹوں کا خزاں کے پتوں کی طرح گر جانا اور وہ بھی کلب لیول کی اسپن باولنگ کیخلاف کچھ ٹھیک نہیں۔ اظہر علی نے 8 بلے بازوں کے ساتھ بیٹنگ کی مگر ٹیم کو جتوا نہ سکے ۔آپ سیٹ بلے باز ہو کر ٹیل اینڈرز کے ساتھ کھیل رہے ہو اور خود مخالف باؤلر کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے ہو۔ پچ خراب کھیل رہی ہو اور آپ پہلی ہی گیند پر سنگل لیکر ٹیل اینڈر یاسر شاہ کو آگے کر دیتے ہیں تو یہ کوئی بہادری نہیں بلکہ بزدلی ہے ۔ حسن علی ، بلال آصف ، یاسر شاہ ، محمد عباس جیسے ٹیل اینڈرز مشکل صورتحال میں بلے بازی کرنے آتے ہیں اور آپ خاموشی سے سنگل لیکر دوسرے اینڈ پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔نہ ان کو نصیحت کرتے ہو نہ ان کو پلان دیتے ہو۔ کیا ایسا ہوتا ہے بڑا بلے باز ؟ ایسا دکھائی دیتا تھا اظہر علی نے خود شکست تسلیم کر لی ہے ۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ دیکھو میں تو دوسرے اینڈ پر ناٹ آؤٹ رہا مگر میرا ساتھ ہی کسی نے نہ دیا ۔حالانکہ اس صورتحال میں اگر ویرات کوہلی ، اسٹیو اسمتھ ،روہت شرما ، دھونی ، ڈی ویلیئرز ، روٹ ، ولیم سن ، اورروز ٹیلر جیسا کھلاڑی ہوتا تو جم کر مخالف کی پٹا ئی کر رہا ہوتا اور اس کے ساتھ ٹیل اینڈر دوسرے اینڈ پر کھڑا کھڑا مخالف باؤلر کی درگت بنتا دیکھ رہا ہوتا ۔ اظہر علی ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز بھی بنا لیں تو وہ بیکار ہیں کیونکہ وہ مشکل صورتحال میں خود کو بڑا بلے باز ثابت کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ سعد علی ، عثمان صلاح الدین سمیت ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے والے دیگر کھلاڑیوں کو موقع دے اور ان پر بھروسہ بھی کرے ۔جبکہ سرفراز احمد بھی دوسروں پر خوب غصہ ہوں اور ڈانٹیں لیکن اس سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانکیں اور اپنی انفرادی کارکردگی پر توجہ دیں ۔

راقم دعا گو ہے کہ پی سی بی حکام ،سلیکشن کمیٹی ، اور قومی کھلاڑی اس تحریر کو صرف تنقید ہی نہ سمجھیں بلکہ ایک حقائق نامہ سمجھ کر غور کریں کیونکہ پاکستانی قوم اور کرکٹ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ بطور قوم ہم اپنے کھلاڑیوں ، اپنی ٹیم اور سب سے بڑھ کر اپنے وطن کو نیچا نہیں دیکھ سکتے ۔ قوم چاہتی ہے ہر میدان میں ہر مقابلے کے بعد سبز ہلالی پرچم ہی بلند ہو اور دنیا ہمارے کھلاڑیوں کو سب سے بہترین قرار دے۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.