نظام تعلیم توجہ کا متلاشی

983

ملکی حالات پر نگاہ دوڑائیں، تو اِس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وطن عزیز میں حکمرانوں کی ترجیحات میں تو نظام تعلیم شامل ہی نہیں رہا۔ ابتدائی تعلیمی درسگاہوں سے لے کر جامعات تک کے طالبعلموں کو جو معیاری سہولیات فراہم کرنی چاہیں اُن کا فقدان ہے۔ وہ سہولیات جو دُنیا کی ترقی پذیر ممالک کو حاصل ہیں۔

اوراق تاریخ شاہد ہیں کہ کسی بھی قوم کی اپنی زبان ذریعہ تعلیم ہوتو وہ قوم ترقی کی منازل و مدارج طے کرتی ہے اور منازل کا حصول آسان ہوجاتا ہے، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اِس کے تعلیمی نظام میں پنہاں ہوتا ہے۔ فروغ تعلیم کے ذریعے ہی افراد عِلم و آگہی کی دولت سے آشنا ہوسکتے ہیں۔

وطن عزیز کو روز اوّل سے ہی تعلیمی مسائل کا سامنا ہے اور آج تک اِن مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں، بلکہ دن بہ دن مزید اس میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ اِس طبقاتی تعلیمی نظام نے معاشرے کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، جو آگے چل کر درجنوں طبقاتی نظام میں منقسم ہوجاتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اور اقوام اپنی قومی زبان میں سائنسی عُلوم و فنون میں تعلیم و تدریس کرتے ہیں۔ چین، رُوس، جرمنی اور فرانس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح اِن ممالک نے اپنی قومی زبان کو فوقیت دی اور ترقی کی دوڑ میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ لیکن پاکستان نے اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے تجربات میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیا۔ جبکہ ہمارے بعد آزادی کی نعمت سے فیض یاب ہونے والے ممالک نے اپنی قومی زبان کو تعلیم کا ذریعہ بنایا اور ہم سے زیادہ ترقی یافتہ بن گئے۔

دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے جو ہم پیچھے رہ چکے ہیں، اِس کی اہم وجہ ہے کہ ہم نے اپنی قومی زبان کو ترجیح نہیں دی۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مختلف ادوار میں اصلاحات کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کے باوجود ملک کے نظام تعلیم میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آسکی ہے۔ ہم آج شرح خواندگی کے اعتبارسے دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔ ایک دور تھا جب عربی، فارسی اور اردو کو ترجیح دی جاتی تھی، اِنہی زبانوں کی بدولت ہم شِبلی نعمانی، سَر سید احمد خان اورعلامہ اقبال جیسی شخصیات کے عِلم سے فیض یاب ہوپائے ۔ اِس کے بعد ہم نے عَربی کو ختم کیا پھر فارسی اب اردو زبان کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو انگریزی زبان کو حاصل ہے۔ اِس کی بنیادی وجہ ہے کہ ہمارا دوہرا نظام تعلیم ہے جو اردو مِیڈیم اور انگریزی مِیڈیم میں بٹا ہوا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا نظام تعلیم ترقی کرے اور ہم اس میں بہتری کے خواہاں ہیں، تو سب سے پہلے پرائمری سطح کی تعلیم یکساں طور پر دی جائے۔ کیونکہ آٹھ ، دس سال کی عمر بچوں کی نشونما اور سیکھنے کی ہوتی ہے جس سے اِن کی شخصیت پر مثبت تاثر پڑتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں کتابوں، تقریروں اور مباحثوں کے ذریعے ہی نسل نو کی تخلیقی صلاحیتوں میں نِکھار پیدا کیا جاتا تھا۔ لیکن اب تعلیمی اداروں میں ایسے پروگرامز کم ہی منعقد کیے جاتے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل نے اِس روایت کو دوباره قائم کرنے کی کوشش تو کی ہے، لیکن باقی دیگر چینلز نے وہ ہی روائیتی مارننگ شو والا انداز اپنا رکھا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی خامی یہ ہے کہ اِس میں استاد صرف تنخواہ کیلئے پڑھاتا ہے جبکہ طلبہ صرف اِس لئے پڑھتے ہیں کہ وہ فیس ادا کرتے ہیں۔ ہمارے نظام تعلیم میں موجود تاجرانہ سوچ کی وجہ سے اساتذہ کا احترام ختم ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا نوجوان عِلمی میدان میں مسلسل ناکامی سے دوچار ہے۔

اب تو بَس اساتذہ کِلاس میں لیکچر دے کر اپنی جان چھڑوانے کو ترجیح دیتے ہیں، تو طالب علم بھی سیکھنے کے متحمل نہیں، بَس نصاب کو رٹ رٹا کر امتحان پاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی اکثریت پڑھنا ہی نہیں چاہتی بلکہ ہمارے نظام تعلیم نے ان کو یہ عادت ڈال دی ہے کہ وہ سالوں پرانے نوٹس کی فوٹو کاپی کرواکر اپنا فرض پورا کردیتے ہیں۔ محنت کرنے کے بجائے ان کو تمام لیکچرز نوٹس کی صورت میں بیٹھے بٹھائے مِل جاتے ہیں۔ نظام تعلیم کی بہتری اور طلبہ کے وسیع تر مفاد کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ کرام کو جدید طریقہ ہائے تدریس سے روشناس کرانے کے لئے خصوصی تربیت دی جائے، تاکہ وہ کمرہ جماعت میں جاکر طلبہ کو مؤثر انداز میں پڑھا سکیں ۔

خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فن خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.