“گناہ ٹیکس” ایک اور کٹّا کُھل گیا

1,400

بھلا ہو نئے پاکستان اور اس حکومت کا جو آئے روز ایک نیا کٹا کھول دیتی ہے۔ ویسے بھی حکومت، باتوں اور لمبی لمبی تقریروں کے علاوہ کٹے ،مرغی اور انڈوں پر چلانے ہی کی تو کوشش کی جا رہی ہے تو ایسے میں پھر کٹے ہی کھلیں گے۔ میڈیا پر بریکنگ نیوز کا سکرین شارٹ دیکھا جس پر واضح الفاظ درج تھے کہ اب سگریٹ پینے پر گناہ کا ٹیکس بھی لگے گا۔ لاحول پڑھا اور سوچنے لگا کہ کیا گناہ کرنے کیلئے اب ٹیکس دینا پڑے گا؟ کیا ٹیکس دے کر گناہ کرنا جائز ہو جائے گا؟ سگریٹ نوش حضرات بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ گناہ ہے یا مکروہ ؟ مولوی حضرات کے فتوے بھی جلد آ جائیں گے۔ گویا پاکستان میں ایک نئی بحث چھڑ گئی بلکہ نئے پاکستان کا نیا کٹا کھل گیا۔

گناہ پر ٹیکس متعارف کرانا بظاہر ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن اگر غور کیا جائے یا مستقبل میں جھانکنے کی کوشش کریں تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک منزل پانے کیلئے پہلا قدم ہو۔ ایسی منزل جہاں ٹیکس لگا کر گناہ کرنے کی چھوٹ دی جائے۔ ہو سکتا ہے سگریٹ کے بعد شراب کی باری آئے کہ آپ ٹیکس ادا کریں اور شراب پی لیں، ٹیکس ادا کریں اور زنا کر لیں، ٹیکس ادا کریں اور سود کا کاروبار کرلیں خیر سود پر تو ہماری ساری معیشت ٹکی پڑی ہے ۔

ماضی میں بھی حکومتوں نے عوام کی سگریٹ سے جان چھڑانے کیلئے سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی ،سگریٹ مہنگے کئے ،سگریٹ کی ڈبی پر خطرناک ترین تصاویر لگائیں اور طرح طرح کے جتن کئے لیکن موا سگریٹ جس کے منہ لگا چھٹنے کا نام ہی نہیں لیتا۔

حکومت سے سادہ سا سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر سگریٹ پر ٹیکس لگانا ہی تھا تو کیا اسے گناہ کا نام دینا ضروری تھا؟ کیا یہ ایک غیر شرعی فعل نہیں ہے؟ شاید بہت سوں کونہ لگے لیکن مجھے یا مجھ جیسوں کو تو لگا کہ یہ سراسر غیر شرعی فعل ہے؟ کیونکہ جتنا میں جانتا ہوں گناہ پر سزا ہوتی ہے ٹیکس نہیں دیا جاتا۔ گناہ پر ٹیکس لگانے کا کہہ کر شاید گناہ کی ترغیب دی جا رہی ہے اور یہ بھی شرعی طور پر جائز نہیں۔ ہو سکتا ہے حکومت کے ایسے اقدامات سے سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی ہو لیکن اس انداز سے درحقیقت گناہ کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ کیونکہ جو شخص سگریٹ پچاس روپے کی پی رہا ہے وہ ساٹھ، ستر اور سو کی بھی پیے گا لیکن اب کی بار تو بھر پور پیے گا کیونکہ اب اس نے گناہ کرنے کا ٹیکس بھی بھر دیا لہذااب کون مائی کا لعل اسے روک سکتا ہے؟

اب ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ گناہ کے ٹیکس سے یعنی گناہ سے کمایا پیسہ حلال ہو گا یا حرام ؟ حکومت حرام پیسے سے چلائی جا سکتی ہے؟ وہ لوگ جو حکومت میں آنے سے پہلے ریاست مدینہ کی مثالیں دیتے تھے وہ گناہ کی کمائی کے بارے کیا کہیں گے؟ کیا ریاست مدینہ میں گناہ کی کمائی جائز ہو گی ؟ عوام کی فلاح کیلئے خرچ کی جا سکے گی؟

اب پتہ نہیں یہ پالیسی کیسے اور کیوں کر بنائی گئی لیکن حکومت سے درخواست ہے وہ جو بھی کرے لیکن مذہب اور اس سے جڑی چیزوں سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے اور کچھ بھی کرنے سے پہلے اور بولنے سے پہلے ایک بار سوچ لیا کرے یا کسی سوچنے سمجھنے والے بندے سے مشورہ ہی کر لیا کرے ،کیوں کہ پالیسیاں کوئی اشتہار نہیں ہوتے جن کو مشہور کرنے کیلئے ٹیگ لائن یا دل کو چھو لینے والے الفاظ استعمال کئے جائیں۔

اس حکومت اور وزیراعظم کو کسی غیر سے نہیں بلکہ اپنی ہی زبان سے خطرہ ہے ۔ نہیں یقین تو دیکھ لیں ۔۔ نادیدہ طاقتیں ویسے ہی حکومت کے ساتھ ہیں، اپوزیشن ہے ہی نہیں یا صرف نام کی ہے اور اس کا بھی بھرکس نکلا ہوا ہے، مذہبی طاقتوں کوبھی قابو میں کر لیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود اگر حکومت کو خطرہ ہے تو صرف اپنی ہی زبان سے ہے۔ وزیراعظم اور ا ن کے وزرا اپنے بیانات سے ایک نیا کٹا کھول دیتے ہیں اور پھر دوسرے وزرا، مشیر اور ووٹرز ان تمام بیانا ت سے چاک ہونے والا گریبان رفو کرنے لگ جاتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے وزیراعظم صاحب کو میڈیا سے پتہ چلا تھا کہ کرنسی کی قدر کم ہو گئی ۔ اللہ جانے کون ہے جو ملک چلا رہا ہے ؟ وزیراعظم کو پتا بھی نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ اور کون کیا کر رہا ہے؟ بھلا ہو میڈیا کا جو مجھے اور وزیراعظم کو پتہ چل جاتا ہے کہ ملک میں کیا کیا ہو رہا ہے۔

عمران خان کو اب اس بات پر یقین کر لینا چاہئے کہ اب وہ وزیراعظم ہیں کسی کنٹینر پر نہیں کھڑے، لہذا بولنے سے پہلے اپنے الفاظ پر غور کر لیا کریں۔ حکومتی وزرا اور مشیروں کو بھی سمجھائیں۔ پالیسی بناتے ہوئے بھی سوچ لیا کریں ضروری نہیں کہ حکومت ہمیشہ اپنے الفاظ اور بیانات سے ہی پہچانی جائے بلکہ کوئی کام اور پالیسی بھی یاد رہنی چاہئے۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.