’’صداقت اک کشمکش ‘‘

1,248

آگ! آگ آگ، مجھے بچاؤ ۔۔۔۔ یہ آگ مجھے جلا ڈالے گی۔ آہ! ہیری نوروز گہری نیند میں چلا رہا تھا- اس کے چہرے پر کرب و اذیت کے آثار تھے، جیسے وہ واقعتا ً’’جھلسنے‘‘ کے عذاب سے گزر رہا ہو- وہ اٹھ بیٹھا اور جنون کی کیفیت میں اپنے آپ کو ٹٹولنے لگا۔۔تو کیا میں خواب۔۔؟وہ بھاگ کر سامنے لگے آئینہ کے آگے کھڑا ہوا اور اپنا چہرہ دیکھنے لگا۔ مم میر۔۔ میرا چہرہ تو پورا جل گیا تھا۔ بارود، آگ، دھواں۔۔۔ اف ۔۔اس نے آنکھیں بند کر کے فوراہی کھول دیں جیسے اس خوفناک منظر سے بچنا چاہتا ہو- یہ خواب متواتر تیسری بار مختلف انداز سے اس کو نظر آیا تھا جس نے اس حد تک اس کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا ورنہ وہ ایک مضبوط اعصاب رکھنے والا نڈراور دلیر انسان تھا۔ ڈر، خوف، لوگوں کا دباؤ نام کس شے کے ہوتے ہیں؟ وہ نہ جانتا تھا۔ مگر اب محض ایک خواب اسے کس جگہ لے آیا تھا۔‘‘آہ!‘‘ اس کے منہ سے بے بسی سے نکلا۔

مجھے کیا ہو گیا ہے؟ یہ کیا میرے دماغ پر ثبت ہو کر رہ گیا ؟وہ وہیں بیٹھ گیا اور اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ اس کی آنکھوں کے آگے وہ مناظر ایک فلم کی طرح چلنے لگے جب وہ ٹینک میں بیٹھ کر مسلم آبادی کی طرف گولے داغتا ہوا آگے ہی آگے بڑھ رہا تھا ۔تین بچے اس کے ٹینک کے آگے آ کر ا س کو آگے بڑھنے سے روک رہے تھے ۔ وہ اور اس کے ساتھی قہقہے لگا رہے تھے۔ بچوں نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے پتھر ان پر پھینکے؛ مگر اس نے تینوں بچوں کوایک لمحے میں کچل دیا اور آگ برساتے آگے بڑھ گیا ۔کاکروچ! ہنھ!! اسکا ساتھی بولا۔ آبادی جب پوری طرح آگ اور دھوئیں میں ڈوب گئی تو وہ کھلی سڑک پر آگیا اب اس کا رخ ہیڈ کواٹر کی جانب تھا – جہاں اس کے ساتھی آرام کر رہے تھے انہوں نے اس کو بھی آفر کی لیکن اس کی طبعیت بھاری ہو رہی تھی- ہیری نوروز ایک تربیت یافتہ، محنتی اور باوقار فوجی تھا – اس کا پورا کیرئیر شاندار کارکردگی سے پر تھا۔

‘‘ کیا ہوا ہیری؟خیر تو ہے؟سرل یاد آ رہی ہے؟’’ڈینئیل نے گلاس بڑھاتے ہوئے رازداری سے شرارتاکہا۔’’ نہیں یار ‘‘شاید بہت دنوں سے نیند پوری نہیں ہو رہی – میرا خیال ہے میں کچھ دیر آرام کر لوں’’ہیری اٹھ کھڑا ہوا ،گلاس اس نے وہیں چھوڑ ا اور اپنے کمرے میں چلا آیا۔ اس کا سر درد آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ پیٹ میں بھی درد محسوس ہوا۔ وہ واش بیسن کے پاس کھڑا ہاتھ دھو رہا تھا جب اسے ایک بڑی سی قے ہوئی۔سر درد بڑھ گیا – وہ بمشکل بستر تک پہنچا اور اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا –

اس نے آنکھیں بند کر لیں – ’’وہ ٹینک میں بیٹھا نیویگیٹ کررہا تھا جب وہ تین بچے اسے نظر آئے۔’’ پلیز ہمیں نہ مارو۔ ہم بھی تمہارے بچوں جیسے ہیں۔تم ہمارے چچا ہو۔دیکھو ہمارے ہاتھوں میں پتھر ہیں‘‘۔ تینوں بچوں کی آوازیں اب اسکو صاف سنائی دے رہی تھیں۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر‘’ایک ایک کر کے تینوں نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے پتھر اسکے ٹینک پر اچھال دیئے اور پورے ماحول کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ ٹینک سے کود پڑا اور ایک سمت دوڑنے لگا وہ آگ بھرے دریا سے نکل رہا تھا- اچانک وہ بچے اسکو گھسیٹنے لگے‘‘۔ چھوڑو۔ ارے پاگل ہو!چھوڑو مجھے۔’’وہ بھاگ رہا تھا اور خون میں لت پت وہ بچے ؛ اسے آگ میں گھسیٹ رہے تھے- وہ ہزیانی انداز میں چیخنے لگا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔‘‘اوہ! وہی خواب۔۔۔! وہی منظر! بار بار ایک ہی طرح! کیوں؟؟’’وہ پریشان ہوکر ماتھے پر ہاتھ رکھے کمرے میں ٹہلنے لگا۔

وہ کوئی معمولی انسان نہیں تھا بلکہ ایک مضبوط اعصاب والا دلیر اور قابل فخر فوجی تھا- اس نے اپنے 25 سالہ کیرئر میں کئی قابل ذکر کارنامے انجام دیئے تھے۔ جس میں بیت المقدس کو کو نذرآتش کرنا بھی شامل تھا۔ اس کی میز تمغوں اور اعزازی شیلڈز سے بھری پڑی تھی- جنرل ہیری نوروز صیہونی فوج کا ایک قابل ذکر نام ؛جو ایریل شیرون کے قریبی ساتھیوں میں بھی شمار کیا جاتا تھا- اسے کتب بینی سے بے حد لگاؤ تھا خصوصا’’تاریخی کتابوں سے – پچھلے سال اس کی بیوی نے اس کی سالگرہ پر بھی اسے‘’تاریخ اسرائیل’’تحفتہ’’دی تھی جس میں ازل سے تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تفصیل درج تھی۔اس کا بک شیلف ؛جدید اور قدیم لٹریچر کا خوبصورت امتزاج رکھتا تھا۔

اس دن جب اس نے تمام ٹینک سواروں کو حکم دیا کہ آج کوئی فائرنگ نہیں کی جائے گی صرف گائوں کا محاصرہ ہو گا- ۵ گھنٹے کے محاصرے کے بعد جب وہ ہیڈ کوارٹر آیا تو کافی ہشاش تھا ،مگر صبح ہونے تک وہی کیفیت۔’’ہیری! میں کچھ عرصے سے تم میں بہت تبدیلی محسوس کر رہا ہوں‘‘ چیف اسکائیپ پر اسی سے مخاطب تھے‘‘۔کک؛ کیسی تبدیلی سر؟’’وہ حیران ہوا۔‘‘ تم کچھ دن آرام کر لو۔ میں نے پرسوں صبح فرانس کی ٹکٹ بک کر والی ہے ۔’’تمہاری بیوی تمہیں مس کر رہی ہو گی‘‘لیکن سر!میں تو ٹھیک ہوں- میرے خون کا آخری قطرہ بھی عظیم اسرائیل کے لئے ہے۔میں اس حالت میں اپنے ملک کو چھوڑ کر کیسے؟‘‘ہیری منمنا رہا تھا اسکے سر میں شدید درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں-‘‘بس مجھے یہی کہنا تھا‘‘ چیف آف لائن ہو چکے تھے- ہیری نے ہاتھ بڑھا کر لیپ ٹاپ بند کر دیا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ اس کادماغ کچھ سوچنا چاہتا تھا مگر وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا- اس کا ذہن تاریکی میں ڈوبتا چلا جا رہا تھا-
فرانس کی پر سکون فضا میں جب وہ اپنے بچے اور گھر والوں کے ساتھ خوش گپیاں کررہا تھا اور فلسطین کی جنگ کے قصے سنا رہا تھا۔ سب بہت دلچسپی سے اس کی باتیں سن رہے تھے کہ اس کی آنکھوں میں وہی منحوس منظر آگیا ۔اس کے چہرے پر کرب واضح ہو گیا- اس کی بیوی بولی:‘’کیا تم یہاں آکر خوش نہیں ہو ہیری؟’’وہ متغیر سی نگاہوں سے اسے دیکھتا رہ گیا-‘‘کیا واقعی ہیری؟‘‘ اس کی ممی مسکرا کر بولیں ؛مگر وہ جیسے کہیں اور تھا۔‘‘ڈیڈی یہ دیکھیں!‘‘نائیل پرجوش انداز میں ہاتھ میں پکڑے اسے کچھ دکھا رہا تھا- اسے لگا جیسے وہ اللہ اکبر بول رہا ہو اور اسے پتھر مارنے والا ہو۔‘‘نہیں’’وہ چیخا‘‘پلیز نائیل! ایسا مت کرو‘‘ اسکا انداز ملتجیانہ ہو گیا ،وہ ڈر کر صوفے کے پیچھے چھپ گیا۔ ‘‘

ہیری!’’اس کی بیوی آگے بڑھی، اس کے لئے یہ انداز بالکل نیا تھا۔ ’’کیا ہو گیا ہے ہیری؟ نائیل تم کو اپنی پینٹنگ دکھانے لایا ہے۔ دیکھو تو کس قدر خوبصورت پینٹنگ بناتا ہے’’۔ اب وہ نائیل کا ہاتھ تھامے اس کے پاس کھڑی تھی۔‘‘ہیری! کیا تم مذاق کررہے ہو؟‘‘ اس کی ماں بھی اپنی نشست سے اٹھ گئی تھی۔‘‘ ممی! ممی بچا لو مجھے۔ یہ ۔۔۔یہ مجھے مارنے آیا ہے دیکھو اس کے ہاتھ میں پتھر ہیں یہ آگ لگا دے گا۔یہ مجھے جلانے آیا ہے۔مجھے بچا لو ،مجھے۔۔آہ۔۔۔آہ’’ہیری ہزیانی کیفیت میں چلاتے ہوئے بولا، پھر وہ اٹھ کر بھاگنے لگا اور سیڑھی سے ٹھوکر کھا کر گر پڑا ۔اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا ۔ اب وہ وہیں زمین پر چت پڑا تھا-‘‘ڈیڈی!’’نائیل نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ وہ سہم گیا اس کی آواز بند ہو گئی۔ اس نے نائیل کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے ۔‘‘ مجھے مت مارو۔ پلیز’’ وہ گڑگڑا رہا تھا -‘‘ڈیڈی! آئی لو یو، ڈیڈی!!’’نائیل بہت پریشان ہو گیا تھا اتنی دیر میں ایمبولینس آ گئی۔ اسپتال میں ہیری نوروز کی سائیکوتھراپی شروع کر دی گئی۔ 3 مہینے کی چھٹی کے بعد واپس غزہ آکر وہ کافی اچھا محسوس کر رہا تھا- آج اسے ایک مشن پر کمانڈ کرنا تھا ۔وہ میز پر رکھے نقشے کو غور سے دیکھ کر پلان بنا رہا تھا-

مغربی کنارے پر بے بس بستی کے نہتے باسیوں پر گولے داغتے پھر اسکے سر میں شدید درد کی لہر اٹھی اس نے چلتی رائفل کی فائرنگ کا سوئچ آف کردیا اور وائیر لیس پر تمام ٹینکوں کو فارورڈ کر دیا۔ بیک وقت شور تھم سا گیا پھر اس نے تمام ٹینکوں کو پیچھے جانے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھی پریشان تھے -‘‘ سر آپ کی طبعیت ٹھیک ہے؟‘‘ ماتحت فوجی نے پوچھا۔ ‘’آج یہ بستی ہماری ٹارگٹ ہے آپ نے فائرنگ کیوں رکوادی؟’’ وائرلیس میں سے آواز ابھری تھی۔‘‘ بس جو کہا جا رہا ہے وہ کرو’’ہیری نے واپس پیغام بھیجا اور دوسرے لمحے؛ ٹینک میں موجود کھانے پینے کی اشیاء اور کچھ کپڑے جو وہ ساتھ لایا تھا ،اٹھائے اور اتر کر بستی کے کچھ گھروں کے دروازوں پر رکھ آیا- ہیڈ کوارٹر واپسی اس کے لئے زیادہ اچھی ثابت نہ ہو سکی۔

‘‘ تمہارا دماغ کچھ زیادہ ہی خراب ہو چکا ہے۔ سر درد نے تم کو پاگل بنا دیا ہے’’ساتھی جرنیل اسے غصہ سے برا بھلا کہہ رہے تھے – انہیں اپنے اپنے اعزازات اور ترقیاں خطرہ میں پڑتی محسوس ہو رہی تھی -‘’’’میرا خیال ہے تم پر کسی مسلمان مشنری نے جادو کر دیا ہے اور تم مسلوں سے ہمدردی کرنے لگے ہو!‘‘ایک جرنل نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔یاد رکھنا ہیری! یہ عظیم سلطنت اسرائیل ہمارا ہدف ہی نہیں ؛ماضی بھی ہے ۔جو ہمیں واپس لینا ہے- اگر تم اس کام میں رکاوٹ بنے تو اپنا انجام سوچ لو‘’۔ جنرل ڈینئیل چیخ رہا تھا۔ وہ وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کے علاوہ انٹیلیجنس کا بھی بے تاج بادشاہ تھا- ‘‘ عزیز ڈینئیل! میں اپنے وجود سے زیادہ عظیم سلطنت سے محبت کرتا ہوں اور کسی بھی قیمت پر اپنے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹا ہوں’’- ہیری سانس لینے کو رکا پھر اپنی نشست سے زرا آگے کو جھک کر بولا:’’یہ ملک فلسطین ہمارا ہے اسے ہم لے کر ہی رہیں گے۔ لیکن انہیں مارنے کا کوئی فائدہ بھی تو نہیں۔ ہاں یہ ہے کہ انہیں بھگا دیا جائے۔ جتنے ماریں گے اتنے ہی اور آ جائیں گے!‘‘۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے خوف کو بخوبی کنٹرول کیا پھرکھنکھار کر گلا صاف کرتے ہوئے رازدارانہ انداز میں گویا ہوا: ’’حکمت عملی کبھی کبھی بدلنا چاہئے!’’۔

‘‘واہ! کیا کہنے آپ کی حکمت عملی کے!!‘‘ جنرل ڈینئیل نے ایک ہاتھ کا مکا بنا کر دوسرے ہاتھ پر مارا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا اسکے پیچھے کچھ لوگ بھی اٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گئے تھے۔ ہیری نے خالی نظروں سے بقیہ لوگوں پر اڑتی نگاہ ڈالی۔کہیں اپنائیت تھی تو کہیں اجنبیت ؛مگر چند ایک ہونٹوں پر تبسم بھی تھا- ہیری اٹھنے لگا تو جنرل مائیک نے اس کے کندھوں کو ہلکا سا پیار سے دباتے ہوئے مسکرایا۔ اورپھر اپنے کمرے کی جانب چل دیا-

شاید یہ آخری مشن تھا جو ہیری نے کمانڈ کیا تھا۔ اسرائیل انٹیلیجنس آفس سے اس کو ان فٹ قرار دے دیا گیا تھا۔ اب کی بار نیویارک کے فوجی اسپتال میں اس کا‘علاج‘ ہورہا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.