تبدیلی سرکار اور سفارتی محاذ

1,791

دنیا میں اپنا وجود منوانےاور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اقدامات کا نام خارجہ پالیسی ہے اور جس بساط پر یہ کھیل کھیلا جاتا ہے اسے سفارتی محاذ کہا جاتا ہے۔ سفارتی محاذ عملی طور پر جملوں اور الفاظ کا کھیل گردانا جاتا ہے۔ ایک ملک کی جانب سے کسی بھی دوسری ریاست یا ریاستی شخصیت کو لکھا ہوا خط کئی فلٹرز سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہر ایک لفظ کو انتہائی احتیاط سے پرکھا جاتا ہے اور عموماََ اس قسم کسی کےرسمی خط یا دعوت سے پہلے بیک ڈور ہوم کام کیا جاتا ہےیعنی آیا کہ اس خط یا دعوت کا جواب مثبت آئے گا یا نہیں۔ لیکن ہمارے ساتھ سانحہ یہ پیش آیا کہ تاریخ میں ہمارے ہاں خارجہ پالیسی کے ستون ایک سے زیادہ رہے۔ دفتر خارجہ کے معاملات میں سِول اور ملٹری قیادت کے درمیان پنجہ آزمائی پاکستان ایسے ملک میں کوئی نئی اصطلاح نہیں ہے لیکن آج جب ریاست کے تینوں ستون ایک پیج پر ہیں تب بھی دفتر خارجہ مسلسل خفت کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ اداروں اور حکومت کا تصادم ہرگز نہیں ہے بلکہ ہمارے سفارتکاروں اور حکومت کی نااہلی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اپنے سو دن پورے کرنے جا رہی ہے تو ضروری ہے کہ اس کے سفارتی محاذ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ یوں تو کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لئے سو دن کوئی معتدل خیال ہرگز نہیں ہے لیکن حکومت خود اپنے لئے یہ ٹرمز طے کر چکی ہے تو ہم ایسے لکھاری کر بھی کیا سکتے ہیں؟

سو دنوں میں عموماََ عملی طور پر کچھ نہیں ہوا کرتا لیکن ایک سمت کا تعین ضرور ہو جاتا ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے عوام میں حکومت کی پالیسیوں کو لے کر جو ابہام اور تجسس موجود ہوتا ہےحکومت اپنے اوائل دنوں میں اپنی سمت بتا کر اس ابہام اور تجسس کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن کیا کیجئے ہمارے ہاں یہ تجسس اور ابہام ہے کہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ہر شخص کی دوسرے کی ڈومین میں ٹانگ اڑانا ہے۔ مثال کے طور پر معیشت کو ہی لے لیجئے، معیشت جو کہ خالصتاََ وزارت خزانہ کی ڈومین ہے، اس پر وزیرِ منصوبہ بندی خسرو بختیار بھی بول رہے ہیں، کراچی سے جیمز بانڈ فیصل واڈا بھی کوئی نہ کوئی شوشا چھوڑ دیتے ہیں، پنجاب سے فیاض الحسن چوہان کا دل کرتا ہے وہ میدان میں کود پڑتے ہیں،مشرف کے سابقہ اور نئی حکومت کے مشیر رزاق داؤد بھی آفت کو دعوت دینے میں باقیوں سے کم نہیں۔ رزاق داؤد وہی ہستی ہیں جو کہ اپنے ایک بیان سے پاک چین دوستی المشہور کوہ ہمالیہ سے بلند ترین اور بحر اوقیانوس سے گہری دوستی کو دہلا دینے کی جسارت کر چکے ہیںکے مداوے کے لئے سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کو چین جا کر معاملات سنبھالنے پڑے۔

خیر، بات کہاں سے کہاں نکل گئی، بات تو تھی سفارتی محاذ کی۔ پاکستان کے سفارتی محاذ میں جو ممالک اہم ہیں ان میں امریکہ، افغانستان، بھارت، چین اور سعودیہ عرب شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین اورسعودیہ عرب دونوں ہی یہ نہیں چاہتے تھے کہ عمران خان صاحب اقتدار کے تخت تک پہنچیں۔ اس کی وجہ ان کا دھرنا اور یمن تنازعے پر ان کا اسٹانس گردانا جاتا ہے۔

بھارت پاکستان کا ایک پرانا حریف ہے۔ وجوہات کئی ہیں، غلطیاں کچھ اپنی بھی ہیں اور کچھ غیروں کا کیا ستم بھی سر ہے۔ عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے فوراََ بعد بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے سرکاری طور پر دعوت دی اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس پر سائیڈلائن پر ملاقات کی تجویز بھی دی۔ خیال تو یقیناََ بہت اچھا تھا مگر کیا کیجئے؟ وقت کا لکھا مارتا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں جب تک انتخابی ریلیوں میں ایک دوسرے کو گالیاں نہ دی جائیں اور فتح کرنے کے خواب نہ دکھائے جائیں تب تک ووٹر کی انا کی تسکین نہیں ہوتی اور وہ ووٹ دینے پر رضامندی نہیں دیتا اور برصغیر کا سیاستدان تو ووٹ کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ بھارت اگلے چند ماہ میں انتخابی مراحل سے گزرنے والا ہے اور انتخابی سیاست ویسے بھی عروج پر ہے۔ ایسے وقت میں ایسی کسی بھی قسم کی دعوت کا جواب انکار کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ بھارت نے پہلے تو حامی بھری لیکن فوراََ ہی انتہائی بھونڈے انداز میں دعوت رد بھی کر دی۔ جس کے بعد ہمارے وزیرِ اعظم صاحب بذاتِ خود میدان میں آئے اور انہوں نے ایک ٹرمپیانہ ٹویٹ کر کے اپنی بھڑاس بھی نکال لی۔ اکثر لوگ خیال رکھتے ہیں کہ وزیرِ اعظم کا ردعمل بالکل درست تھا۔ اگر جذباتی طور پر دیکھا جائے تو ممکن ہے درست ہو لیکن اگر سفارتی اصولوں کو مدِنظر رکھ کر دیکھا جائے تو انتہائی غیرمناسب ہے۔

سفارتی محاذ پر کسی بھی خط، پیغام یا دعوت کا جواب دینے کے پیمانے ہوتے ہیں۔ اگر صاف صاف کہا جائے تو بات کچھ یوں بنے گی کہ ایسے ملک جن کے ساتھ تعلقات رسمی سے ہوں ان کے پیغامات رسمی طور پر ٹرخا دئیے جاتے ہیں اوروہ ممالک جو مقابلے کے حلیف ہوں ان کو بھی خاص اہمیت عموماََ نہیں دی جاتی لیکن اگر حریف ہو تو پیغام جس سطح کی شخصیت سے آتا ہے اس کا جواب بھی وہیں سے دیا جاتا ہے۔ ایسے ممالک جو زیادہ طاقتور ہوں اپنے سفارتی اور دنیاوی قد کے اعتبار سے ان کے پیغامات کو خاصی اہمیت دیتے ہیں۔ان کی تشہیر بھی اسی طریقے سے کی جاتی ہے۔ بھارت ہمارا مقابلے کا حریف تصور کیا جاتا ہے، اس لئے سفارتی اصولوں کے مطابق بھارتی دفترِ خارجہ کے انکار کا جواب اگر پاکستانی دفترِ خارجہ دیتا تو مناسب ہوتا کجا کہ عمران خان خود کود پڑے۔ آخر کو وزیرِ اعظم اور دفتر خارجہ کے افسر کے پروٹوکول میں کوئی فرق تو لازمی ہونا چاہئے۔ اس کے بعد ایک اور سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا پاکستانی دفترِ خارجہ نے ایسی کسی بھی قسم کی دعوت سے پہلے اپنا ہومورک مکمل نہیں کیا تھا؟ کیا دفترِ خارجہ اپنے سب سے بڑے حریف کا سیاسی مزاج سمجھنے سے قاصر ہے؟ یہ معاملہ تو دوسرے معاملات کی گرد تلے دب گیا لیکن اب ایک اور معاملہ منظرِ عام پر ہے۔ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لئے کرتارپور سرحد پر راہداری بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اعلان بہت زیادہ خوش آئند ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان محبت و امن کا پیغام پھیلے گا اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں انتہائی اہم سنگ میل ہے۔ لیکن کیا کیجئے ہمارا دفترِ خارجہ باز نہیں آتا۔ وزیرِ خارجہ نے اس انتہائی ڈویلیپمنٹ کے لئے بھارتی وزیرِ خارجہ کو سرکاری دعوت دینے کے لئے ٹویٹر کا سہارا لیا۔ جسے بھارتی وزیرِ خارجہ نے اپنی مصروفیات کے آنگن میں ڈال کر آنے سے معذرت کر لی۔ سوال پھر وہی ہے کیا یہ دعوت بغیر ہومورک کئے دی گئی؟ اگر دی گئی تو کیوں؟

بات کئے جاتے ہیں ہمارے بہت قریبی دوست اور ہمسایہ چین کی۔ رزاق داؤد کی کارستانی تو پہلے بیان کی جا چکی ہے۔ سو دنوں میں ہمارے وزیر اعظم چین کا ایک دورہ بھی کر چکے ہیں۔ جسے حکومتی عہدیداران کامیاب ترین دورے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دورہ چین کے وقت اتفاق سے مجھے چینی میڈیا پڑھنے کا موقع بھی ملا کہ وہاں کا میڈیا معاملات کس طرح دیکھ رہا ہے اور مجھے سخت حیرانی ہوئی یہ دیکھ کر کہ ہمارے مین اسٹریم میڈیا کے بیانیے میں اور چینی میڈیا کے بیانیے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ سی پیک میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی لیکن چینی وزیر اعظم صاف طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ سی پیک کے منصوبوں میں اضافہ تو ضرور ہو سکتا ہے کمی کی کوئی صورت نہیں نکلتی۔ ان منصوبوں میں تبدیلی بنیادی طور پر ایک خیال سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ سی پیک منصوبوں کی اکثریت چینی ریاست خود ہینڈل نہیں کر رہی بلکہ چینی کمپنیاں اور اسٹیٹ انٹرپرائزز کر رہی ہیں۔ اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لئے چین میں بی۔ آر۔ آئی۔ کے لئے ایک عدالت قائم ہے، وہیں پہنچ کر اگر کچھ ہو سکتا ہے تو ہو گا ورنہ تبدیلی یوں حکومتوں کے بس میں تو ہرگز نہیں ہے۔ اب اس دورے کے انتہائی اہم مقصد کی طرف آتے ہیں اور وہ تھا امدادی پیکج۔ عموماََ جب بھی امدادی پیکج کے لئے کوئی دورہ طے کیا جاتا ہے، تو اس کے لئے پہلے امداد کی رقم، شرائط سب کچھ طے کر لیا جاتا ہے اور صرف کاٖغذی کاروائی کے لئے دورہ کیا جاتا ہے لیکن اب کی بار حالات مختلف تھے۔ وزیرِ اعظم کو ان کے ہم منصب نے بتایا کہ ہم ضرور آپ کی مدد کرنے کی سوچیں گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ ہم پاکستانی حکومت کی جگہ ہرگز نہیں لے سکتے کیوں کہ ہم کوئی بھی اضافی بچہ یا ملک ایڈاپٹ کرنے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہیں۔

وزیر اعظم صاحب سعودیہ عرب کے اب تک دو دورے کر چکے ہیں۔ ایک دورے کا مقصد سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت اور امدادی پیکج تھا۔ اس دورے کے اوقات انتہائی نازک تھے، کیونکہ ایک طرف خاشقجی کے قتل پر پوری دنیا سعودیہ عرب سے کنارہ کر رہی تھی تو دوسری طرف پاکستانی وزیرِ اعظم سعودیہ پہنچ رہے تھے۔ اس کے باوجودسعودیہ نے تین ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کر کے عمران خان صاحب کو روانہ کر دیا۔

آخر پر بات فرینمی (دوست اور دشمن دونوں) کی کر لی جائے، امریکہ بہادر۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات امریکی موڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ صاف صاف کہا جائے کہ جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہوتی ہے وہ پاکستان کو گلے لگا لیتا ہے جب دل کرتا ہے اٹھا کر پھینک دیتا ہے۔ عمران خان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ کی کال پر ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔ معاملہ کچھ یوں ہوا کہ امریکی وزیر خارجہ نے عمران خان کو کال کر کے وزیرِ اعظم بننے کی پر مبارکباد پیش کی۔ اس کال کے بعد امریکہ دفترِ خارجہ نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں امریکہ نے دعویٰ کیا عمران خان کےساتھ امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان میں موجود دہشتگردوں کے خاتمے پر زور دیا۔ اس دعوے کے کچھ دیر بعد پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان ٹویٹر پر برآمد ہوئے اور اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی ذکر اس کال میں نہیں ہوا۔جس کے بعد امریکی دفترِ خارجہ نے کال کی مینیوسکرپٹ جاری کر دی اور ہمارا دفتر خارجہ اور میڈیا جس نے بڑے جوش میں بڑھک لگائی تھی ایک دم جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ پھر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹرمپ سے مصافحہ کرتے ہوئے خدا جانے کون کون سی باتیں کر لیں کہ ساتھ ہی دعویٰ کر دیا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات ری-سیٹ ہوں۔ لیکن ابھی حال ہی میں ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ ایک دفعہ پھر دہرایا اور کہا کہ پاکستان نے ہماری خاطر آج تک کچھ نہیں کیا۔ یہ انٹرویو سنتے ہوئے ذہن میں وزیرِ خارجہ کی تعلقات ری-سیٹ کرنے والا شوشا مسلسل اچھل کود کر رہا تھا کہ شاید تعلقات ری-سیٹ اسی طرح ہوتے ہوں۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.