سوشل میڈیائی محبتیں – دھیان کی ضرورت ہے !

2,057

بات یہ نہیں کہ والدین کی اپنی اولادوں پر گرفت نہیں رہی ، یا ان پر نظر رکھنے کا دور چلا گیا ہے . ایسا بھی نہیں کہ والدین سوشل میڈیا کی اہمیت اور نقصان سے آشنا نہیں اور یہ نہیں جانتےکہ ہماری نوجوان نسل کن کن طریقوں سے اس ٹیکنالوجی سے “مستفید” ہو رہی ہے . بات یہ بھی نہیں کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی دوستیوں اور بالخصوص محبتوں نے ہمارے خاندانی نظام کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے. بات یہ بھی نہیں کہ انٹرنیٹ کی دوستی کی وجہ سے دیارِ غیر سے لوگ آکر ہمارے نوجوان بچوں کو اپنا لیتے ہیں . اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ کس طرح آنکھیں بند کرکے اپنے بیٹے یا بیٹیاں “گوروں” کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ نہ تحقیق کرتے ہیں نہ کوئی مطالبہ ،بس ہمیں اپنے بچے کی صورت میں اس ترقی یافتہ ملک کا پاسپورٹ دکھائی دینے لگتا ہے ۔ ہماری آنکھوں میں فوراً سہانے سپنے گھومنے لگتے ہیں ۔ ایک لحاظ سے ہم لالچ کی انتہا تک جا پہنچتے ہیں۔ دوسری طرف اپنے بچوں کی پاکستانی بچیوں اور بچوں کے ساتھ شادی کیلئے ہم تحقیق کی آخری حد تک جاتے ہیں ۔ فیملی کے بیک گراؤنڈ اور شہرت کے ساتھ ساتھ ، سر کے بال سے پاؤں کے ناخن تک اس میں کوئی نہ کوئی خامی ڈھونڈتے ہیں ۔ بہتر سے بہتر لڑکی / لڑکا ڈھونڈنے کیلئے ہر قدم اٹھاتے ہیں اور اس ضمن میں کئی کئی سال بھی لگانے پڑیں تو کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔

سب سے بڑھ کر المیہ تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی محبت کے نتیجے میں وارد ہونے والی امریکی ، افریقی ، روسی ، چینی ، تھائی لینڈی یا کسی اور ملک کی لڑکیاں چاہے بڑی عمر کی بھی ہوں تو والدین کیلئے بلا تحقیق ، بغیر خاندانی بیک گراؤنڈ ، بلا جہیز قابل قبول ہوتی ہیں ، اس کے برعکس پاکستانی لڑکی 30 سال کی عمر کراس کر جائے تو لڑکے کی ماں وہاں رشتہ کرنے سے کتراتی ہے، چاہے اپنا بیٹا بھی عمر کی ایک مخصوص حد ٹاپ رہا ہو.یہی عالم لڑکی والوں کا ہوتا ہے ، بہتر سے بہترین کی تلاش میں بیٹی کی عمر گزار دیتے ہیں ۔ یہ ہے ہمارا مجموعی دہرا رویہ اور اجتماعی بے حسی ۔

اگرچہ پردیس سے پاکستانی نوجوانوں سے شادی کیلئے آنے والی لڑکیوں کو قبول کرنے کے پیچھے والدین کے پیش نظر یہی امر بلکہ لالچ ہوتا ہے کہ ان کی ولائتی بہو ان کے بچے کو ساتھ لے جائے گی جہاں ایک اچھا اور روشن مستقبل منتظر ہوگا ۔ تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے اس خاندان کے بیٹے کو “پہلی دنیا” کی شہریت مل جائے گی اور اس کی قسمت سنور جائے گی ۔ اس لالچ میں والدین یہ نہیں دیکھتے کہ وہ ایک انجانی لڑکی پر اعتبار کرکے اپنا لخت جگر اس کے حوالے کر رہے ہیں جو اپنے ملک واپس جا کر اپنے “شوہر” کو کس راہ پر لگائے ، کیا سلوک کرے ، کچھ تصور نہیں کیا جاسکتا .بہرحال یہ الگ امر ہے ، اصل مسئلہ ہمارے رویوں اور مزاج کا ہے ، انہی رویوں اور مزاجوں کی بدولت آج بھی پاکستان میں ہزاروں جوان بچیاں شادی کی منتظر ہیں ۔ آپ سوشل میڈیائی محبتوں کو بیشک اپنے خاندان کا حصہ بنائیں اور بلاشبہ اس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہئے لیکن جس کے پاس سوشل میڈیائی محبت نہیں ہے اس کیلئے رشتے کی تلاش میں اتنی ہی جوتیاں گھسیٹیں کہ آپ کا بچہ یا بچی عمر کی اس حد میں نہ داخل ہو جائے کہ کوئی اس کی طرف کا رخ نہ کرے ۔

حقیقت یہ ہے کہ میں نے زندگی میں بہت سے مجبور لوگ دیکھے ہیں مگر رشتوں کے انتظار میں بیٹھی جوان بچیوں کے والدین بالخصوص بیوہ ماؤں سے بڑھ کر کسی کو مجبور نہیں پایا ۔ لڑکے والے گھرانے پر گھرانہ دیکھتے ہیں اور کسی نہ کسی بنیاد پر لڑکی کو مسترد کر دیتے ہیں ۔ یوں کتنی ہی لڑکیوں کے سر پر سفیدی آ جاتی ہے ، والدین نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ۔ مائیں امید لئے دوسری دنیا سدھار جاتی ہیں ۔ بیٹی والوں پر گزرنے والی قیامت کا احساس کوئی نہیں کرتا ۔ اسے ہماری اجتماعی بے حسی کہہ لیں ، شعور کی کمی ، یا پھر ہماری آنکھوں پر بندھی لالچ کی پٹی !…. مگر یہ حقیقت ہے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کی ڈھلتی عمر سے بڑھ کر ہمیں رشتہ دیکھنے سے زیادہ دیگر “دکھ” کھائے جاتے ہیں ، جس میں قد ، رنگت سٹیٹس ، معیار اورامیدیں اہم ترجیحات ہیں ۔

اصل میں ہم کردار کے غریب لوگ ہیں ۔ جانتے بھی ہیں کہ بڑی عمر میں شادیاں بے شمار سماجی ناہمواریوں کو جنم دیتی ہیں ، لیکن پھر بھی کسی کے سکھ اور آباد کاری میں مدد دینے کی بجائے ہمیشہ اپنا مفاد پہلے دیکھتے ہیں ۔ اگر ہم معاشرے میں اپنے ارد گرد ہی نگاہ دوڑائیں تو ہمیں 28سے 35 سال کی عمر تک کی کتنی ہی بچیاں ملیں گی جن کے رشتے نہیں ہو رہے ۔ مختلف سماجی وجوہات کی بنا پر یہ تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے ۔ جب یہ تعداد بڑھے گی تو ظاہر سی بات ہے نوجوانوں میں سوشل میڈیائی دوستیوں کے رجحانات پیدا ہوں گے . سوشل میڈیا پر دوستی محبت میں بدلے گی تو بات گھر چھوڑ کر بھاگنے یا کورٹ میرج وغیرہ تک پہنچے گی یا پھر کوئی گورا انہیں لینے آ پہنچے گا . یہی حال لڑکوں کا ہے ۔ 30 سے 35 سالہ لڑکے معاشرے میں مذکورہ کنواری لڑکیوں سے تعداد میں کم ہر گز نہیں ہوں گے ۔ ملک میں شادیاں نہ ہوں تو ان کیلئے بھی گوریاں تو ہیں ہی .مگر واضح رہنا چاہئے کہ یہ اقدام ماڈرنائزیشن نہیں بلکہ ہمارے لئے باعث عبرت اورشرمندگی ہوگا ، بشرطیکہ ہم اس کا ادراک کریں ۔اگر اس “ویزہ میرج” کے نتیجے میں ہم اس بات پر خوش ہوں گے کہ ہمارا بچہ گوروں کے دیس میں جا کر راج کرے گا ، تو یہ ہماری بھول ہے ۔ اس کا اندازہ ہمیں جلد نہیں تو بدیر ضرور ہوگا ۔ کئی والدین اس تلخ تجربہ سے گزر بھی چکے ہوں گے ، لیکن جب تک یہ احساس ان میں بیدار ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ بیٹیوں والوں کے دکھ یا پریشانیاں بھی عجیب ہوتی ہیں .بیٹی جوان ہو جائے تو اس کے ہاتھ پیر پیلے کرنے کی پریشانی، نسبت تہہ ہوجائے تو اسے رخصت کرنے کیلئے “جہیز” کے نام پر “سامانِ آرام” جمع کرنے کی پریشانی اور جب وہ رخصت ہوجائے تو اس بات کی پریشانی کہ پتہ نہیں وہ نئے لوگوں کے ساتھ ایڈجسٹ ہو بھی پاتی ہے یا نہیں؟ وہاں اسے کوئی دکھ، مسئلہ تو نہیں ؟۔ شادی کے روز والدین اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں پھیلاتے ہیں اور بیٹی کو اپنی حیثیت سے کہیں بڑھ کر تحائف کے نام پر جہیز دیتے ہیں ، تاکہ جہاں سسرال میں اس کی ناک اونچی رہے ، وہیں اس کا سسرال بھی خوش اور مطمئن ہو کہ وہ بہت کچھ ساتھ لائی ہے، اب وہ بہو رانی کی “چیزوں” کی بنیاد پر اپنے خاندان میں سر فخر سے بلند کرسکتے ہیں . اسی طرح لڑکے والے بھی اپنی شان بڑھانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ لڑکی والوں سے بہتر انتظامات کریں ۔ جب تک ہم اس مائینڈ سیٹ کو شکست نہیں دیں گے اور دائرہِ ہوس سے باہر نہیں نکلیں گے ، اپنے رویوں اور مزاج پر نظرثانی نہیں کریں گے تو پھر سوشل میڈیائی محبتیں ہی نصیب بنیں گی اور آپ کو انہیں من و عن قبول بھی کرنا پڑے گا ۔

پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حالات کا ادراک کریں اور کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچنے کیلئے اپنے اپنے سٹیٹس ، امیدوں اور ترجیحات کو اس مقام پر لائیں کہ معاشرے کو بعدازاں ہم پر ہنسنا نہ پڑے یا ہم محض میڈیا کی خبر نہ بن کر رہ جائیں . اگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے تو یونہی افراتفری اور بے چینی کا شکار رہیں گے .لیکن شاید ہم میں احساس ہی کی کمی ہے جسے خود میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.