بین الاقوامی فیض میلہ ۔۔۔ ثقافتی ورثے کے فروغ کا اہم ذریعہ

403

بین الاقوامی فیض میلہ ثقافت کے منفرد رنگوں سے متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم جو بحیثیت قوم اپنی اقدار بھول بیٹھے ہیں، یہ میلہ ان دھول میں اٹے ہوئے اثاثہ جات کو صاف کر کے پھر سے ہمیں علم و ادب کی دنیا سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس میلے کا انعقاد ہر سال قوم کے عظیم شاعر فیض احمد فیص کی برسی کے موقع پر کیا جاتا ہے تاکہ ادب کے حوالے سے ان کی اور ان جیسے دیگر شعرا اور ادیبوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔ یہ میلہ فیض احمد فیض کی صاحبزادیوں منیزہ ہاشمی اور سلیمہ ہاشمی کے علاوہ فیض کے نواسے، نواسیوں کی جانب سے منعقد کیا جاتا ہے جس کا مقصد پاکستانی علم و ادب اور ثقافت کو آنے والی نسلوں کے لیے زندہ و پائندہ رکھنا ہے۔

اس مرتبہ تین روزہ بین الاقوامی میلے میں مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا جن میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنےوالے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت نے اس بات کا اظہارکیا کہ ہماری قوم کی ثقافتی اقدار آج بھی بے حد مضبوط ہیں اور نئی نسل ان سے تعلق بھی رکھے ہوئے ہیں۔ عام طور پر ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ فیض احمد فیض اور ان کے ساتھی شعرا کی ادبی خدمات سے صرف پرانے دور کے لوگ ہی دلچسپی رکھتے ہوئے مستفید ہوتے ہوں گے مگر اس میلے میں نسل نو کی بھرپور شرکت نے اس غلط فہمی کو بھی دور کردیا۔

امسال کےفیض میلے کی خوبصورت تقاریب میں جہاں بے شمار اہم شخصیات نے شرکت کی وہاں سرحد پار سے معروف شاعر و ادیب جاوید اختر اور ان کی اہلیہ شبانہ اعظمی ، جو کہ ہندوستان کی ماضی کی بہترین فلمی اداکارہ کے طور پر جانی جاتی ہیں نے بھی اس محفل کو اپنی شرکت سے چار چاند لگا دیئے۔ دونوں مہمانانِ گرامی نے مختلف تقاریب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اس کی فراخ دل عوام کی جانب سے جس طرح سے ان کا استقبال کیا جاتا ہے اور پھر جس انداز میں ان کی مہمان نوازی کی جا رہی ہے اس کے لیے ڈھونڈنے سے بھی الفاظ نہیں ملتے۔ شبانہ اعظمی نے اپنے والد کیفی اعظمی اور ان کے ساتھ فیض احمد فیض کے گزرے ہوئے ماضی کے بہترین لمحات پر بھی روشنی ڈالی۔ انھوں نے فیض کی یاد میں ان کی علمی و ادبی خدمت کو خراج تحسین دیتے ہوئے خوبصورت کلام ‘بول کے لب آزاد ہیں تیرے’ گنگنا کر سب کو ششدر کر دیا۔

فیض میلہ تمام تقاریب میں سے ایسی منفرد حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا ہے کہ جو ہر سال ستاروں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے اور پھر پاکستانی ثقافت کے چیدہ چیدہ پہلوئوں کے امتزاج سے سب کو محظوظ ہونے کا سنہری موقع دیتا ہے۔ یہاں تک کہ دوسرے شہروں سے کیا مختلف ممالک سے بھی لوگ اس میں شمولیت کیلیے لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ اس مرتبہ تو ٹینا ثانی، طاہرہ سید اور ضیا محی الدین جیسی عظیم شخصیات کی شمولیت نے شائقین کے دل موہ لیے۔ طاہرہ سید اور ٹینا ثانی کی مٹھاس سے بھرپور آواز اور مہارت سے سُر تال کے اتار چڑھائو سے سب جھوم اٹھے جبکہ ضیا محی الدین نے پر اثر آواز میں مشتاق احمد یوسفی کو پڑھ کر سننے والے حاضرین کی سماعتوں کو خوب فرحت بخشی۔

دیگر اداکاروں اور گلوکاروں کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں نے بھی اپنے تجربات کے سائے میں موجودہ دور کے مسائل اور تقاضوں کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا۔ جہاں ان تقاریب کی رعنایت بلا شبہ ہر لحاظ سے منفرد و بے مثال تھی وہاں مشہور و معروف کامیڈین اور لیجنڈری اداکار سہیل احمد کا سیشن بے انتہا قابل تحسین تھا۔

faiz

سہیل احمد نے جہاں اپنے ماضی کے سنہرے پہلوئوں سے حاضرین کومتعارف و باور کروایا وہاں انھوں نے آرٹ و ثقافت کے حوالے سے اپنے اندر پائے جانے والے سنجیدہ مفکر سے بھی روشناس کروایا۔ ان کے الفاظ کی پختگی اور بے خوف و خطر لیکن نہایت مہذب انداز بیان نے تو جیسے سب کی سماعتوں کو اپنے گرد گھیر لیا۔ کھچا کھچ بھرے ہوئے ہال میں بیٹھا ہر شخص ان کے ایک ایک جملے پر غور کر رہا تھا۔ پاکستانی ثقافت کو جس نقش و نگار میں انھوں نے پیش کیا اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا، وہ یقیناًمنفرد تھا اور شائد یہی وجہ تھی کہ ان کے الفاظ براہ راست دل میں اترتے گئے۔

میں ہر سال اس میلے میں شرکت کرتی ہوں تاکہ علم و ادب سے تعلق وابستہ رہے تاہم میں محض تنقیدی نقطہ نظر سے اس بات کا اظہار کرنا چاہوں گی کہ اس مرتبہ فیض میلہ اس جوش و جذبے کے ساتھ منعقد نہیں کیا گیا تھا جس طرح سے گزشتہ سالوں میں کیا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی ریاست کو قائم رکھنے اور اس کی بین الاقوامی سطح پر ترقی کیلیے علم و ادب اور ثقافت کا دامن تھامے رکھنا ناگزیر ہے۔ لہذا ایسی تقریبات کا معیار برقرار رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً ان کا انعقاد کرتے رہنا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ادب و ثقافت کے اثاثے سے محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وردہ فاروقی پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں ۔ انگریزی میں مختلف موضوعات پر لکھتی ہیں ۔ ان دنوں دنیا نیوزسے وابستہ ہیں ۔
ٹوئٹر اور فیس بک پر رابطے کے لیے

(Twitter)
@wardoo99

(Facebook)
Wardah Farooqi

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.