اسرائیلی طیارے کی آمد کا معاملہ پر اسرار گھتیوں میں الجھ گیا!

5,545

۲۴ ۔اکتوبر کو راول پنڈی میں نور خان ائیر بیس پر اسرائیل کے طیارے کی مبینہ آمد کا معاملہ اسی طرح پر اسرار بن گیا ہے اور جوابات کا متقاضی ہے جس طرح ۲ مئی ۲۰۱۱ کو امریکی کمانڈوز کاپاکستان کی سرحد پار کر کے ایبٹ آباد میں فوجی چھاؤنی کے قریب اسامہ بن لادن کی حویلی پر حملے کا معاملہ پر اسرار بن گیا تھا ،اور جس کی تہہ تک پہنچنے کے لئے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ سات سال گذرنے کے بعد بھی اس کمیشن کی رپورٹ شائع نہیں ہوئی ہے ۔ اس غیر معمولی تاخیر کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔ یہ رازنہیں کھل سکا ہے کہ فوجی چھاؤنی کے قریب امریکی کمانڈوز کو پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرنے سے روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار کون تھا؟ اتنے زور شور سے یہ حملہ ہوا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا اس کے باوجود کوئی جوابی کاروائی نہیں ہوئی اورایسی خاموشی چھائی رہی کہ لگا جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔

بہر حال گذشتہ ایک ہفتہ سے برابر وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزارت خارجہ کے ترجمان کی تردیدوں کے باوجود ان خبروں کا سلسلہ جاری ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوکے عُمان کےخفیہ دورے کے موقع پر ایک اسرائیلی طیارہ راول پنڈی کے فوجی فضائی اڈے پر اترا تھا ۔ ایک ہوا باز نے نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر مڈل ایسٹ آئی کو بتایا ہے کہ ۲۴ اکتوبر کو اس نے اپنی پرواز کے دوران بز جیٹ کے ایک طیارہ کو نور خا ن ائیر بیس پر اترتے دیکھا تھا۔ فضائی اڈے کے عملہ کے تین اراکین نے اس ہوا باز کے بیان کی تصدیق کی ہے اور ان میں سے ایک رکن نے بتایا ہے کہ اس نے ایک کار کو اس طیارے کے قریب جاتے دیکھا جس میں ایک وفد سوار ہوا ۔ پھر کئی گھنٹوں کے بعد یہ وفد واپس آیا اور اس طیارہ میں پرواز کر گیا۔

سب سے زیادہ پر اسرار بات یہ ہے کہ یہ طیارہ پاکستان میں کس لئے اترا تھا؟ کیونکہ اگر یہ اسرائیلی طیارہ تھا تو پاکستان میں اس کو اجازت کس نے دی؟ جب کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں ۔پھر سوال یہ ہے کہ اس طیارہ میں کون سوار تھا جس نے پاکستان میں چند گھنٹے قیام کیا؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس طیارہ میں آنے والے شخص نے پاکستان میں کس سے ملاقات کی؟

پاکستان میں اسرائیلی طیارے کی خبر ۲۵ ۔اکتوبر کو اسرائیلی اخبار حارث کے انگریزی ایڈیشن کے ایڈیٹر ایوی شراف کے ٹیوٹ کے بعد آگ کی طرح پھیل گئی تھی ۔ ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک نجی جیٹ طیارہ تل ابیب سے پرواز کر کے اسلام آباد گیا تھا جو دس گھنٹے بعد عمان کے راستے تل ابیب واپس آگیا۔ایوی شراف کے اس ٹویٹ کے بعد پاکستانی صحافیوں نے یہ قیاس آرائی کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم عُمان کے دورے سے پہلے اسلام آباد آئے تھے۔

حکومت پاکستان نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور پاکستان کی شہری ہوا بازی کے محکمہ نے بھی اسرائیلی طیارے کے پاکستان آمد کی تردید کی ہے. وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے شراف کے ٹویٹ کو محض پروپیگنڈا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب امارات کا ایک وفد اسلام آباد آیا تھا اور یہ اس وفد کا طیارہ تھا۔ لیکن فواد چوہدری امارات کے جس وفد کا ذکر کر رہے تھے وہ ایک روز بعد ۲۶ اکتوبر کو آیا تھا ۔ پھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں تردید کی کہ اسرائیل کا کوئی طیارہ پاکستان میں نہیں اترا ہے۔

تکنیکی لحاظ سے پاکستان کی تردید اس اعتبار سے صحیح ہے کہ بز جیٹ کا جو طیارہ ۲۴ اکتوبر کو نور خان ایر بیس پر اترا تھا وہ اسرائیلی طیارہ نہیں تھا بلکہ یہ طیارہ آیل آف مین میں ملٹی پل اوورسیز لمیٹڈ کے نام سے رجسٹرڈ تھا۔ لیکن اسکا اصل مالک کون ہے یہ واضح نہیں ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ یہ اسرائیلی طیارہ نہیں تھا ۔ لیکن بز جیٹ کے اس طیارے میں کون اسلام آباد آیا تھا جو پاکستان میں چند گھنٹے رہ کر واپس چلا گیا یہ بات پر اسرار ہے ۔ فی الحال کوئی بھی اس کا عقدہ کھولنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اگر اس معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے کوئی کمیشن مقرر کیا جائے تو وہ بھی اسی طرح سے بے سود ثابت ہوگا جس طرح سات سال پہلے امریکی کمانڈوز کے ایبٹ آباد پر حملے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے راز پر سے پردے ہٹانے کے لئے جسٹس جاوید اقبال کا کمیشن یکسر بے سود ثابت ہوا اور جس کی رپورٹ اب بھی حکومت کی تجوری میں پڑی ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.