یہ احتجاج غلط ہے

759

اگر آپ آسیہ بی بی کیس کا تفصیل سے مطالعہ کریں تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ یہ ایک عجیب وغریب کیس ہے ، اس کیس میں سب دعوے دار سچے ہیں ، جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ آسیہ بی بی کو سزا ہونی چاہیے تھی وہ بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں ، حکومت کا موقف بھی درست ہے اور چیف جسٹس صاحب کا موقف بھی بظاہر درست معلوم ہوتا ہے مگر کیسے :-

وکیل استغاثہ چوہدری غلام مصطفی کا یہ کہنا ہےکہ آسیہ مسیح نے اپنے گاؤں کے لوگوں کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کیا، پھر ایس پی سید امین بخاری صاحب نےا س کیس کی تفتیش کی اور اس کے سامنے بھی ملزمہ نے اقرار جرم کیا اور بات یہاں تک ہوئی کہ بخاری صاحب نے ملزمہ کے خاوند کو کہا کہ آپ اپنی بیوی کی صفائی کی بائبل پر قسم دے سکتے ہیں تو اس کے خاوند نے اپنی بیوی کی صفائی کی قسم دینے سے انکار کردیا، اور پھر ملزمہ نے عدالت میں بھی انکار نہیں کیا، یعنی پہلے ملزمہ نے پنچائیت کے سامنے اپنے جرم کو تسلیم کیا، پھر تفتیشی افسر کے سامنے اپنے جرم کو تسلیم کیا اس کے بعد ہائی کورٹ میں ہم نے ملزمہ کے جرم کو ثابت کیا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط معلوم ہوتا ہے

دوسری جانب سپریم کورٹ نے گواہوں کے متضاد بیانات کو فوکس کیا ، جس کی بنیاد پر آسیہ مسیح کو بری کردیا گیا، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے اس پہلو کو نظر انداز کیا۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی ساری کہانی ملزمہ کے گاؤں میں اقرار جرم اور گواہوں کے گرد گھومتی ہے. اگر ہم اس زاویے سےدیکھیں تو ہمیں جناب ثاقب نثار حق پر معلوم ہوتے ہیں ۔ صرف ثاقب نثار ہی نہیں اگر آپ بھی انصاف کےاس اعلی منصب پر براجمان ہوں ، اور آپ کے ناتواں کندھوں پر بھی تمام مذاہب کو انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری ہوتو آپ بھی شائد یہی فیصلہ کریں گے.

عمران خان صاحب نے بھی بجا فرمایا کہ اگر فیصلہ آپ کی مرضی کے خلاف آئے تواس کا مطلب ہے کہ آپ نہیں مانیں گے.

اس سارے واقعے میں احتجاج کا طریقہ کار غلط ہے. میرا ماننا ہے کہ احتجاج کرنے والے اپنی اس توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراو کو نہ دنیا کی کسی عدالت میں صحیح ثابت کرسکتے ہیں، اور نہ ہی آخرت میں ۔ عمران خان صاحب سے استدعا ہے کہ برائے کرم تمام شر پسندوں کو عبرت بنا دیں تاکہ آئندہ کوئی بھی احتجاج کی آڑ میں وطن عزیز کو نقصان نہ پہنچا سکے، اور اس سلسلے میں جو سزائیں ہو ں ان کی بھرپور تشہیر ہو تا کہ سب کو خبر ہوجائے اور آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے۔

چلتے چلتے قران پاک کی ایک آیت کا مفہوم عرض کرتا چلوں :-
اللہ کی اطاعت کرو، رسول اللہﷺ کی اطاعت کرو اور حاکم کی اطاعت کرو

اور تاج دار مدینہ ، راحت قلب و سینہ ، وجہ وجود کائنات، نبی آخر زماں، سردار دو عالم حضرت محمد ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ :-

اگر ایک حبشی غلام ، جس کا سر کش مش کی طر ح ہو مسلط کردیا جائے تو بھی اس اطاعت کرو

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ ایکسپریس اور جسارت نیوز میں بلاگز لکھتے ہیں ،فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shafi کہتے ہیں

    افسوس صد افسوس، وہ ہستی جو صبر و استقامت کا کوہ ہمالیہ ہے، جو اپنے پر بے تحاشہ ظلم ڈھانے والوں کو غیر مشروط معافی عطا کرتا ہےاسکے پیروکاری کے دعویدار انتاہائی عدم برداشت کا تاریخی نمونہ بن چکے ہیں۔۔۔تعجب کی کوئی گنجائش نہیں کہ ہم آج ہر نوع کی انتہائی پستیوں کا شکار ہیں۔ ۔۔۔ تعجب اگر ہے تو اس بات کا کہ روڈ میپ بصورت کتاب خالق کائنات کے ہاتھ میں صدیوں سے تھامے ہر لمحہ منزل سے دور تر ہوتے جا رہے ہیں اور میپ کو پڑھنا ،سمجھنا درکنار دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے۔بس بغل میں دبا کر رکھا ہےاسے۔۔۔۔یا للعجب! ۔۔

تبصرے بند ہیں.