موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں ؟

1,833

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں ،،،،، موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

اردو ادب کے عظیم شاعر مرزا سد اللہ خان غالب کے اس شعر میں موت و حیات کا فلسفہ رقص کرتا معلوم ہوتا ہے ۔ حیات ۔۔ یعنی زندگی درد ،رنج الم اور دکھوں سے بھرپور اک سلسلہ ہے،اس سے نجات تبھی ممکن بتائی گی ہے جب موت کا دامن تھامے آدمی اگلے جہاں کو کوچ کر جائے ۔انفرادی اور اجتماعی طور پر انسان اپنے غم اور خوشی میں سب سے منفرد ہے ۔ ہر اک کی داستان غم طویل، دشوار گزار اور کٹھن اسباق زند گانی پر مشتمل ہے ۔ ایسے میں کون کس کا درد جانے اورکیونکر ؟سوال اچھا ہےلیکن بحث طلب معلوم ہوتا ہے ۔ دراصل ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر بڑے آدمی تبھی پیدا ہوتے ہیں جب ان کی وفات ہو چکی ہوتی ہے ،، گویا ہم سبھی لوگ ایک زندہ انسان کی وفات کے بعد اس کا نام بڑے فخر سے بڑے لوگوں میں شمار کرنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں ۔ یہ ہمارے ہاں کا روایتی اسلوب ہے۔

آزاد کشمیر کے بانی صدرسردار ابراہیم خان صاحب کے فرزند جناب خالد ابراہیم خان صاحب حال ہی میں اچانک برین ہیمبرج کے باعث انتقال کر گئے ۔ ان کی اچانک وفات سے آزاد کشمیر کے سیاسی و سماجی حلقوں میں نہ صرف غم کی لہر دوڑ گئی بلکہ ساتھ ہی ساتھ اک قد آور اور صاحب بصیرت سیاسی شخصیت سے محروم ہو جانے کا غم بھی خوب ابھر کر سامنے آنے لگا۔

سردار خالد ابراہیم جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپنے آبائی حلقہ سے متعدد مرتبہ ایم ایل اے منتخب ہوئے ۔ ان کے شہر کے لوگوں سے سننے کو ملا کہ وہ ایک سادہ طبیعت، نڈر اور بے باک سیاسی لیڈر تھے ۔ وہ اپنے حلقہ کی تعمیر و ترقی سمیت آزاد کشمیرکی سیاست میں اک منفرد حیثیت بھی رکھتے تھے۔ سردار خالد ابراہیم خان پر حال ہی میں آزاد کشمیر کی عدالت عظمی میں توہین عدالت کا مقدمہ زیر سما عت تھا۔ جس کی پیروی کے لیے انہیں بارہا عدالت طلب کیا گیا اور چند دن قبل عدالت عظمی نے نو نومبر سے قبل ان کی گرفتاری کے احکامات جارے کیے تھے۔ تاہم سردار خالد ابراہیم اپنے موقف پرڈٹےرہے اور بارہا یہ کہتے رہے کہ اک غیرت مند کی موت مروں گا لیکن کسی ایسی گرفتاری سے نہیں گھبراں گا اور یوں ہی ہوا نو نومبر سے قبل ہی چار نومبر کو اجل نے انہیں آ لیا اور وہ دار فانی سے کوچ کر گئے۔

معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسی کیس کے سلسلے میں سردار خالد ابراہیم سنٹرل پریس کلب مظفر آباد اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنسسز کرنے والے تھے اور عدالتی احکامات پر اپنے آئیندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اس سے قبل ہی دار فانی سے کوچ کر گئے۔ برین ہیمبرج کے باعث ان کی موت کو لے کر طرح طرح کی باتیں ہورہی ہیں ۔ بحر حال ان کی اچانک موت سے جہاں ان پر دائرمقدمہ خاموش ہو گیا ہے وہیں اب ان کا نام بھی بڑے لوگوں میں شمار کیا جانے لگا ہے ، اگرچہ ان کی حیات میں شاید اتنی قدر کی نگاہ سے انہیں نہ جانا گیا ہو لیکن اب ایسا ہے اور بحر حال ہے۔۔

مرحوم کی نماز جنازہ میں عوام کا جم غفیر امڈ آیا ۔۔ اور دیکھنے والوں نے اسی روایت کے مصداق ،، کہ میں اتنا گونجوں گا کہ صدیوں تک یاد آؤں گا ۔۔۔ انہیں بڑے نام سے نوازا۔ اگرچہ وہ اپنی زندگی میں ہی اتنا ہی بڑا نام تھے لیکن ہمارے ہاں بڑا نام منوائےجانے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔۔

سردار خالد ابراہیم خان کی نماز جنازہ میں سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدلمجید خان بھی موجود تھے ۔ دوران نماز جنازہ وہ صف اول میں نظر آ ئے اور دو آدمیوں کے کندھے کا سہارا لیے انہوں نے نماز جنازہ ادا کی۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعظم چوہدری عبدلمجید طویل عرصے سے علیل ہیں جس کے باعث انہیں سہارا لیے نماز جنازہ میں شرکت کرنا پڑی لیکن احباب نے ان کی اس اذیت کو بھی نہ جانا اور تنقید کے تیر برسانا شروع کردیے ۔ ہمارا اجتماعی طرز عمل قابل ملامت ہے کہ ۔۔ ہمیں ہنسی اڑانے کے لیے کوئی پہلو مل جائےتو ہم اسے جانے نہیں دیتے ۔ بغیر تحقیق کے دشنام درازی بھی ہمارا ہی شیو ہ ہے جو ہماری اجتماعی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے ۔

موت کے بعد بڑے نام سے نوازنا بھی ہمارا ہی شیوہ ہے ،،،، ہمارا ہی شیوہ ہے کہ ہم ایک قد آور سیاسی یا سماجی شخصیت یا اک عام انسان کو اس کی حیات میں اس کا جائز حق ادا نہیں کرتے ۔ ہم خصوصیات سے بھرپور اک انسان کو انجان بن کر ملتے ہیں۔ ہم کبھی مسکراہٹ لیے کسی انسان کا دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ ہمارے ہاں تنقید ہے اور بے جا ہے۔ ہمارے ہاں بے حسی ہے اور سیاسی، سماجی سطح سے لے کر انفرادی اور اجتماعی سطح تک ہے۔ جب تک ہم جنازوں سے کسی شخصیت کے بڑا ہونے کا اندازہ لگاتے رہیں گے ہماری شخصیت کا جنازہ ہر ر وز نکلتا رہے گا ۔ ہمیں اک شخصیت کو اس کا مقا م و مرتبہ اس کی زندگانی میں ہی اسے دینا ہو گا ۔۔

وگرنہ شعر اپنی جگہ مقرر ہے کہ

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں ؟

ایک نجی ٹیلی وژن مین بطور رپورٹر کام کر رہے ہیں
نمل یونیورسٹی اسلام آباد سےماس کیمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رکھا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.