کیا ایران کے خلاف امریکی اقتصادی جنگ کامیاب رہے گی؟

1,267

۵ نومبر سے ایران کے خلاف امریکا کی جنونی اقتصادی جنگ کا آغاز هو گیا ہے جس کے تحت ایران کے خلاف اقتصادی تادیبی پابندیوں کا وسیع تر جال پھیلا دیا جائے گا اور ایران کے تیل کی برآمدات یکسر روک دی جائیں گی ، گو بعض ملکوں کو رعایت دینے پر بات چیت ہورہی ہے۔ امریکا کی اس اقتصادی جنگ کا مقصد ایران کو دیوالیہ کرنا ہے اور حکومت کو اتنا مفلوج کردینا ہے کہ عوام علم بغاوت بلند کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کھلم کھلا یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کی موجودہ حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں امریکا کی دوست حکومت بر سر اقتدار لائی جائے۔

امریکا کا مقصد صرف ایران کے خلاف اقتصادی جنگ شروع کرنا نہیں ہے بلکہ وہ ایران کے خلاف ایک فوجی اتحاد بھی منظم کرنا چاہتا ہے ۔ گذشتہ ہفتہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بحرین میں یہ عندیہ دیا تھا کہ امریکا ایک عرب ناٹو کے قیام کا خواہاں ہے جس میں سعودی عرب کی قیادت میں ایران کے مخالف سنی عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل بھی شامل ہو اور اسے امریکا ، فرانس اور برطانیہ کی پشت پناہی حاصل ہو۔

امریکا ، سعودی عرب اور اسرائیل کو اس وقت سخت پریشانی ہے کہ تہران سے لے کر بیروت تک ایران کے سیاسی اور فوجی اثر کی جو زنجیر ہے وہ شام میں خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے کے باوجود نہیں ٹوٹ سکی ہے اور اس زنجیر میں اب عراق بھی شامل ہو چکا ہے۔ فوجی مبصرین کو شبہ ہے کہ مجوزہ عرب ناٹو بھی اس زنجیر کو توڑنے میں نا کام رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین کے نزدیک ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی اور فوجی محاذ آرائی کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ بلکہ اس کی وجہ سے خود امریکا کو خفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سب سے پہلے تو ایران کے خلاف ٹرمپ کی تادیبی پابندیوں کی پالیسی میں اتنے تضادات ہیں کہ ان کی وجہ سے یہ پالیسی کامیاب ثابت نہیں ہو سکے گے۔ ایران کے تیل کی برآمدات مکمل طور پر بند نہیں کی جاسکیں گی کیونکہ چین اور ہندوستان نے جو بڑے پیمانے پر ایران کا تیل خریدتے ہیں ، امریکا کی پابندی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ہندوستان ایران کا تیل خریدنے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے اور وہ پانچ لاکھ ستتر ہزار ٹن تیل یومیہ ایران سے در آمد کرتا ہے۔ ترکی اور روس نے بھی کہا ہے کہ وہ بدستور ایران کا تیل خریدتے رہیں گے۔ اسی کے ساتھ فرانس ، جرمنی اور برطانیہ نے بھی ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے ارادہ کا اعلان کیا ہے۔

ممکن ہے کہ ٹرمپ چین کو جس کے ساتھ پہلے ہی تجارتی جنگ جاری ہے ، سخت تادیبی پابندیاں عائد کرکے اسے سزا دینے کا فیصلہ کریں ۔لیکن اقتصادی مبصرین کی رائے میں ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک دوسرا محاذ کھولنے کی ہمت نہ کریں۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے اس نے ایران سے تیل کی خریداری یکسر بند کرنے کے بارے میں امریکا کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ہے ۔ ٹرمپ نے اگر اس مسئلہ پر ہندوستان کے خلاف کوئی کاروائی کی تو بلاشبہ اس کے نتیجہ میں ممکن ہے ہندوستان ، امریکا کے دوستوں کی فہرست سے نکل کر مخالفین کی صف میں شامل ہو جائے۔

پچھلی کئی دہایوں سے امریکی صدور امریکی ڈالر کے اضافی ذخائراپنے مخالف ملکوں میں عدم استحکام پیدا کر کے انہیں سزا دینے کے لیےاستعمال کرتے رہے ہیں لیکن ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی عائد کئے جانے کی وجہ سے ڈالر کی طاقت کمزور ہونے کا خطرہ ہے اور امریکا اپنے ڈالر کے اس ہتھیار سے محروم ہو جائےگا۔ پچھلے سال امریکا کے ڈالر کے محفوظ ذخائر 6.499 کھرب ڈالر سے کم ہو کر صرف 6 کھرب ڈالر رہ گئے ہیں۔

ایران دنیا میں تیل کی کل پیداوار کا دس فی صد تیل پیدا کرتا ہے اور اس وقت ۲۷ لاکھ بیرل یومیہ برآمد کرتا ہے ۔ اگر اچانک ایران کے تیل کی یہ برآمدات بند ہوگئیں تو نہ صرف عالمی انرجی کا بحران پیدا ہوگا بلکہ مالی بحران بھی آفت مچا دے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی جنگ میں ناکامی کے نتیجہ میں بلا شبہ ایران مشرق وسطی میں ایک با اثر طاقت کے طور پر ابھرے گا اور مشرق وسطی میں امریکی حکمت عملی ناکام ہوجائے گی جس کے وسیع تر عالمی اثرات مرتب ہوں گےجو امریکا کی خفت کا باعث بنیں گے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.