معیشت کی خراب پچ، اپوزیشن کا باؤنسراور کپتان کی بلے بازی

1,844

ایک حکایت ہے کہ ایک کسان کا باغ تھا جس میں بہت لذیذ پھلوں کی پیداوار ہوتی تھی ۔ ایک روز بادشاہ کا گزر ہوا ۔ اس نے کسان سے پھل کھانے کی فرمائش کی ۔ جب پھل کھایا تو اس کی نیت خراب ہو گئی ۔ اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ اس کسان کا باغ شاہی ملکیت میں لے لو اور بدلے میں کوئی بھی دوسرا باغ دے دو ۔ابھی بادشاہ کے آدمیوں نے باغ پر قبضہ نہ کیا تھا کہ کچھ ہی روز بعد وہی کسان دربار میں حاضر ہوا اور بولا کہ اگر اجازت ہو تو میں کچھ کڑوا سچ بولوں ۔ بادشاہ نے حیرانی کے ساتھ اجازت دی تو کسان نے کہا ‘اے بادشاہ اپنی نیت ٹھیک کرلے ورنہ نہ میرا باغ رہے گا اور نہ ہی تیری سلطنت’ ۔ بادشاہ نے پوچھا تو ایسا کیوں کہہ رہا ہے ؟۔ کسان نے کچھ پھل بادشاہ کے سامنے رکھ دیے جن میں سے کچھ کو کیڑا لگا ہوا تھا اورکوئی گلا سڑا ہوا تھا ۔ بادشاہ نے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے ۔ کسان بولا اے بادشاہ یہ میرے اسی باغ کے پھل ہیں جس میں تو آیا تھا ۔ تیری نیت خراب ہوئی ہے تو آج میرے پھلوں میں نہ تو مٹھاس ہے اور نہ ہی ذائقہ ۔ تو نے میرے باغ پر بری نظر رکھی ہے، یہ اسی کا نتیجہ ہے اور جلد ہی تیرا باغ (سطنت ) بھی اسی طرح اجڑ جائےگا۔ بادشاہ اپنی حرکت پر شرمندہ ہوا اور کسان سے معافی مانگی ۔ کچھ ہی روز بعد باغ پہلے کی طرح خوش ذائقہ پھل پیدا کرنے لگا۔

عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت بنائی مگریہ حکومت تین ماہ بعد ہی ان گنت مسائل کا شکار ہوچکی ہے ۔ عوام سات سال سے تبدیلی کا سن رہے تھے ۔ جونہی پی ٹی آئی جیتی تو فوراً خواب و خیالات میں تبدیلی آگئی ۔ لیکن اس عرصہ کے دوران مہنگائی اور افرا تفری ہی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ امریکی ڈالر مختصر عرصے میں ملکی تاریخ کی ریکارڈ بلندی پر پہنچ چکا ہے ۔ سونے کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی ہے. گیس کی قیمتوں میں 143 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔ منی بجٹ میں مزید ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں ۔ پی ٹی آئی حکومت کے فیصلوں سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ اور وہی ووٹر جو سات سال سے عمران خان اور پی ٹی آئی کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہا تھا غیر متوقع صورتحال دیکھ کر مایوس ہو گیا ہے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جیسے عمران خان سیاسی مخالفین میں یوٹرن لینے کیلئے مشہور ہیں ویسا ہی یوٹرن ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی ووٹر نے لیا ۔ کئی حلقوں میں پی ٹی آئی کو اپنی جیتی نشست سے ہاتھ دھونا پڑا اور جہاں کامیابی ملی وہاں مارجن ماضی کی نسبت کافی کم رہ گیا ہے ۔یہ پی ٹی آئی سے اس کے ووٹرکی ناراضی یا بدگمانی کا اظہار بھی کہا جاسکتا ہے

آج کی تاریخ تک سوائے وزیر خارجہ شاہ محمود اور وزیر خزانہ اسد عمر کے پی ٹی آئی حکومت کا کوئی بھی وزیر اپنی موجودگی کا احساس نہیں دلا سکا ہے ۔ جبکہ ان دونوں حضرات میں سے اہلیت بھی صرف وزیر خارجہ ہی ثابت کر سکے ہیں ۔شاہ محمود نے تقریبا دو ہفتے پر محیط دورہ امریکا میں کشمیر ،دہشت گردی سمیت کئی اہم معاملات پر بہت جامع موقف اپنایا ۔انہوں نے نہ صرف خود کو اس عہدے کا اہل ثابت کیا بلکہ نواز شریف کو بھی بتا دیا کہ چار سال تک ملک میں وزیر خارجہ کا عہدہ نہ ہونا پاکستان کیلئے کس قدر بھیانک ثابت ہوا ۔ پاکستان عالمی محاذ پر آہستہ آہستہ تنہائی کا شکار ہو گیا تھا ۔ گزشتہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے دوست ممالک بھی پاکستان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔

دوسری شخصیت وزیر خزانہ اسد عمر ہیں جو ماضی میں جوش خطابت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی معاشی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے ۔اب حکومت میں آتے ہی آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو گیا ہے ۔ ان کو لگ پتہ گیا ہے کہ کاغذوں میں حساب کتاب کرنا اور عملی طور پر خزانہ چلانا کیا ہوتا ہے ۔اسد عمر پر عمران خان حد سے زیادہ اعتماد کر بیٹھے، ان کی بتائی اور بنائی ہر رپورٹ پر بنا تصدیق یقین کر بیٹھےجس کا خمیازہ آج کپتان شدید معاشی بحران کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔ لیکن ایک بات کا کریڈٹ عمران خان کو دینا پڑے گا کہ وہ اپنی غلطی کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ اس کا بوجھ بھی خود برداشت کرتے ہیں ۔ اسد عمر کے غلط اور حقیقت سے ہٹ کر اعداد و شمار کی قیمت عمران خان خود ادا کرنے کو تیار ہیں ۔ یہی وجہ ہے وہ ذاتی طورپر دوست ممالک سے امداد مانگ رہے ہیں ۔

عمران خان کی ملک کیلئے نیک نیتی پر کبھی ان کے سیاسی مخالفین نے بھی سوال نہیں اٹھایا ۔ عمران خان میں غلطیوں سے سیکھنے کی خوبی موجود ہے ۔ تین ماہ کے تجربے کے بعد ان کو کافی حد تک امور حکومت پر عبور ہونے لگا ہے اور ان کی کوششوں کی وجہ سے نومبر سے پاکستان میں سرمایہ آنا شروع ہو جائے گا ۔ پاکستان کو نہ صرف قرض مل جائیگا بلکہ کئی دوست ممالک بھی امداد پر راضی ہو جائیں گے ۔ نومبر سے امداد ملنے کا سلسلہ اگلے تین چار ماہ جاری رہیگا جس سے گرتی معیشت نہ صرف سنبھلے گی بلکہ اپنے پاؤں پر بھی کھڑی ہو جائیگی۔ کئی دوست ممالک مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے جن میں سعودی عرب اور چین سرفہرست ہونگے ۔ ادھر حیران کن طور پر امریکا بھی پاکستانی معیشت کیلئے سہارا بنے گا ۔ عمران خان کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے اگلے تین سے 6 ماہ میں پاکستان دوست اور دیگر ممالک سے ایسے معاہدے کریگا جن سے پاکستانی معیشت کی نہ صرف سانس بحال ہوگی بلکہ ملک آہستہ آہستہ خوشحالی کی جانب گامزن ہوگا ۔ وزیر خزانہ کی ناکامی کے بعد عمران خان خود متحرک ہوچکے ہیں اور ان کی نگرانی میں ایسے معاہدوں اور منصوبوں کی تیاری پر کام تیزی سے جاری ہے جو مستقبل قریب میں دوست اور دیگر ممالک سے کیے جائیں گے ۔

اگلے تین سے 6 ماہ میں کرپشن کے مزید نئے کیس پکڑے جائیں گے اور بڑے بڑے مگر مچھوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اس کی تمام تر تیاریاں مکمل ہیں بس درست وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔ منی لانڈرنگ کا باب بھی مزید طویل ہونے کو ہے ۔متعلقہ اداروں کے ہاتھ کئی بڑے بڑے مگر مچھوں کے خلاف ثبوت لگ چکے ہیں ۔ کالا دھن جمع کرنے والوں کے پاس دو ہی راستے ہوں گے یا تو لمبی قید کا سامنا کریں ورنہ کالادھن واپس کرکے اپنی سزاؤں میں کمی کریں ۔

بظاہر تو اس وقت پی ٹی آئی حکومت کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر طرف افرا تفری کا عالم ہے لیکن عمران خان کی منصوبہ بندی جلد ہی عوام کو ایک سپرائز دے گی ۔ اور اگلے چھے ماہ تک پاکستان موجودہ معاشی بحران پر بڑی حد تک قابو پالے گا ۔ لیکن اس تمام تر صورتحال میں ایک مشکل دکھائی دے رہی ہے اور وہ ہے اپوزیشن کا اتحاد ۔ تمام تر بڑی سیاسی جماعتیں عمران خان کی مخالفت میں اکھٹی ہوتی نظر آ رہی ہیں ۔ ایک مضبوط اپوزیشن کے ہوتے ہوئے کپتان کو اپنے اہداف حاصل کرنے میں مشکل کا سامناکرنا پڑسکتا ہے ۔ اپوزیشن مڈ ٹرم الیکشن کی مہم شروع کرنے جا رہی ہے ۔ یہ راقم اپنی پچھلی تحریرمیں لکھ چکا ہے کہ اتنی تگڑی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے عمران خان کی موجودہ حکومت ڈھائی سال چل جائے تو بڑی کامیابی ہوگی ۔ اس پارلیمنٹ کا اپنی مدت پوری کرنا ناممکن نظر آرہا ہے ۔ اتنی کم اکثریت والی حکومت اور اتنی بڑی اپوزیشن والی پارلیمنٹ وطن عزیز میں اپنی مدتیں پوری کرنے کی عادی نہیں۔ لیکن اگر نیت ٹھیک ہو تو خراب کھیتی سے بھی ذائقہ دار پھل پیدا ہوجاتےہیں یہی قدرت کا اصول ہے

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. Muhammah Hassan Ali کہتے ہیں

    Bara mashoor sheer hy k
    “Girty han sheeh sawar hi medan e jang me
    Wo tifal kia giry jo ghutno k bal chaly”
    Apka tajzeeya haqeqat par mabni hota hy or Mashallah apka andaz e biyan bhi mutasir kun hy keet it up.
    Imran khan sahab galti krty k but jaldi seekh jaty hn Inshallah ab bhi jo jo galt hoa hy usko thk kr lain gy or ye Hakoomat apni mudat Inshallah zaror pori kry gi.

  2. Athar Shah کہتے ہیں

    Umeed tuuu hy k PTI ki hakoomat me tabdeeli daikhny ko mily hi. Imran Khan agr apna mind use kr k hakoonat karain gy tuuuu achi policy lain gy or Mulk ki sorat e hal sambhal jaye gi.
    Apka tajzeeya krny ka andaz boht khoob hy , tanqeed k sath sath islahi pehlo bhi ujagar krty hy or haqeqat par mabni tabsara hota hy keet it up.

  3. Muhammad Hassan Ali کہتے ہیں

    “Girty han Sheh Sawar hi Medan e Jang me
    Wo tifal kia giry jo ghutno k bal chaly”
    Mashallah ap ny boht khoobsorti sy tajzeeya paish kia hy umeed tuuu hy Imran Khan sahab apny ap ko sambhal lain gy or hakoomat ki girti hoi sakh ko bhi dobara khara kr lain gy…

  4. Shirazi کہتے ہیں

    تمہارا تجزئہ کمزور ہی نہیں قابل مزمت ہے۔

  5. Rahat کہتے ہیں

    Bohat khoob

تبصرے بند ہیں.