وزیر اعظم کو ریڈ کارپٹ اٹھوانا پڑے گا !

5,454

تبدیلی سرکار آئے روز اپنی کسی نہ کسی حرکت کی بدولت تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ بلاشبہ حالیہ اپوزیشن اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ انہیں حکومتی وزیروں، مشیروں اور اراکین اسمبلی پر تنقید کرنے کے لئے موضوعات تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تبدیلی کے دعوے دار خود ہی یہ سارا مواد مہیا کردیتے ہیں۔ مثلاََ حال ہی میں گورنر سندھ عمران اسماعیل تھر کے ریگستان میں بچوں کی حالت زار کا معائنہ کرنے گئے تو جو تصاویر اور وڈیوزسامنے آئیں ان میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ گورنر سندھ کے ہمراہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا جبکہ موصوف تھر کے ریگستان میں ریڈ کارپٹ پر قدم رنجا فرماتے پائے گئے۔

حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اتنی جلدی کیسے بدل جاتے ہیں۔ حکومت میں آنے سے پہلے یہی لوگ بات بات پر تبدیلی کے نعرے لگاتے تھے اور سابقہ حکومت پر تنقید کے نشتر چلاتے تھے کہ فلاں کام غلط کررہے ہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ لوگ حکومت میں آئے انکے طور طریقے ، رہن سہن ہی بدل گیا ہے۔ اگر تبدیلی کے علمبرداروں نے بھی حکومت میں آکر ویسی ہی حرکات کرنی ہیں جو سابقہ حکومتی اراکین کرتے رہے تو پھر ایسی تبدیلی سے سابقہ حکومتیں ہی بہتر تھیں کیونکہ انہوں نے کم از کم عوام کے ذہنوں میں ایک بات تو بٹھا دی تھی کہ اگر کھاتے ہیں تو لگاتے بھی تو ہیں۔ موجودہ حکومت خواہ جھوٹ موٹ کا ہی سہی مگر یہ تاثر قائم کرنے بھی ناکام ہے کہ یہ عوامی حکومت ہے۔ عوامل خواہ کچھ بھی ہوں مگر آتے ہی گیس مہنگی کردی اور اب بجلی کی قیمتیں بڑھانے جا رہے ہیں۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل تھر کے ریگستان میں اس لئے گئے تھے کہ وہاں جا کر بچوں کی حالت زار کو چیک کیا جائے مگر وہاں ریڈ کارپٹ استقبالیہ ملنے سے تمام تر حالات واضح ہوجاتے ہیں۔ جنہوں نے گورنر سندھ کو ریڈ کارپٹ استقبالیہ دیا ہے وہ انہیں تھر کے بچوں کے اصل حالات کیوں دکھائیں گے؟۔ ریڈ کارپٹ کا بندوبست کرنے والوں نے بھوک سے مرتے بچوں کی جگہ خوشحال بچوں سے نہیں بدلا ہوگا؟ پرتکلف کھانے اور پر آسائش رہائش بھی مہیا کی گئی ہوگی۔ عالی مرتبت وی آئی پی پروٹول میں گئے، وی آئی پی بچوں کو چیک کیا ، وی آئی پی رہائش میں ٹھہرے اور واپس آکر سب اچھا ہے کہ رپورٹ پیش کی ہوگی۔ یہ ہے تبدیلی سرکار کی کل کارکردگی۔

بہتر تو یہ ہوتا کہ گورنر سندھ اکیلے ہی اپنی سیکورٹی کے ہمراہ نکلتے اور بغیر بتائے تھر کے ریگستان میں پہنچ جاتے تب انہیں معلوم پڑتا کہ بھوک اور افلاس نے تھر کے بچوں پر کیا کیا ستم ڈھائے ہیں۔ تب انہیں علم ہوتا کہ وہاں معصوم جانیں کیسے سسک سسک کر مرتی ہیں مگر ان نام نہاد تبدیلی کے دعوے داروں کواس سے کوئی سروکار نہیں کہ کوئی جئے یا مرے ۔ اللہ تعالی نے خداخدا کر کے انہیں عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر عیش کرنے کا موقع فراہم کیا ہے تو اسے ہاتھ سے کیوں جانے دیں۔ جتنی مدت اقتدار میں ہیں خوب مزے لیں بعدازاں جو ہو گا دیکھی جائے گی۔

بلاشبہ عمران خان کی نیت پر کسی کو شک نہیں کہ وہ خدمت کے جذبے سے حکومت میں آیا ہے اور حتی الامکان اسکی یہی کوشش ہوگی کہ قوم کو ترقی کے زینے پر چڑھا دے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ خان کی ٹیم کے ممبر اسکی طرح شکوک و شبہات سے بالا نہیں ۔ زیادہ تر لوگ ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر پارٹی میں آئے اور بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہوئے۔ وزیراعظم کیا چاہتا ہے اورکیوں چاہتا ہے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر عمران خان نے انکے اوپر چیک نہ رکھا تو یہ لوگ بھی سابقہ حکومتی اراکین کی طرح عوامی پیسوں پر موج کریں گے کیونکہ ہمارا معاشرتی رویہ ایسا ہے کہ جو جتنا زیادہ پروٹوکول لیتا ہے اور ٹھاٹھ باٹھ سے رہتا ہے اسے اتنا ہی طاقتور سمجھا جاتا ہے اور اسی قدر اسکے در پر ہجوم بھی ہوتا ہے۔

عمران خان اگر واقعی پاکستان میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو انہیں یہ ریڈ کارپٹ اٹھوانا پڑے گا۔ انہیں یہ یا د رکھنا پڑے گا کہ تبدیلی کی سرکار میں کارپٹ کی چنداں ضرورت نہ ہے۔ تبدیلی کے دعوے دار چونکہ عوامی خدمت کے نعرے اور جذبے سے حکومت میں آئے ہیں لہذا انہیں اسٹائل بھی عوامی ہی اپنا نا پڑے گا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ نعرے تبدیلی کے لگائیں اور اسٹائل شاہانہ رکھیں۔ جس طرح وزیراعظم نے تحریک سادگی کا اعلان کرکے سادگی اختیار کی ہے حکومتی وزیروں، مشیروں، گورنروں اور دیگر اراکین کو بھی سادگی تحریک میں حصہ لینا پڑے گا بصورت دیگر سابقہ حکومتوں نے تو کھوکھلے نعروں سے عوام کو رام کیے رکھا لیکن تبدیلی کے دعوے داروں سے یہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ عوام ان سے بہت سی امیدیں وابستہ کرچکی ہے ۔ اگر وہ امیدیں چکنا چور ہوئیں تو بھر تبدیلی کے دعوے دار بھی دوبارہ حکومتی ایوانوں میں نظر نہیں آئیں گے۔

Endeavoring writer, poet, blogger and columnist

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Luqman Hafeez کہتے ہیں

    بھٹی صاحب قصہ کچھ یوں ھے کہ تھر کہ جس دورے کا زکر آپ فرما رھے ہیں یہ دورہ نہ تو وفاقی حکومت نے ترتیب دیا تھا اور نہ ہی سندھ حکومت نے۔ دراصل یہ دورہ ایک نجی فلاحی تنظیم کی جانب سے طے کیا گیا تھا اور مہمانانِ گرامی سے لے کر دورے کے جملہ انتظامات اور اخراجات بھی اِسی تنظیم کی جانب سے مہیا کیے گئے تھے۔ مجھے اِس وقت اُس تنظیم کا نام یاد نہیں آ رہا ھے، لیکن آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاھوں گا کہ اِس دورے پہ کیئے گئے اخراجات حکومتی خزانے سے ادا نہیں کیئے گئے۔ اُمید ھے آپ اپنے اگلے کالم میں اپنی اِس لاعلمی کا زکر کر کے اپنے قارئین سے معذرت کے خواستگار ضرور ھوں گے۔ شکریہ۔

  2. ظفر جرال کہتے ہیں

    mr Bhatti , you are selling your words , and nothing less , how Imran khan pick the carpets from a completely ignorant ppp dominated Sindh , some time use your brain or your children are writing these childish ideas ،بچہ کھوتی کو ہو رہا ہے اور أپ زور کمہار کا لگوا رہے ہو

تبصرے بند ہیں.