فہم کا مصرعہ دانش کی رمز سے کہیں دور ہے!

6,053

شعور کی بنیادی رمز فہم ہے اور فہم بغیر دانش کے ممکن نہیں۔ معاشروں کے وجود اکثریتی و قدیمی آراء پر چلا کرتے ہیں۔ سیاست کی بساط کے معرکے نہایت کٹھن ہوتے ہیں۔ کمزور مزاج لوگوں کے بس کی بات تو ہے ہی نہیں۔ سیاست میں صبر سب سے بڑا فیکٹر ہوا کرتا ہے اور ویسے بھی سیاست بنیادی طور پر نام صحیح وقت پر صحیح فیصلوں کا ہے۔ ہمارے جیسے معاشروں کے ہاں سیاست دو قسم کی ہوا کرتی ہے، ایک ہے اوور آل سیاست جب کہ دوسری ہے انتخابات کی سیاست۔ فرق دونوں میں زمین آسمان کا ہے۔ جنرل پولیٹکس میں وہ بکتا ہے جو سننے میں اچھا لگے جب کہ انتخابی سیاست بنیادی طور پر حلقے کی، ذات برادری کی اور ترقیاتی کاموں وغیرہ کی ہوتی ہے۔ جنرل سیاست میں دو قسم کے سیاسی مزاج ہوا کرتے ہیں۔ ایک اپوزیشن کا اور ایک حکومت کا۔ اپوزیشن کا سیاسی مزاج آئیڈیلسٹک ہوا کرتا ہے یعنی ہر چیز اپنی آئیڈیل کیفیت میں ہی ہونی چاہئے جبکہ حکومت ریئلسٹک سیاست کیا کرتی ہے۔

بنیادی طور پر یہ ہی مشکل ہے جو اس وقت حکومتی جماعت کو درپیش ہے کہ وہ خود کو اپوزیشن کی سیاست سے حکومتی سیاست میں سوئچ نہیں کر پا رہی۔ ضمنی انتخابات ہو چکے ہیں اور نتائج حکومتی جماعت کے لئے خاصے مایوس کُن ہیں۔ ہماری تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ حکومتِ وقت ضمنی انتخاب اس طرح ہار جائے کہ حکومتی سربراہ کی اپنی چھوڑی ہوئی دو سیٹوں پر سخت شکست کا سامنا کرنا پڑے۔ فتح و شکست کی وجوہات جاننے کے لئے ایک بنیادی سوال ہو گا اور وہ یہ کہ آیا کہ اپوزیشن کی مقبولیت بڑھ رہی ہے یا پھر حکومت اپنے پیر پر خود کاری ضربیں لگا رہی ہے۔ جواب نہایت سادہ و آسان ہے کہ دوسروں کی شاطر ذہنیت اتنا نقصان نہیں پہنچاتی جتنی اپنی ایک چھوٹی غلطی پہنچایا کرتی ہے۔ مقابل کے وار کو تو ٹیکل کیا جا سکتا ہے لیکن اپنی ہی غلطی کا مداوا ہو تو کیا ہو؟ حکومتی جماعت یوں تو غلطیوں میں کوئی ثانی نہیں رکھتی لیکن انتخابی سیاست کے حوالے سے خاصی کمزور اور سُست ہے۔

حلقے کی سیاست کے حوالے سے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں خاصا فرق ہے۔ پنجاب تو بذات خود بھی حلقوں کی سیاست کا محور ہے۔ نواز لیگ حلقے کی سیاست کے حوالے سے خاصی منظم ہے، اس کی تنظیم خاصی طاقتور ہے اور یہ بڑے بڑے برج پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب تحریکِ انصاف کی تنظیم خاصی کمزور ہے، یہ حلقوں میں اس قسم کا قد نہیں رکھتی جس قسم کا مسلم لیگ ن رکھتی ہے۔ تحریکِ انصاف کے لوگ انتخاب لڑنے کا میکنیزم نہیں سمجھتے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی ساری سیاست کا آغاز ہی یہاں سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور این۔ اے۔ 131 کی مثال ہی لے لیجئے۔ خواجہ سعد رفیق سے آپ لاکھ اختلاف رکھیں مگر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وہ ایک قدیم لاہوریئے ہیں جو کہ پچھلے پچیس سال سے سیاست کو دیکھ رہے ہیں اور انتخابات لڑتے آ رہے ہیں۔ وسطی پنجاب تو ویسے بھی مسلم لیگ (ن) کا مضبوط قلعہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سعد رفیق سے اسی کے شہر اور اس علاقے میں پنجہ آزما ہونا ناممکن حد تک مشکل کام ہے تب ہی تو جب وزیرِ اعظم صاحب ان کے مقابلے میں انتخاب لڑے تو برتری چند سو ووٹوں کی تھی۔

بالکل اسی طرح ایاز صادق صاحب کا حلقہ بھی خاصا مضبوط ہے کہ جہاں وہ ایک منظم کمپین اور حلقہ ٹوٹنے کے باوجود بھی اپنی سیٹ نکال لے گئے۔ تیسری حمزہ شہباز کی چھوڑی ہوئی وہ سیٹ جس پر شاہد خاقان عباسی نے انتخاب لڑا، وہ تو ایک ایسی سیٹ ہے کہ جس پر شریف خاندان اگر اپنا منشی بھی کھڑا کر دیں تو وہ غریب آدمی بھی جیت جائے گا۔ جبکہ اسی قسم کی مضبوط سیٹ اگر آپ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو نظر نہیں آئے گی۔ کیونکہ تحریکِ انصاف کے پاس ایسے سیاسی لوگ نہیں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ جماعت گراؤنڈ پر کام نہیں کرتی۔

سندھ میں پاکستان تحریکِ انصاف کی کارکردگی اس سے کہیں زیادہ بہتر ہو سکتی تھی اگر وہ اپنی تنظیم سازی پر توجہ دیتی۔ اٹک کا حلقہ این۔ اے۔ 56 جہاں سے عام انتخابات میں حکومتی جماعت کی برتری چونسٹھ ہزار کی تھی وہ اب چونتیس ہزار ووٹوں سے وہی سیٹ ہار گئی ہے۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ ٹکٹ ایک تھی اور امیدوار دو تھے۔ عام انتخابات میں میجر طاہر صادق نے اٹک سے دو سیٹیں جیتی تھیں، اب ان کی خواہش تھی کہ ضمنی انتخاب ان کی پسند کے بندے کو لڑوایا جائے جبکہ میاں اسلم کی خواہش تھی کہ ٹکٹ ان کے پسند کے امیدوار کو دیا جائے۔ اسی کنفیوژن میں ٹکٹ خرم صاحب کی جھولی میں آ گرا۔ جس سے دونوں حضرات خاصے نالاں تھے۔ اس کے بعد عمران خان صاحب نے براہ راست مداخلت کی جس کے بعد میجر صاحب حلقے میں آئے اور انہوں نے ایک ایسی تقریر کی جس کے بعد کنفیوژن ہی رہی کہ حق میں کی ہے یا مخالفت میں۔ اس کے بعد وہ روپوش ہو گئے اور یوں یہ پکی سیٹ بھی حکومتی جماعت کے ہاتھ سے نکل کر اپوزیشن کی جھولی میں گر گئی۔

حکومتی جماعت جہلم سے اپنے وفاقی وزیر کی چھوڑی ہوئی صوبائی اسمبلی کی سیٹ بھی بچانے میں ناکام رہی۔ جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کی صوبائی اسمبلی کی سیٹ نواب اویس لغاری جیت گئے ہیں حالانکہ یہی وہ شہر تھا جہاں وزیرستان کی آبادکار خاتون زرتاج گُل نے سردار اویس لغاری جو کہ سابق صدر فاروق لغاری کے بیٹے ہیں کو چیلنج کیا تھا اور ہرایا تھا۔ مجھ ایسے لوگ اس شکست سے خاصے پُرامید تھے کہ اب وقت بدل رہا ہے، اب معاشرہ بدل رہا ہے۔ وسیب سے اب غلامانہ سوچ اور سرداروں کی اجارہ داری ختم ہو رہی ہے۔ کیوں کہ میں ذاتی طور پر اس حلقے کو فالو کر رہا تھا اور جانتا ہوں کہ جس قسم کی کردار کشی پر مبنی کمپین زرتاج گُل کے خلاف چلائی گئی لیکن پھر بھی انہوں نے نہایت بہادری سے انتخاب لڑا اور جیتا۔

حکومتی جماعت کے لئے یہ ایک خاصا بڑا ڈینٹ ہے کہ حکومتی جماعت اپنا گراؤنڈ لوز کر رہی ہے اور اپوزیشن خاصی کمزور اور زیرِ دباؤ میں ہونے کے باوجود کم بیک کرتی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ تحریکِ انصاف کو اپنا تنظیمی ڈھانچہ ازسرِ نو تشکیل دینا ہے اور گراؤنڈ پر اپنی جماعت کو مضبوط کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ خبروں کے مطابق وزیر اعظم صاحب نتائج سے سخت ناخوش ہیں اور اس پر اپنی جماعت سے جواب چاہتے ہیں۔ ہونا بھی چاہئے لیکن اب کیا پچھتائے ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔ وزیر اعظم کو بھی ضرورت ہے کہ اب اپنے مخصوص سرکل سے باہر نکلیں اور اپنی جماعت کو متحرک کرنے کے لئے اقدامات کریں۔ حکومتی جماعت کے لئے یہ ضمنی انتخاب ایک سبق ہے، وہ اس سبق سے کچھ سیکھتے ہیں یا نہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

ان ضمنی انتخابات کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں سیاسی کارکنوں کو متحرک کرنے میں خاصی ناکام رہی ہیں۔ ایک لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ 100 فیصد میں سے تین چوتھائی اکثریت نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنا ضروری ہی نہیں سمجھا۔ دوسری جانب اوور سیز کے حقِ رائے دہی کے لئے خاصا شور مچا لیکن ان میں سے سے صرف ایک فیصد افراد نے ووٹ کے لئے آن لائن رجسٹریشن کروائی۔

ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ تحریکِ لبیک مذہبی ووٹوں میں آدھے سے زیادہ ووٹ اپنی جیب میں رکھتی ہے۔ آج سب ہی جانتے ہیں کہ یہ جماعت کس کی ڈیزائن کردہ ہے اور کس لئے یہ ڈیزائن کی گئی تھی۔ اربابِ اختیار کو سمجھنا ہو گا کہ جب اس طرح کی متشدد لوگ بغیر کسی پروسیس کے مین اسٹریم میں آئیں گے تو یہ معاشرے کی لئے مہلک ثابت ہوں گے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جس بے۔ جی۔ پی۔ کو آج ہم گالیاں دیتے ہیں اس کی سیاست کا آغاز بھی اسی قسم کے چھوٹے گراؤنڈ سے ہوا تھا اور وہ آج ان کی حکمران جماعت ہے۔

ان انتخابات کے نتیجے میں چند حوصلہ افزا باتیں بھی ضرور ہیں جن کا تذکرہ نہایت ضروری ہے۔ پہلی تو یہ کہ پچھلے ضمنی انتخابات کی طرح اس دفعہ ریاستی مشینری اس طرح حکومت کو جتانے کے لئے استعمال نہیں کی گئی۔ اگر بہت سارے حوالوں سے ایک جیسی فیلڈ میسر نہیں تھی تو اس حوالے سے یہ تبدیلی ضرور تھی کہ ایک جیسی فیلڈ میسر تھی۔ دوسری حوصلہ افزا بات یہ بھی ہے کہ پختونخواہ سے 18 سال بعد کوئی خاتون براہ راست منتخب ہو کر صوبائی اسمبلی پہنچی ہے۔ اے۔ این۔ پی سے گورننس کے موضوع پر طویل اختلاف ضرور ہو سکتا ہے لیکن ثمر بلور صاحبہ جو کہ ہارون بلور کی بیوہ ہیں ان کا انتخاب جیتنا خاصا خوش آئند ہے۔ اور میں پرامید ہوں کہ جب عدت ختم ہونے کے بعد وہ اسمبلی پہنچیں گی تو وہ اپنے شہید بہادر شوہر کی لیگسی کو لے کر آگے بڑھیں گی۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.