زینب کے قاتل کی پھانسی اور بچوں کے تحفظ کے ادارے کا قیام

2,100

چار جنوری 2018 کو 7 سالہ زینب کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی تو پورے ملک میں بچوں سے زیادتی کے خلاف پہلی مرتبہ آواز بلند ہوئی جس کی گونج سے سارا ملک ہل گیا۔ 19 دن بعد عمران نامی شخص قانون کی گرفت میں آگیا۔ جس نے زینب کے قتل کا اعتراف تو کر لیا مگر ڈی این اے ٹیسٹ جو گورے کافروں کی ایجاد ہے اور جسے ہمارا قانون بطور شہادت تسلیم ہی نہ کرتا تھا،اس ڈے این اے ٹیسٹ سے پتا لگا کہ عمران تو 8 بچیوں کا قاتل ہے۔

17 فروری کو لاہور کی انسداد دہشت گری کی خصوصی عدالت نے عمران کو 4 مرتبہ سزائے موت سنائی۔اس کو 6 الزامات پر سزائیں سنائیں گئیں ۔ اغوا، زیادتی اور قتل کے ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت چار4 مرتبہ سزائے موت، عمر قید ،دس لاکھ جرمانہ اورلاش کو گندگی کے ڈھیر پر پھینکے پر سات سال قید بھی سنائی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے معصوم بچیوں کے قتل کے کیس میں عمران کو مجموعی طور پر اکیس مرتبہ سزائے موت سنائی۔

6 سالہ کائنات بتول کو بارہ نومبر 2017 کو قصور گارڈن سے اغوا کر کے لکڑی کے ٹال میں رات میں زیادتی کا نشانہ بنا کر پھینک دیا۔ عدالت نے کائنات بتول کیس میں عمران کو 3 بار عمر قید اور23 سال مزید قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ مجرم کو 25 لاکھ روپے جرمانہ اور 20 لاکھ 55 ہزار روپے دیت ادا کرنے کا بھی حکم دیا ۔7 سالہ نور فاطمہ کوگیارہ اپریل 2017 کو قصور امین ٹاؤن سے اغوا کر کے دو فرلانگ دورزیر تعمیر مکان میں زیادتی کے بعد قتل کردیا، مجرم کیخلاف تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج ہوا۔ نور فاطمہ کیس میں بھی 4 بار سزائے موت 20 لاکھ جرمانہ اور 10 لاکھ روپے دیت کا حکم جاری کیا۔

آٹھ سالہ لائبہ عمر کو بستی خادم آباد سے آٹھ جولائی 2017 کو اغوا کر کے500 میٹردور شاہ عنایت کے قریب زیر تعمیر مکان میں زیادتی کر کے قتل کیا۔ لائبہ کیس میں 4 بار سزائے موت 20 لاکھ جرمانہ اور 10 لاکھ روپے دیت کا حکم جاری کیا گیا۔کمسن عائشہ آصف کو سات جنوری 2017 قصور بی ڈویژن سے اغوا کر کےسیٹھی کالونی کے قریب زیر تعمیر مکان میں زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔اس کیس میں چارمرتبہ سزائے موت، 20 لاکھ جرمانہ اور 10 لاکھ روپے دیت کا حکم جاری کیا۔آٹھ سالہ نورین کو حیات آباد سے نو جولائی 2017 کو اغوا کیا گیا اور اندرون موری گیٹ قصور کے قریب زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ چارسالہ ایمان فاطمہ کو 24 فروری 2017 کوقصور علی پارک سے اغوا کیا اور آدھے کلو میٹر کے فاصلے پر زیر تعمیر مکان میں زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کرڈالا۔ ان میں سے ہر کیس دل دہلا دینے والا ہے اور اس کی اسے سزا بھی ملی تو جدید ٹیکنالوجی کو عدالت میں شہادت کے طور پر تسلیم کئے جانے کی وجہ سے ورنہ ابھی اور بھی کافی کچھ ہونا باقی تھا۔

مجسٹریٹ کی موجودگی میں سترہ اکتوبر بروز بدھ صبح ساڑھے پانچ بجے معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مجرم عمران کو آخر پھانسی دے ہی دی گئی۔ سترہ اکتوبر عالمی سطح پر غربت کے خاتمے کا دن بھی ہے مگر پاکستان میں اسے بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے خاتمے کے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور حکومت پاکستان کو اس کا ہر سال اہتمام کرنا ضروری چاہیے۔

یہاں ہم پنجاب حکومت کی کارکردگی کا اعتراف نہ کریں تو بھی زیادتی ہوگی۔ پنجاب ہی واحد صوبہ ہے جہاں پاکستان کی پہلی جدید ترین لیب موجود ہے۔ جس کی بدولت 1187 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ سے قاتل کا پتا لگ سکا۔ اس کے علاوہ پولی گرافک ٹیسٹ کا نتیجہ بھی سامنے آیا۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف کی ہدایات پرسابق وزیر اعلی شہباز شریف نے دن رات ایک کئےاور پنجاب حکومت نے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے درندے کو عدالت سے سزا دلوانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

پی ٹی آئی کی نئی حکومت کے کریڈٹ پر پہلا عوامی پذایرائی حاصل کرنے والا کام زینب کے قاتل کو تختہ دار پر لٹکانا ہے۔ نئے صدر عارف علوی کی جانب سے بھی مجرم کی اپیل مسترد ہونا ان کا پہلا اچھا کام سمجھا جا سکتا ہے اور ان سے مزید بہتر اقدامات کی بھی ہم امید کر سکتے ہیں۔

زینب کے قاتل کو پھانسی دینے کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کی مقبولت کا گراف 100فیصد بڑھ گیا ہے۔ جو غیر مقبول اقدامات کی وجہ سے بالکل صفر پر جا پہنچا تھا۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا عمران خان بطور وزیر اعظم اپنی یکدم بڑھ جانے والی مقبولیت کو برقرار رکھنا چاہیں گے ؟ اگرجواب ہاں میں ہے تو عمران خان کو فوری طور پر ایک ایسا ادارہ بنانا ہوگا جس میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ریکارڈ رکھا جائے اورفوری طور پر ایسے والدین کی مددکرتے ہوئے مجرموں کا فوری ٹرائل کیا جا سکے۔ پھر دیکھیں آپ کتنی دعائیں لیں گے کیونکہ معاشرے میں بچے جتنے محفوظ ہوں گے ان کے والدین اتنے ہی پرسکون ہوں گے۔ عمران خان صاحب!… آخر آپ بھی تو ایک والد ہیں تو پھرباپ بن کر سوچئے گا ضرور!

ڈاکٹر راجہ کاشف جنجوعہ نے ماس کمیونی کیشن میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ یہ ایک ریسرچر، قلم کار، شاعر، کالم نگار، بلاگر، تجزیہ کار، میڈیا ایڈوائزر، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور گوگل لوکل گائیڈ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.