خدارا پانی بچائیں

935

پاکستان دنیا کا تیسرا ایسا ملک ہے جو پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ صد افسوس کہ صاف پانی کے بے دریخ استعمال میں بھی پاکستانی سر فہرست ہیں۔ کہا جاتا ہے ‘مال مفت دل بے رحم’ کچھ ایسا ہی رویہ ہم نے زمانوں سے پانی جیسی بیش قیمتی نعمت کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے ماسوائے چند بڑے شہروں کے جہاں قیمت چکا کے پانی کے ٹینکر ڈلوائے جاتے ہیں اور پھر سوچ سمجھ کر پانی کی ہر بوند کو مصرف میں لایا جاتا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے ڈیم فنڈ کا انیشی ایٹو خوش آئند قدم ہے اور حکومت وقت ہر طرح سے اسے سپورٹ کر رہی ہے چاہے وہ فنڈ ریزنگ ہو یا مورل سپورٹ۔ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے عوام کھلے دل سے اس کار خیر میں اپنا پیسہ انویسٹ کر رہے ہیں اس لیے انشااللہ پاکستان میں ڈیم ضرور بنیں گے۔

یہ سب اقدام اپنی جگہ مگر اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے پانی کی بچت بھی کریں۔ پانی جیسی نایاب پڑتی نعمت کو مال مفت کی طرح ضائع ہوتا دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ جاتی ہیں۔ گھنٹہ گھنٹہ پائپ پکڑ کے گارڈن اور گاڑیوں کو نہلایا دھلایا جاتا ہے، گھر کو جب تک کھلے پانی سے نا دھوئیں سکون نہیں ملتا اور وہ پانی اتنا کھلا ہوتا ہے کہ گھر کے سامنے والی گلی اور سڑک بھی دھل جاتی ہے اور تو اور نشیبی جگہ پہ چھپڑ بھی لگ جاتا ہے۔ بیشتر مرد حضرات کو عادت ہوتی ہے شیو بناتے ہوئے ٹیپ کھلی رکھنے کی اور خاتون خانہ بھی اس معاملے میں کم نہیں۔ برتن اور کپڑے دھوتے ہوئے عام طور پہ ٹیپ سے پانی مستقل بہتا ہی پایا جاتا ہے۔ منہ دھوتے اور دانت برش کرتے ہوئے بھی پانی ضائع ہوتا رہتا ہے۔ نہانے گھسیں تو شاور بند کرنے کا نام نہیں لیتے۔ پانی کے ضیاع کی کئی اور مثالیں باآسانی ہمیں اپنے آس پاس مل جائیں گی۔

ہماری ایک جاننے والی فیملی پنڈی شفٹ ہوئی مگر چھ آٹھ مہینوں میں ہی واپس لوٹ آئی۔ ان کے مطابق واپسی کی کئی وجوہات تھیں جیسا کہ دل نہیں لگا، سوئی گیس نہیں تھی اور خاص طور پر یہ کہ پانی کے ٹینکر ڈلوانے پڑتے تھے اور چونکہ ہمیں کھلے پانی کی عادت پڑی ہوئی ہے اس لیے وہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکے۔

پانی کی صحیح قدر ان سے پوچھیں جو پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں، جو منہ اندھیرے پانی کی کپیاں اور ڈول اٹھا کر لائن میں جا لگتے ہیں تا کہ سرکاری پانی آنے پر گھر والوں کے لیے استعمال کا پانی بھر سکیں۔ قابل استعمال پانی کی قدر جاننی ہے تو تھر میں پلنے والے ان سوکھے سڑے بچوں کے پیاسے چہرے دیکھیں اور ان دیہاتی عورتوں کو جو دو تین مٹکے مہارت سے سر پہ جمائے منہ اندھیرے چہرے پہ گھونگھٹ ڈالے کئی میل پیدل چلتی ہیں۔۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جب تک ہم پانی بچانا اور اسکی قدر کرنا نہیں سیکھیں گے تب تک ڈیم بھی ہماری خاطر خواہ مدد نہیں کر سکتے۔ چاہے زراعت ہو، انڈسٹری یا پھر گھریلو معاملات، ہر طرف سے ‘پانی بچاؤ’ مہم چلانا وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ ہمیں خود اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی، اپنا احتساب کرنا ہو گا تو ہی یہ ملک بہتری کی طرف جائے گا۔ بات صرف ہماری نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں اور پاکستان کی زرخیز دھرتی کی ہے۔ جب اس بات سے انکار نہیں کہ پانی لائف لائن ہے تو پھر پانی بچانے سے گریز کیوں کر۔؟

تنزیلہ احمد نے مارکیٹنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے لکھتی ہیں اور سماجی و سیاسی معاملات انکے پسندیدہ موضوعات ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Kiran Ayesha کہتے ہیں

    To the point message. Agree We do waste so much water and it’s not too late to mend ourself.

تبصرے بند ہیں.