عمران خان صاحب!۔۔۔ زبان کا کہا مارتا ہے !

4,145

ایک عرصہ لگتا ہے سمجھنے میں کہ مشکل سوالات سے ہی حل جنم لیتا ہے۔ سوال کے بغیر علم کا کوئی وجود ممکن نہیں اور علم کے بغیر معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ قوموں پر مشکل حالات آیا کرتے ہیں، سونا چوٹ کے بعد ہی کندن بنتا ہے۔ لیکن ان اقوام میں عظیم وہی ہوتی ہیں جن میں فیصلہ کرنے کی استطاعت ہوتی ہے، جو مشکل و سخت فیصلے سے گھبرایا نہیں کرتیں۔ مشکل کا سامنا کئے بغیر اس کا حل ممکن نہیں ہے۔

ایسے ہی کچھ حالات مملکتِ خداد کو آج درپیش ہیں۔ جنونیت دراصل عقل کی موت ہے، جنون ایک حد میں ہو تو اچھا ہے لیکن اگر ضرورت سے زیادہ ہو تو محض تباہی ہے۔ ادراک ہی دراصل کل متاع ہے۔ معاملہ فہمی بڑی نعمت ہے۔ رہنما وہی ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کو ان کے حقوق سے پہلے انہیں ان کے فرائض بتاتا ہے۔ بھٹو کے کردار پر لاکھ بحث سہی لیکن اس حقیقت میں شک نہیں کہ وہ ایک لیڈر تھا۔ معاملہ فہم خاصا تھا لیکن اسے اس کے چند مشیر ہی اسے لے ڈوبے۔

حکمرانوں کے زوال کی بہت سی وجوہات تاریخ میں ملتی ہیں۔ اس حکومت کے زوال کی وجہ شاید اس کی جنونیت ہو اور اس کے سربراہ کے جنون میں کہے ہوئے جملے۔ استادوں نے ہمیشہ سکھایا کہ اکسٹریم پوزیشنز لینے سے گریز کرو، دنیا مسلسل ارتقاء کی کیفیت میں ہے، حالات و ارادے بدلنے میں وقت نہیں لگا کرتا۔ لیکن ہمارے سربراہ کو کون سمجھائے جو آئی۔ ایم۔ ایف۔ کے پاس جانے کی صورت میں خودکشی کا دعویٰ بھی کر چکے تھے۔ نگران حکومت جاتے جاتے آنے والی حکومت کو بریف کر گئی تھی کہ آئی۔ ایم۔ ایف۔ کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ موجود نہیں ہے۔

بلاشبہ آج کی اس تباہ حال معیشیت میں اس حکومت کا کوئی قصور سِرے سے نہیں مگراسکی کوتاہی اس کی کم فہمی ہے۔ لیکن آنے والی حکومت کو اپنے سربراہ کے جنون میں کہے ہوئے وعدوں کا پاس بھی تو رکھنا تھا۔ اسی لئے حکومت نے آخری لمحے تک شش و پنج تک مظاہرہ کیا اور چین اور سعودی عرب کی طرف سے خیالی امداد کا خوب چرچہ کیا اور کروایا یہ جانتے ہوئے بھی کہ سعودی ولی عہد خود اپنی روشن خیال ڈرائیو کے لئے چندہ اکٹھا کرنے دنیا کے دورے پر ہیں۔ غیرعلمی تو نعمت ہے مگر غلط علم تو دراصل تباہی ہے۔ ہفتے کی روز وزیر اعظم نےملک کے سربراہ کم حزبِ اختلاف زیادہ والی پریس کانفرنس میں واضح طور پر آئی۔ ایم۔ ایف۔ کے پاس جانے کا عندیہ دیا۔ ان کے اس عندیے کو سوموار کے دن اسٹاک مارکیٹ نے دو سال کی ریکارڈ تنزلی کی صورت میں سیلیبریٹ کیا اور ساتھ ہی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ دس روپے اور بڑھ گیا۔

اس اعتراف میں کوئی جھجھک نہیں کہ مجھے معیشیت کی کوئی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں ہے کیوں کہ میرا مضمون سیاست اور معاشرت ہے۔ لیکن اس کے باوجود چند ایک ایسی چیزیں جو شاید ہر اخبار پڑھنے والے کے علم میں ہونگی کہ آنے والے وقت میں مہنگائی کا ایک بہت بڑا طوفان آنے جا رہا ہے، گیس، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، محصولات میں اضافہ اور روپے کی تنزلی تو سامنے کی چیزیں ہیں، بجلی کی قیمتیں وقتی طور پر تو روک لی گئی ہیں لیکن ان کو مستقبل میں روکنا قریباََ ناممکن ہو گا۔ یہ حالت اس نئی حکومت کے لئے ایک کٹھن امتحان ہو گا اور اگر اس امتحان میں یہ حکومت سرخرو رہی تب ہی تبدیلی کی بنیاد ڈل سکے گی ورنہ سب باتیں ہی رہ جائیں گی اور کچھ نہیں۔

اسی پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم صاحب نے چند ایسے بلنڈرز بھی کئے جو کہ شاید انہیں نہیں کرنے چاہئے تھے. لگتا یوں ہے کہ وہ اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اتحاد، اتحاد ہوتا ہے خواہ کسی اچھے مقصد کے لیے ہو یا برے۔ وزیرِ اعظم کی چند صفات میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ جملوں کا درست استعمال آج تک سیکھ نہیں سکے ہیں۔ ان کے جملے محض اپنے مداحوں کے لئے ہوا کرتے ہیں۔ انہیں شدت سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اب ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں بلکہ ایک ریاست کے سربراہ ہیں۔ انہیں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دھرنے کے بعد سے عمران خان سے کسی اچھی اور مصلحت والی تقریر کی توقع رکھنا میں عبث سمجھ بیٹھا تھا۔ مگر کیا کیجئے؟ یہ سیاستدان ہوتے ہی ایسے ہیں، امید دِلاتے ہیں اور پھر اس پر بالٹیاں بھر بھر کے پانی بھی انڈیل دیتے ہیں۔ عام انتخابات کے بعد کی وِکٹری اسپیچ سُن کر تو حقیقتاََ محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ وہی عمران خان ہیں۔ لیکن عمران خان نے پھر یاد دِلایا زیادہ خوش نہیں ہونا اور پارلیمان میں پھر وہی چور ڈاکوؤں والی تقریر جھاڑ دی۔ تنقید کے زیرِ اثر عوام سے خطاب میں ایک مناسب تقریر کی گئی۔ جس کے بعد سے میں مسلسل کنفیوژن میں ہوں آیا کہ خان صاحب گفتگو کا ہنر سیکھ رہے ہیں یا بات کچھ اور ہے؟ خان صاحب کا یہ ہی مزاج خارجہ پالیسی پر بھی حاوی رہا ہے، ان کو چھیڑا جائے تو یہ چھڑ جاتے ہیں۔ بھارت کے دفترِ خارجہ کی طرف سے ایک انتہائی غیر سفارتی بیان کو سربراہ ریاست نے بالکل اسی طرح ٹریٹ کیا جس طرح وہ چاہ رہے تھے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی، خیر قصہ تھا پریس کانفرنس کا۔ آئین کے مطابق نیب ایک آزاد ادارہ ہے لیکن وزیرِ اعظم صاحب اس نیب کو اپنے ماتحت ادارے کے طور پر ٹریٹ کرتے نظر آئے۔ انہوں نے پچاس آدمیوں کو جیل میں بھیجنے کا نعرہ لگایا۔ عمران خان کو سمجھنا ہو گا کہ وہ اب سربراہِ مملکت ہیں۔ یہ معاملات ان کے ہینڈل کرنے کے ہرگز نہیں ہیں۔ ان معاملات کے لئے ان کے فُل چارجڈ وزیرِ اطلاعات کافی ہیں۔ اب خان صاحب بڑی گیم کے کھلاڑی ہیں۔ ہم مقررین کے ہاں ایک تھیوری ہے وہ یہ کہ جب ایک مقرر چھوٹے مقابلوں تک خود کو محدود رکھتا ہے تو وہ بڑے مقابلے کا کھلاڑی نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ اس کی سوچ اس کے مطابق ہی ایڈجسٹ ہو چکی ہوتی ہے۔ بالکل یہ ہی تھیوری یہاں واجب ہے کہ جتنی جلدی وزیرِ اعظم اپنے منصب کا پروٹوکول سمجھ جائیں اتنا ہی ان کی حکومت کے لئے فائدہ مند ہو گا۔

اس حکومت کے چند منفی پہلوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ اپنے فیصلہ پر کھڑی نہیں ہو پاتی اور زوال کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔ عاطف میاں کو ای۔ اے۔ سی۔ میں شامل کرنے کا فیصلہ نہایت ہی خوش آئند تھا۔ اس کے دفاع میں وزیرِ اطلاعات کا جملہ بھی خوب تھا مگر درحقیقت ہوا کیا؟. غلط فیصلے سب ہی کرتے ہیں مگر عقل مند وہی ہوتا ہے جو اس کو ٹھیک کرے۔ سب سے بڑے صوبے کی کمان ایک اب تک کمزور نظر آنے والے شخص کو سونپنا کوئی فخر کی بات نہیں تھی مگر اس فیصلے پر مسلسل ڈٹے رہنا دراصل ڈھٹائی ہے۔ عمران خان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا ووٹر بہت جلدی پینیٹریٹ کر جاتا ہے۔ یہ بہت جلدی مایوس بھی ہوتا ہے اور بہت جلدی امید بھی لگا لیتا ہے۔ صبر اس کنبے کی رگ میں سِرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ڈی۔ پی۔ او۔ کے تبادلے پر اعلیٰ عدلیہ میں سبکی کے بعد پنجاب حکومت معافی مانگ چکی ہے۔ یہ پنجاب حکومت کے لئے ایک بہت بڑا سیٹ بیک ہے۔ پچاس پچپن روز کے اندر اب تک دو آئی۔ جی۔ بدلنے کی حرکت ہوچکی ہے۔ یہ کسی بھی حکومت کے لئے ایک اچھا تاثر نہیں ہے۔

بات یہ بھی نہیں کہ سب کچھ ہی برا ہو رہا ہے چند ایک اچھی چیزیں بھی ضرور ہیں۔ موجودہ حکومت کی سب سے اچھی کاروائی اب تک وزیرِ اعظم کا دورہِ بلوچستان ہے اور وہاں وزیرِ اعظم کا خطاب بلاشبہ نہایت خوش آئند ہے۔ لیکن اصل چیلنج یہ درپیش ہے کہ ماضی کی حکومتیں بھی بلوچستان کے لئے کچھ خاص کر نہیں سکیں۔ جو تھوڑا بہت کر سکیں وہ صحیح طریقے سے امپلیمینٹ نہ کروا سکیں۔ بلوچستان کے حوالے سے حکومت کو ایک جامع منصوبہ اور اس منصوبے کو ایگزیکیوٹ کرنے کے لئے ایک ٹیم درکار ہو گی۔ اسکے علاوہ وفاقی حکومت کی گرین پاکستان مہم بھی تعریف کے قابل ہے کیوں کہ دنیا کو درپیش خطرات میں سے ایک بڑا خطرہ موسمیاتی تبدیلوں کابھی ہے۔ اس حوالے سے آئی۔ پی۔ سی۔ سی کی رپورٹ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے مطابق دنیا کو اب گلوبل وارمنگ کو اس کی موجود ہ صورت 1.5 سیلیسئیس پر اسٹیبل رکھنا ہو گا، ورنہ آنے والے چند سالوں میں اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. PML-N کہتے ہیں

    Idiot

  2. نضیرا اعظم واشنگٹن ڈی سی کہتے ہیں

    محمد طلال خالد کا مضمون جاندار ہے مگر اس میں انگریزی الفاظ کے بے جا استعمال نے اس میں جگہ جگہ کمزوری پیدا کردی ہے۔ مجھے زبان کی اس بے حرمتی پر بہت افسوس ہوتا ہے۔ میں اکثر یہ بھی سوچتی ہوں کہ جب ہم انگریزی لکھتے ہیں تو اس میں جا بجا اردو الفاظ کے استعمال کا کبھی کیوں نہیں سوچا. اور پھر یہ مدیر کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ ایسے انگریزی الفاظ کی ادارت کردیا کریں۔ میرا ایک چھوٹا سا مشورہ بھی ہے خالد صاحب کو، کہ اگر وہ صحافت کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے صحافت کی مروجہ تعلیم ضرور حاصل کریں، کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ جس شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں اس شعبے کی باریکیاں ، معاملات، مسائل ، طریقےاور اخلاقیات سے ضرور آگاہ ہوں تاکہ کوئ آپ پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ صرف اخبار میں کسی تحریر کا شائع ہونا اس بات کی دلالت نہیں کہ وہ صحافی بن گیا/گئ

تبصرے بند ہیں.