اسٹیل ملز کی بحالی حکومت کیلئے بڑا چیلنج

2,007

گزشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور کرپشن کے بے قابو ہونے سے گزشتہ ادوار میں پاکستان کے کئی منافع بخش ادارے تباہ ہوکر رہ گئے ۔ ان اداروں میں سر فہرست پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز ہیں ۔پاکستان اسٹیل ملز ملک میں اسٹیل کی مصنوعات اور خام لوہے سے خالص لوہا نکالنے کی صلاحیت رکھنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔اس ادارے کا زوال تو زرداری حکومت میں ہی شروع ہوگیا تھا لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت آنے کے بعد بھی ادارے کےحالات میں کسی قسم کی بہتری نہ آئی بلکہ ادارے کے حالات پہلےسے بھی بدتر ہوگئے ۔مسلم لیگ ن کی حکومت پر مخالفین کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا تھا کہ شریف خاندان اپنے اسٹیل کےکاروبار کو پروان چڑھانا چاہتا ہے ۔اس لئے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی اسٹیل ملز کی بحالی کی جانب توجہ ہی نہیں ۔

تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی ملازمین نے اسٹیل ملز کی بحالی اورتنخواہوں کی ادائیگی کے مطالبات کر ڈالے ۔اس ضمن میں ملازمین کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ۔واضح رہے کہ اسٹیل ملز میں ٹریڈ یونین کے ریفرنڈم کی انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف کے رہنما اور موجودہ وزیر خزانہ اسد عمر اسٹیل ملز آیاکیا کرتے تھے اور یہ دعویٰ بھی کیا کرتے تھے کہ حکومت آتے ہی اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے کام کیا جائے گا ۔انہیں دعوؤں کے نتیجے میں اسٹیل ملز سے ملحقہ آبادیوں کے عوام نے انتخابات 2018 میں تحریک انصاف کے نمائندوں کو بڑی تعداد میں ووٹ دیا ۔

تحریک انصاف کی حکومت کے آتے اسٹیل ملز کے ملازمین کو ایک ریلیف یہ ملا کہ انکی تنخواہیں ادا کردی گئیں ۔اسٹیل ملز ملازمین کو اگست کی تنخواہیں ادا کرد ی گئی ہیں جبکہ تاحال ستمبر کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی ۔ساتھ ہی یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے تاحال کوئی اقدامات نظر نہیں آئے ۔کیا حکومت ملازمین کو اپنے خزانے سے ہی تنخواہیں ادا کرتی رہے گی؟ کیااسٹیل ملز کی بحالی کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے ؟اسٹیل ملز کے ملازمین کی رہائشی آبادی پاکستان اسٹیل ٹاؤن کا بھی وہی حال ہوگیا تھا جو اسٹیل ملز کا ہے ۔پاکستان اسٹیل ٹاؤن میں صفائی کے ناقص انتظامات دیکھنے میں آتے تھے ۔ساتھ ہی گھروں میں مرمت کا کام نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت بھی خراب ہوتی جارہی ہے۔حال ہی میں اسٹیل ٹاؤن ڈیپارٹمنٹ کے منتخب ہونے والے انچارج شوکت خان مشوانی اور ان کے ماتحت افسر ارشد خان نے اپنی ذاتی کوششوں سے اسٹیل ٹاؤن میں صفائی کا نظام بہتر کیا ۔اسٹیل ٹاؤن میں جو پارک تباہ برباد ہوچکے تھے انہیں دوبارہ آباد کیا ۔آبادی کے گھروں میں مرمت کا کام بھی کیا جارہا ہے ۔لیکن تاحال اسٹیل ٹاؤن میں ترقی یاتی کاموں کی ضرورت ہے ۔اس حوالے سے اسٹیل ٹاؤن ڈپارٹمنٹ کے افسران کا کہنا ہے کہ ادارے کے حالات کی وجہ سے فنڈز کی کمی ہے ۔محدود وسائل میں پورے علاقے کو پہلے جیسا بنا دینا آسان نہیں لیکن بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ مل کر اور دستیاب وسائل کے استعمال سے جلد علاقے کو رہائش کے لئے بہتر سے بہترین بنا دیں گے ۔

اسٹیل ملز کے موجودہ ملازمین اور رہائشی آبادی کے مسائل تو اپنی جگہ اس وقت اسٹیل ملز سے کئی سال قبل ریٹائر ہوجانے والے بزرگ ملازمین بھی اپنے واجبات کی ادائیگی کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔یکم مئی 2013 سے لیکر اب تک ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ان کے واجبات انتظامیہ کی جانب سے ادا نہیں کئے گئے ۔کچھ ملازمین نے اس ضمن میں عدالت کا سہارا لیا جس کے بعد انہیں عدالتی حکم کے بعد واجبات کی ادائیگی کردی گئی لیکن ملازمین کی اکثریت تاحال اپنے جائز حق سے محروم ہے ۔واجبات سے محروم یہ افراد اس وقت اپنے واجبات کی ادائیگی کیلئے موجودہ حکومت اور معزز عدلیہ سے امید لگائے ہوئے ہیں ۔اسٹیل ملز کے حالات کے باعث ملازمین کی جانب سے ماضی میں خود کشی جیسا انتہائی قدم بھی اٹھایا گیا ہے جبکہ کئی ریٹائرڈ ملازمین اب بھی ایسے ہیں جو واجبات نہ ملنے کی وجہ سے فاقوں پر مجبور ہیں ۔

ان تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اسٹیل ملز کی بحالی میں ہے ۔اسٹیل ملز کی بحالی حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے ۔بحالی کی صورت میں ادارے کو باصلاحیت ملازمین کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا ،تجربہ کار ملازمین کی اکثریت یا تو ریٹائر ہوچکی ہے یا ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکی ہے ۔اسٹیل ملز کے شعبہ میٹرولوجیکل ٹریننگ سینٹر کےذریعے نئے بھرتی ہونے والوں کوتربیت دی جاتی تھی۔ ایم ٹی سی سے4500 نئےبھرتی ہونے والوں کوتربیت دینےکا انتظام ہوتا تھا لیکن 2014 سےتربیتی مرکزغیرفعال اوربند ہے۔ اب ممکنہ نئے بھرتی ہونے والوں میں پلانٹ پرکام کرنےکی صلاحیت نہیں ہوگی جب کہ 2020 تک تیزی سےریٹائرمنٹ کا سلسلہ جاری رہے گا۔اسٹیل ملز کی بحالی ہونے پر مختلف پلانٹس پرکام کرنے کے لیے نئےاور ماہر ملازمین موجود نہیں ہوں گے جس سے ایک بار پھر اسٹیل ملز کا ادارہ بحرانی کیفیت سے دوچار ہو سکتا ہے۔

موجودہ حکومت کو اپنے وعدوں کے مطابق اسٹیل ملز کی جانب توجہ دینی ہوگی ۔سب سے پہلے حکومت کو ریٹائرڈ ملازمین کو ان کے واجبات ادا کرنا ہوں گے ۔ادارے سے ریٹائرڈ ہونے والے ماہر افراد میں سے بہترین کا انتخاب کر کے ان افراد کو ادارے کی بحالی کا ٹاسک دینا ہوگا ۔حکومت کو پہلے مرحلے میں اسٹیل ملز کے ان ڈپارٹمنٹ کو بحال کرناہوگا جو اس وقت مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ۔حکومت کی جانب سے اسٹیل ملز میں نئے اور ماہر افراد کو بھی ہائر کرنا ہوگا تاکہ ادارے کو افرادی قوت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔آمدنی کے حصول کیلئے انتظامیہ کے پاس ایک راستہ یہ بھی ہے اسٹیل ملز کی ملکیت زمین کو رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی صورت میں فروخت کرسکتی ہے ۔اسٹیل ملز ملازمین پر امید ہیں کہ حکومتی دعوؤں کے عین مطابق 100 دن بعد ان کی زندگیوں میں تبدیلی کی نوید آئے گی ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.